عورت نے مسجد میں جمعہ پڑھا تو ظہر ساقط ہوگئی؟

عورت نے مسجد میں جاکر جمعہ پڑھ لیا تو ظہر ساقط ہوجائے گی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ یہ تو معلوم ہے کہ عورتوں کے لیے مسجد کی جماعت میں حاضر ہونا جائز نہیں، البتہ اگر کسی مسجد میں عورتیں باپردہ ہوکر جمعہ پڑھنے جاتی ہوں اور امام صاحب ان کی نیت بھی کرتے ہوں، تو جو عورت جمعہ کی نماز اس طور پرباجماعت ادا کرلے، تو کیا اس سے ظہر کی نماز ساقط ہوجائے گی یا پڑھنی ہوگی؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

شریعتِ اسلامیہ کی رو سے عورت پر نمازِ جمعہ فرض نہیں ہے، بلکہ وہ جمعہ کے دن بھی عام دنوں کی طرح اپنے گھر میں نمازِ ظہر ادا کرے گی، نیز عندالشرع عورتوں کا مسجد میں (مردوں کی جماعت میں) آنا ممنوع ہے،خواہ جمعہ کی ادائیگی کے لیے ہو یا علاوہ جمعہ دیگر نمازوں کے لیے، بہر صورت ممنوع ہے، البتہ اگر کوئی عورت کسی قابلِ اقتدا امام کے پیچھے (اقتداء کی شرائط کی رعایت کے ساتھ) نمازِجمعہ ادا کرلیتی ہے،جبکہ جمعہ اپنی شرائط کے ساتھ درست ہو (مثلاً شہر یا فنائے شہر میں ہو،اذن عام ہو وغیرہ)، تو اس کا جمعہ ہوجائے گا اور اس سے نمازِ ظہر ساقط ہوجائے گی۔

عورت پر جمعہ فرض نہیں، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے:

قال: الجمعة واجبة على كل حالم، إلا على أربعة، على الصبي، و المملوك، و المرأة، و المريض

 ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: نمازِ جمعہ ہر بالغ شخص پر فرض ہے، مگر چار افراد پر (فرض نہیں) نابالغ بچہ، غلام، عورت اور مریض۔ (السنن الکبریٰ، جلد 3، صفحہ 261، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

شمس الآئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:483ھ/1090ء) لکھتے ہیں:

أما الشرائط في المصلي لوجوب الجمعة فالاقامة و الحرية و الذكورة و الصحة... و المرأة كذلك مشغولة بخدمة الزوج منهية عن الخروج شرعا لما في خروجها إلى مجمع الرجال من الفتنة

ترجمہ : نمازی پر جمعہ فرض ہونے کی کچھ شرائط ہیں، یعنی مقیم ہونا، آزاد ہونا ، مرد ہونا، تندرست ہونا۔ اور عورت پر اس لیے جمعہ فرض نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی خدمت میں مصروف ہوتی ہے ، نیز اس کو گھر سے نکال کر مسجد وغیرہ مردوں کے اجتماع میں لانا فتنے کا باعث ہے۔ (مبسوط سرخسی، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 22، مطبعۃ السعادۃ، مصر)

ملک العلماءعلامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:587ھ/1191ء) لکھتے ہیں:

و أما المرأة فلأنها مشغولة بخدمة الزوج ممنوعة عن الخروج إلى محافل الرجال لكون الخروج سببا للفتنة، و لهذا لا جماعة عليهن و لا جمعة عليهن أيضا

 ترجمہ: بہر حال عورت، تو یہ چونکہ اپنے شوہر کی خدمت میں مصروف ہوتی ہے، (اس لیے اس پر جمعہ فرض نہیں) اور اس کاجمعہ کے لیے مردوں کے اجتماع میں آنا ممنوع ہے، کیونکہ اس کا گھر سے نکلنا فتنے کا سبب ہے، اسی وجہ سے عورتوں پر جمعہ و جماعت کی حاضری نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 258، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)

عورتوں کو جماعت کی حاضری کی ممانعت کے متعلق بخاری شریف، سنن ابی داؤد، مسند احمد اور دیگر کتب حدیث میں ہے:

و النظم للاول: عن عائشة رضي اللہ عنها، قالت: لو ادرک رسول ﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کر لی ہیں، اگر یہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرماتے، تو ضرور انہیں مسجد سے منع فرمادیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔ (صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب خروج النساء الی المساجد، جلد 1، صفحہ 183، مطبوعہ دار طوق النجاة، بيروت)

مذکورہ بالا حدیثِ پاک کے تحت شارِح بخاری، علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: 

قولہ "ما أحدث النساء" أي ما أحدثت من الزينة والطيب و حسن الثياب ونحوها (قلت) لو شاهدت عائشة رضي اللہ تعالى عنهما ما أحدث نساء هذا الزمان من أنواع البدع والمنكرات لكانت أشد إنكارا

ترجمہ: سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا فرمان ”جو کچھ عورتوں نے اب پیدا کر لیا ہے“یعنی زیب و زینت، خوشبو اور عمدہ لباس وغیرہ پہن کر مسجد آنا۔ میں کہتا ہوں: اگر سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا وہ ملاحظہ فرما لیتی، جو کچھ اب ہمارے زمانے کی عورتوں نے پیدا کر لیا ہے، یعنی طرح طرح کی بدعات و خرافات ، تو اور زیادہ سختی فرماتیں۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، جلد 6، صفحہ 158، مطبوعہ بیروت)

علامہ زَیْلَعی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 743ھ / 1342ء) لکھتےہیں:

و المختار فی زماننا المنع فی الجمیع لتغیر الزمان

ترجمہ: تغیر زمانہ کی وجہ سے مختار یہ ہے کہ تمام نمازوں میں(عورتوں کو جماعت میں آنے ) کی ممانعت ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 140، مطبوعہ قاھرۃ)

جس پر جمعہ فرض نہیں، اگر وہ جمعہ ادا کر لیتا ہے،تو جمعہ ہوجائے گا، جیسا کہ علامہ زَیْلَعی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 743ھ / 1342ء) لکھتےہیں:

(و من لا جمعة عليه إن أداها جاز عن فرض الوقت)، لأن السقوط لأجله تخفيفا فإذا تحمله جاز عن فرض الوقت كالمسافر إذا صام و الذي لا جمعة عليه هو المريض و المسافر و المرأة و العبد

ترجمہ: اور جس پر جمعہ فرض نہیں، اگر وہ ادا کر لیتا ہے، تو یہ اس وقت کے فرض کی طرف سے کافی ہو جائے گا، اس لیے کہ ان سے جمعہ کی فرضیت کو ساقط کرنا، ان کی آسانی کے لیے تھا، تو جب انہوں نے خود ہی مشقت برداشت کر تے ہوئے جمعہ ادا کر لیا، تو یہ وقتی فرض کی طرف سے کافی ہے، جس طرح مسافر رخصت کے باوجود فرض روزہ رکھ لے، (تو اس کا فرض ادا ہو جاتا ہے) اور وہ لوگ جن پر جمعہ فرض نہیں، وہ مریض، مسافر، عورت اور غلام ہیں۔ (تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 221، مطبوعہ قاھرۃ)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ”جمعہ واجب ہونے کے ليے گیارہ شرطیں ہیں، ان میں سے ایک بھی معدوم ہو، تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا، تو ہوجائے گا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 470، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

جمعہ ادا کرنے کی صورت میں نمازِ ظہر ساقط ہوجائے گی، جیسا کہ ملک العلماءعلامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:

هؤلاء الذين لا جمعة عليهم إذا حضروا الجامع وأدوا الجمعة فمن لم يكن من أهل الوجوب كالصبي و المجنون فصلاة الصبي تكون تطوعا و لا صلاة للمجنون رأسا، و من هو من أهل الوجوب كالمريض والمسافر والعبد والمرأة و غيرهم تجزيهم ويسقط عنهم الظهر

ترجمہ: جن افراد پر جمعہ لازم نہیں، اگر یہ مسجد وغیرہ آ کر نمازِ جمعہ ادا کر لیتے ہیں، تو ان میں سے جو افراد وجوب کے اہل ہی نہیں، مثلاً بچہ یا مجنون، تو بچہ کی نماز نفل شمار ہو جائے گی اور مجنون کے ذمے سرے سے کوئی نماز ہی نہیں اور جو وجوب کی اہلیت رکھتے ہیں، مثلاً مریض، مسافر اور عورت وغیرہ، تو ان کا جمعہ ہو جائے گا اوران سے ظہر ساقط ہو جائے گی۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 259، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں:

(ومن لا جمعة عليه إن أداها جاز عن فرض الوقت)۔۔۔ و أما من كان أهلا للوجوب كالمريض و المسافر و المرأة و العبد يجزئهم و يسقط عنهم الظهر

ترجمہ:جس پر جمعہ فرض نہ ہو اگر وہ اس کو ادا کر لے تو اس کے فرضِ وقت ادا ہو جائیں گے، بہرحال جوجمعہ کے واجب ہونے کا اہل ہو جیسے کہ مریض مسافر، عورت اور غلام تو ان کی طرف سے جمعہ ادا ہو جائے گا اور ان سے ظہر ساقط ہو جائے گی۔ (البحر الرائق، جلد 2، صفحہ 164، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: OKR-0138

تاریخ اجراء: 14جمادی الاول1447ھ/06نومبر 2025 ء