logo logo
AI Search

عورت چار شادیاں کیوں نہیں کر سکتی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عورت کو چار شادیاں کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے، تو عورت کو چار شادیوں کی اجازت کیوں نہیں؟

جواب

اسلام کا ہر حکم اپنے اندر بے شمار حکمتیں، مصلحتیں اور فوائد سموئے ہوئے ہوتا ہے۔ جن میں سے بعض انسانی عقل پر واضح ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض ہماری محدود فہم اور ادراک سے ورا ہوتےہیں۔ لیکن ایک سچے مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے ہر حکم کو دل و جان سے قبول کرے، خواہ اس کی حکمت اس پر آشکار ہو یا نہ ہو۔

ایک مؤمن کا طرزِ عمل یہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ جو حکم اس کی خواہشات، مزاج یا ذاتی مفادات کے مطابق ہو اسے تو خوشی سے قبول کر لے، اور جو اس کی سمجھ میں نہ آئے یا بظاہر اس کے مفاد کے خلاف محسوس ہو، اسے رد کر دے یا اس پر اعتراضات کرنے لگے۔

کافی عرصے سے بعض حلقوں، خصوصاً لبرل فکر سے متاثر افراد کی جانب سے یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ: اگر اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے تو عورت کو ایک وقت میں چار شوہر رکھنے کی اجازت کیوں نہیں دی؟ بظاہر یہ سوال مساوات کا علمبردار دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں معاملہ اس کے بلکل برعکس ہے۔کیونکہ اگر عورت کو بھی بیک وقت متعدد شوہر رکھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ نہ صرف خود اس کے اپنے اور بچے کے لئے وبالِ جان ہوگا، بلکہ خاندانی نظام، معاشرتی استحکام اور اجتماعی نظم و ضبط کو بھی شدید متاثر کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اجازت میں کوئی فائدہ تو دور دور تک نہیں، تاہم اس کے نقصانات اور منفی اثرات بے شمار ہیں۔

اب آئیے، اس مسئلے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہیں اور اس حکم کے پس منظر میں کارفرما حکمتوں میں سے چند کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(1) نسب کی حفاظت سوالیہ نشان بن جائے گی:

عورت کو بیک وقت متعدد شوہر رکھنے کی اجازت نہ دینے کی ایک اہم حکمت نسب کی حفاظت ہے، اور یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ مقاصد شرع اور معاشرتی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ نسب کی حفاظت کو اسلام میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ بیسیوں شرعی مسائل اور قانونی و خاندانی معاملات اسی پر موقوف ہوتے ہیں۔ذرا غور کیجیے! اگر کسی عورت کے ایک وقت میں چار شوہر ہوں اور اس کے ہاں بچے کی ولادت ہو جائے، تو بنیادی سوال یہ پیدا ہوگا کہ اس بچے کا حقیقی باپ کون ہے؟ وہ کس کے نام سے جانا جائے گا؟ اس کے اخراجات کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟اس کی کفالت کون کرے گا؟ اس کا سہارا کون بنے گا؟ وہ کس کے سایہ شفقت اور تربیت میں رہے گا؟ بچے کا تعلق کس مرد کے خاندان سے ہوگا؟ وہ کس مرد کی وراثت سے حصہ پائے گا؟ اس کے محارم اور غیر محارم رشتے کون سے ہوں گے؟ آئندہ آنے والی نسلوں میں کن افراد سے نکاح جائز اور کن سے ناجائز ہوگا؟ الغرض اس طرح کے بے شمار مسائل جنم لیں گے، جو نہ صرف انفرادی طور پر بچے کے لیے نقصان دہ ہوں گے، بلکہ اس سے اجتماعی طور پر پورے خاندانی نظام کی عمارت بھی لرز کر رہ جائے گی۔

اسی لیے اسلام نے ابتدا ہی سے اس دروازے کو بند کر دیا اور نسب کے تحفظ کا ایسا جامع اور حکیمانہ نظام عطا فرمایا جس سے فرد، خاندان، معاشرہ ہر قسم کے نقصان و ابہام سے محفوظ ہوجاتا ہے۔

(2) حسد اور رقابت کا جنم لینا، نیز انسانی معاشرے کا جنگل کا منظر پیش کرنا:

انسانی فطرت کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ مرد اپنی شریکِ حیات کے معاملے میں غیر معمولی حساسیت اور غیرت رکھتا ہے۔ اگر ایک عورت کو بیک وقت متعدد شوہر رکھنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سےان شوہروں کے درمیان کشمکش اور دشمنی پیدا ہوگی، اور چونکہ مردوں کا ایک دوسرے کے سامنے آنا جانا عام ہے تو باہمی نفرت آپس میں لڑائی اور قتل و غارت گری تک پہنچادے گی کہ جان لیوا لڑائیاں عموما مردوں ہی کے درمیان ہوتی ہیں جیسا کہ دنیا بھر کی لڑائیوں کی تاریخ میں مشاہدہ ہے۔

ایسی صورتِ حال میں خاندانی زندگی محبت، سکون اور اعتماد کا گہوارہ بننے کے بجائے تنازعات اور کشمکش کا میدان بن جائے گی۔ بلکہ انسانی معاشرہ کسی حد تک ایک جنگل کا منظر پیش کرنے لگے گا، جہاں مختلف جانور ایک مادہ کو حاصل کرنے کے لیے آپس میں برسرِ پیکار ہوتے ہیں اور بالآخر زیادہ طاقتور نر ہی اس پر اپنا غلبہ قائم کر لیتا ہے۔لہذا ایک عورت کے متعدد شوہر ہونے کے نتیجے میں انسانی معاشرہ بھی اسی تباہی کا شکار ہوجائے گا۔

مزید یہ کہ جہاں عورت کی قربت اور توجہ حاصل کرنے کے لیے مختلف شوہروں کے درمیان مقابلہ آرائی ہوگی، وہیں مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے وقت ہر شخص یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرے گا کہ یہ صرف میری ہی بیوی تو نہیں ہے۔ ا ور اس میں سب سے زیادہ نقصان خود عورت اور اس کے بچے کو پہنچے گا۔

(3) فطرت سے عدم مطابقت اور عورت پر اضافی بوجھ:

مرد اور عورت اگرچہ فی نفسہ انسانی شرف و کرامت میں برابر ہیں، لیکن فطرت نے دونوں کی ساخت، احساسات او ر ذمہ داریوں میں واضح فرق رکھا ہے۔ عورت فطری طور پر قلبی وابستگی، جذباتی تعلق اور ایموشنل لگاؤ کی زیادہ محتاج ہوتی ہے، جبکہ مرد کے مزاج میں نسبتاً مختلف پہلو غالب ہوتے ہیں۔ اسی لیے ازدواجی تعلق میں عورت کا ایک ہی مرد کے ساتھ گہرا جذباتی رشتہ اس کے سکونِ قلب کی بنیاد بنتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک عورت کو بیک وقت متعدد مردوں سے قلبی وابستگی رکھنی پڑے تو یہ اس فطری جذبے کے خلاف ہوگا جو اس کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔

اسی طرح ذمہ داری کا معاملہ لیں تو عورت کوحمل، ولادت، رضاعت اور اولاد کی پرورش و گھر گرہستی جیسی عظیم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اسلام عورت کو خاندان کا مرکز اور نسلوں کی معمار کی حیثیت سے دیکھتا ہے،لیکن اگر ایک عورت کو بیک وقت متعدد شوہروں کے حقوق، مطالبات اور جذباتی وابستگیوں کا بوجھ اٹھانا پڑے تو اس کی ذمہ داریاں فطری طور پر کئی گنا بڑھ جاتی ہیں، جن کی یکساں ادائیگی عملاً ممکن نہیں رہتی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف اس کی اپنی زندگی میں ذہنی دباؤ اور انتشار پیدا ہوتا ہے بلکہ ازدواجی نظام بھی عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔

اور ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ عورت کا بنیادی اور حساس ترین کردار ماں کا ہے، جس پر آنے والی نسلوں کی تربیت اور کردار سازی کا انحصار ہوتا ہے۔ اولاد کی صحیح پرورش صرف جسمانی ضروریات پوری کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل توجہ، شفقت، جسمانی قرب اور تربیتی تسلسل درکار ہوتا ہے۔ جب ایک عورت مختلف شوہروں کے تعلقات اور گھریلو ذمہ داریوں میں تقسیم ہو جائے تو اس کی توجہ لازماً بٹ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف بچوں کی تربیت متاثر ہوتی ہے بلکہ اس سے خاندانی استحکام بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو شریعت کا یہ نظام دراصل عورت کے حق میں رحمت، سہولت اور آسانی کا باعث ہےکہ اسے ایک ہی شوہر کے ساتھ واضح، منظم اور پُرسکون خاندانی ڈھانچہ دیا گیا ہے، جہاں اس کی جذباتی وابستگی، مادری ذمہ داریاں اور گھریلو کردار ایک ہی مرکز کے گرد مستحکم رہتے ہیں۔ اس طرح وہ غیر ضروری ذہنی دباؤ، متضاد تعلقات اور پیچیدہ ذمہ داریوں سے محفوظ رہ کر اپنے فطری کردار کو بہتر انداز میں ادا کر سکتی ہے۔

نسب کی حفاظت اہم مقاصد شرع میں سے ہے، چنانچہ امام غزالی لکھتے ہیں: و مقصود الشرع من الخلق خمسة: و هو أن يحفظ عليهم دينهم و نفسهم و عقلهم و نسلهم و ما لهم، فكل ما يتضمن حفظ هذه الأصول الخمسة فهو مصلحة، و كل ما يفوت هذه الأصول فهو مفسدة و دفعها مصلحة" شرع کا مخلوق سے مقصود پانچ چیزوں کی حفاظت ہے، اور وہ یہ ہیں: شرع مخلوق کے دین، جان، عقل، نسب اور مال کی حفاظت کرے۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو ان اصولِ خمسہ کی حفاظت پر مشتمل ہو وہ مصلحت ہے، اور ہر وہ چیز جو ان اصولوں کو ضائع کرے وہ مفسدہ ہے، اور اس مفسدہ کو دور کرنا ہی مصلحت ہے۔ (المستصفی، ص 174،دار الكتب العلمية)

عورتو ں کو چار شادیوں کی اجازت نہ ہونے میں کار فرما حکمتوں کے متعلق الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے: أما منع تعدد الأزواج: ففيه توفير مصلحة المرأة نفسها، إذ تكون عادة مبعث نزاع حاد بين الرجال، وتنافس و تزاحم بين الشركاء يلحق بها ضررا و متاعب، و في هذا التعدد ضرر اجتماعي، و فساد كبير، بسبب ضياع الأنساب، و اختلاط أصول الأولاد، و ضياعهم في نهاية الأمر، إذ قد يتخلى كل هؤلاء الرجال عن إعالتهم، بحجة أنهم أبناء الآخرين" رہی بات متعدد شوہروں کی ممانعت کی تو اس میں خود عورت کے فائدے اور بھلائی کو ملحوظ رکھا گیا ہے، کیونکہ عموماً ایسی صورت میں مردوں کے درمیان شدید جھگڑا، شریک شوہروں کے درمیان رقابت، مقابلہ بازی اور کشمکش پیدا ہوتی ہے، جس کا نقصان اور تکلیف براہِ راست عورت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اس طرح کے نظام میں اجتماعی سطح پر بھی بڑا نقصان اور فساد لازم آتا ہے، کیونکہ نسب ضائع ہو جاتا ہے، بچوں کی اصل اور نسبی شناخت خلط ملط ہو جاتی ہے، اور آخرکار وہ بچے ہلاکت کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں، کیونکہ ممکن ہے ہر مرد یہ کہہ کر ان کی کفالت سے انکار کر دے کہ یہ میرے بچے نہیں بلکہ کسی اور کے ہیں۔ (الفقہ الاسلامی و ادلتہ، ج 09، ص 6673، دار الفكر، دمشق)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: HAB-0758
تاریخ اجراء: 20ذو الحجۃ 1447ھ / 06 جون 2026ء