logo logo
AI Search

نفاس والی عورت کا جوٹھا کھا پی سکتے ہیں ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نفاس والی عورت کا جوٹھا کھانا پینا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیوی اگر نفاس کی حالت میں ہو تو اس کا جوٹھا کھانا پینا کیسا ہے؟

جواب

جس عورت کے یہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہو اور وہ ناپاکی کے دنوں میں ہو، تو ایسی عورت کا جوٹھا کھانا پینا شرعاً جائز ہے۔ محض نفاس کی وجہ سے عورت کا جھوٹا یا اس کے استعمال کیے ہوئے برتن ناپاک نہیں ہوتے، عورت کے ماہواری کے ایام ہوں یا بچہ کی پیدائش کے بعد ناپاکی والے دن ہوں، کسی بھی صورت میں اس کا جوٹھا نہ ناپاک ہوتا ہے، نہ منحوس، نہ اس کے ساتھ کھانے پینے میں کوئی مضائقہ ہے، بلکہ ایسی عورت کے ساتھ کھانے پینے یا اس کے جوٹھے کوناپاک یا منحوس سمجھنا، بدشگونی لینا، یہ سب کچھ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”چُوڑ یاں، چارپائی، مکان سب پاک ہیں فقط وہی چیز ناپاک ہوگی جسے خون لگ جائے گا بغیر اس کے ان چیزوں کو ناپاک سمجھ لینا ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 356، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”نِفاس میں عورت کو زچہ خانے سے نکلنا جائز ہے، اس کو ساتھ کھلانے یا اس کا جھوٹا کھانے میں حَرَج نہیں ۔ ہندوستان میں جو بعض جگہ ان کے برتن تک الگ کر دیتی ہیں، بلکہ ان برتنوں کو مثل نجس کے جانتی ہیں، یہ ہندؤوں کی رسمیں ہیں، ایسی بے ہُودہ رسموں سے اِحْتِیاط لازم۔ (بہارِ شریعت، جلد 01، حصہ 02، صفحہ 383، 384، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-019

تاریخ اجراء: 21 ربیع الاول 1448ھ/04 ستمبر 2026ء