logo logo
AI Search

حیض کی حالت میں عورت کا قبرستان جانا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ماہواری کی حالت میں عورت کا قبرستان جانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ماہواری والی عورت قبرستان جا سکتی ہے ؟

جواب

حضورِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے روضۂ اقدس کے علاوہ دیگر قبور کی زیارت کے لیے جانا عورتوں کے لیے مطلقاً منع ہے۔ لہٰذا عورت چاہے مخصوص ایام (ماہواری) میں ہو یا پاکی کی حالت میں، بہرحال دیگر قبور کی زیارت کے لیے قبرستان نہیں جاسکتی۔

البتہ روضۂ رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم پر حاضری کے متعلق یہ تفصیل ہے کہ حیض یا نفاس وغیرہ کی حالت میں عورت مسجدِ نبوی شریف میں داخل نہیں ہوسکتی، بلکہ مسجد شریف سے باہر رہ کر حاضری دے اور صلاۃ و سلام عرض کرے۔ مثلاً بیرونی صحن میں گنبدِ خضریٰ کی جانب سے حاضری دے کر صلاۃ و سلام پیش کرے۔

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں عورتوں کے قبرستان جانے کے متعلق فرماتے ہیں: ”اصح یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 537، رضا فاؤنڈیشن، لاہور )

مزید فرماتے ہیں: ”اقول: (میں کہتا ہوں) قبورِ اقرباء پر خصوصاً بحال قرب عہد ممات تجدید حزن لازم نساء ہے اور مزاراتِ اولیاء پر حاضری میں احد الشناعتین (یعنی دو خرابیوں میں سے ایک) کا اندیشہ یا ترکِ ادب یا ادب میں افراط ناجائز، تو سبیل اطلاق منع ہے و لہٰذا غنیہ میں کراہت پر جزم فرمایا، البتہ حاضری و خاکبوسی آستان عرش نشان سرکارِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اعظم المندوبات، بلکہ قریبِ واجبات ہے، اس سے نہ روکیں گے اور تعدیلِ ادب سکھائیں گے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 538، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”عورتوں کے لیے بعض علماء نے زیارتِ قبور کو جائز بتایا، در مختار میں یہی قول اختیار کیا، مگر عزیزوں کی قبور پر جائیں گی، تو جزع و فزع کریں گی، لہٰذا ممنوع ہے اور صالحین کی قبور پر برکت کے لیے جائیں، تو بوڑھیوں کے لیے حرج نہیں اور جوانوں کے لیے ممنوع اور اسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقاً منع کی جائیں کہ اپنوں کی قبور کی زیارت میں تو وہی جزع و فزع ہے اور صالحین کی قبور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔‘‘ (بہارِ شریعت، حصہ 4، جلد 1، صفحہ 849، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-021

تاریخ اجراء: 22 ربیع الاول 1448ھ/05 ستمبر 2026ء