logo logo
AI Search

نفاس والی عورت کے سونے سے چارپائی ناپاک ہو جائے گی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نفاس والی عورت کے سونے سے چارپائی کے ناپاک ہونے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نفاس والی عورت (یعنی ایسی عورت جسے بچے کی پیدائش کے بعد خون آئے) جس چارپائی پر سوئے، وہ چارپائی ناپاک ہوجاتی ہے؟

جواب

جی نہیں! نفاس والی عورت (یعنی ایسی عورت جسے بچے کی پیدائش کے بعد خون آئے) اگر چارپائی، بستر، چادر، گدا یا کسی دوسری پاک چیز پر بیٹھے یا سوئے تو محض اس کے نفاس کی حالت میں ہونے کی وجہ سے وہ چیز ناپاک نہیں ہوگی۔ البتہ اگر نفاس کا خون کسی پاک چیز پر لگ جائے تو صرف وہی جگہ ناپاک ہوگی جہاں خون لگا ہے، اور اسے پاک کرنا ضروری ہوگا۔اس کے علاوہ نفاس والی عورت کے استعمال کرنے، چھونے یا بیٹھنے سے کوئی پاک چیز ناپاک نہیں ہوتی، لہٰذا محض نفاس کی وجہ سے بستر، کپڑے، برتن یا گھر کی دوسری پاک اشیاء کو ناپاک سمجھنا درست نہیں۔

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”چُوڑ یاں، چارپائی، مکان سب پاک ہیں فقط وہی چیز ناپاک ہوگی جسے خون لگ جائے گا بغیر اس کے ان چیزوں کو ناپاک سمجھ لینا ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 356، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-022

تاریخ اجراء: 22 ربیع الاول 1448ھ/05 ستمبر 2026ء