عورت وتر میں دعائے قنوت پڑھتے ہوئے ہاتھ باندھے گی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت دعائے قنوت میں ہاتھ باندھے گی یا کھلے رکھے گی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت وتر میں دعائے قنوت پڑھتے ہوئے ہاتھ باندھے گی یا کھلے رکھے گی؟
جواب
سنت یہ ہے کہ عورت ہو یا مرد، وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کی حالت میں بھی ہاتھ باندھ کر رکھیں گے، ہاتھ کھلے رکھ کر نہیں۔ مرد ناف کے نیچے مسنون طریقے کے مطابق ہاتھ باندھے گا اور عورت دونوں پستانوں کے درمیان مسنون طریقہ پر ہاتھ باندھے گی۔ اس مقام پر یہ اصول یاد رکھیں کہ اس قیام میں جس میں قرار و ذکر مسنون ہو، فقہائے کرام نے بلا تفریق مرد و عورت ایسے قیام میں ہاتھ باندھنا سنت لکھا ہے جیسے حالتِ ثنا، تکبیراتِ جنازہ وغیرہ اور جس قیام میں قرار و ذکر مسنون نہ ہو وہاں ہاتھ لٹکائے رکھنا سنت ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”كل قيام فيه ذكر مسنون فالسنة فيه الاعتماد كما في حالة الثناء والقنوت وصلاة الجنازة و كل قيام ليس فيه ذكر مسنون كما فی تكبيرات العيدين فالسنة فيه الارسال كذا فی النهاية وهو الصحيح “یعنی جس قیام میں مسنون ذکر ہوتا ہے، اس میں ہاتھ باندھنا سنت ہے جیسا کہ ثنا، دعائے قنوت اور نماز جنازہ میں اور جس قیام میں مسنون ذکر نہیں جیسے تکبیرات عیدین تو ان میں ہاتھ چھوڑے رکھنا سنت ہے جیساکہ نہایہ میں لکھا ہے، یہی صحیح قول ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 01، ص 73، مطبوعہ پشاور)
تنویر الابصار اور اس کی شرح در مختار میں ہے: ’’(ووضع) الرجل (يمينه على يساره تحت سرّته آخذا رسغها بخنصره وابهامه) هو المختار وتضع المرأة والخنثى الكف على الكف تحت ثديها (كما فرغ من التكبير) بلا إرسال في الأصح (وهو سنة قيام۔۔۔له قرار فيه ذكر مسنون فيضع حالة الثناء وفي القنوت وتكبيرات الجنازة)‘‘ یعنی جیسے ہی تکبیرِ تحریمہ سے فارغ ہوں گے تو زیادہ صحیح قول کے مطابق ہاتھ لٹکائے بغیر مرد اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر ناف کے نیچے باندھے گا اس طرح کہ دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی اور انگوٹھے سے بائیں ہاتھ کے پونچے کو گھیر لے، یہی مختار طریقہ ہے۔ عورت اور ہجڑا دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھیں گے اپنی چھاتی کے نیچے اور یہ ہاتھ باندھنا ہر اس قیام کی سنت ہے جس میں ٹھہرنا ہوتا ہے اور کوئی مسنون ذکر اس میں کرنا ہوتا ہے لہذا ثنا، دعائے قنوت، تکبیراتِ جنازہ میں ہاتھ باندھیں گے۔
اس کے تحت فتاوی شامی میں ہے: ’’(قولہ: فيه ذكر مسنون) ای مشروعٌ فرضاً کان او واجباً او سنۃ‘‘ یعنی مسنون ذکر سے مراد مشروع ذکر ہے خواہ وہ فرض ہو یا واجب ہو یا سنت۔ (الدر مختار ورد المحتار، ج 2، ص 228-230، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جس قیام میں ذکر مسنون ہو اس میں ہاتھ باندھنا سنت ہے تو ثنا اور دُعائے قنوت پڑھتے وقت اور جنازہ میں تکبیر تحریمہ کے بعد چوتھی تکبیر تک ہاتھ باندھے اور رکوع سے کھڑے ہونے اور تکبیرات عیدین میں ہاتھ نہ باندھے۔“ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 03، ص 522، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13708
تاریخ اجراء: 12 شعبان المعظم 1446 ھ/11 فروری 2025ء