logo logo
AI Search

عورت کا حیض کی حالت میں آٹا گوندھنا کیسا ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عورت کا ماہواری کی حالت میں آٹا گوندھنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت ماہواری کے دنوں میں آٹا گوندھ سکتی ہے؟

جواب

جی ہاں! عورت ماہواری کی حالت میں آٹا گوندھ سکتی ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، کیونکہ حیض کی وجہ سے عورت کا جسم یا اس کے ہاتھ ناپاک نہیں ہوجاتے۔ حیض و نفاس کی حالت میں عورت پر جو ناپاکی کا حکم ہوتا ہے، وہ حقیقی ناپاکی نہیں بلکہ حکمی ناپاکی ہے۔ لہٰذا وہ آٹا گوندھ سکتی ہے، کھانا پکا سکتی ہے اور گھر کے دیگر معمول کے کام بھی کر سکتی ہے۔

صحیح مسلم میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: ”قال لي رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: ناوليني الخمرة من المسجد، قالت: فقلت: إني حائض. فقال: إن حيضتك ليست في يدك“ ترجمہ: اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی پکڑاؤ! آپ نے بیان فرمایا: کہ میں نے عرض کی: میں حیض سے ہوں، اس پر آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: بیشک تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (صحيح مسلم، جلد 1، صفحہ 244، رقم الحدیث 298، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ”أن الحائض طاهرة حسا نجسة حكما“ ترجمہ: حیض والی عورت حِسّی اعتبار سے پاک ہوتی ہے، البتہ حکمی اعتبار سے ناپاک ہوتی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 02، صفحہ 494، دار الفکر، بیروت)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا: ”حیض والی عورت کی روٹی پکی ہوئی کھانا جائز ہے یا نہ، اور اپنے ساتھ اس کو روٹی کھلانا جائز ہے یا نہ ؟

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ”اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی جائز، اسے اپنے ساتھ کھلانا بھی جائز۔ ان باتوں سے احتراز یہود و مجوس کا مسئلہ ہے۔ وقد کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یدنی راسہ الکریم لأم المؤمنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا وھی فی بیتھا وھو صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم معتکف فی المسجد لتغسلہ فتقول أنا حائض فیقول حیضتک لیست فی یدک۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنا سرمبارک دُھلوانے کے لئے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قریب کرتے تھے، اس وقت آپ گھر میں ہوتیں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ وآلہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے، اُم المومنین عرض کرتیں: میں حائضہ ہوں۔ آپ فرماتے: حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 4، صفحہ 355، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”حیض کی وجہ سے جو نجاست عورت پر طاری ہوتی ہے وہ حکمی ہے، حقیقی نہیں، اس کا ظاہر جسم پاک اور صاف رہتا ہے۔ اسی کو حدیث میں فرمایا گیا: ”إن حيضتك ليست في يدك“ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ اس کا مفاد یہی ہے کہ ہاتھ پاک ہے تو جیسے ہاتھ پاک ہے، اسی طرح اس کا سارا ظاہر جسم پاک ہے۔“ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 89، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5409

تاریخ اجراء: 15 ربیع الاول 1448ھ/29 اگست 2026ء