کیا عورت محرم کے بغیر اسٹڈی ٹور پر جا سکتی ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسٹڈی ٹور کے لیے شرعی مسافت تک بغیر محرم جانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں حید ر آباد یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں۔ ہماری یونیورسٹی سے ہر سال پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے میں مختلف مقاصد (تفریح، گروپ ٹاسک، تاریخی مقامات کی معلومات، تخلیقی صلاحیتوں کا نکھار) کے تحت اسٹڈی ٹور (Study Tour) جاتے رہتے ہیں۔ اس سال ہماری یونیورسٹی کا حید ر آباد سے کراچی (جوکہ شرعی مسافت پر ہے) اسٹڈی ٹورجا رہا ہے۔ اس ٹور میں صرف اسٹوڈنٹس (لڑکے، لڑکیاں) اور اساتذہ ہی جا سکتے ہیں، گھر کے کسی فرد محرم وغیرہ کو ساتھ لے کر جانے کی اجازت نہیں ہوتی، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے جو اسٹوڈنٹس ہمارے ساتھ جائیں گی ان کی مکمل دیکھ بھال کی ذمہ داری انتظامیہ کی ہوگی۔ تو رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں دیگر اسٹوڈنٹس اور انتظامیہ کے ساتھ اسٹڈی ٹورپر جا سکتی ہوں؟
جواب
دریافت کردہ صورت میں آپ کا دیگر اسٹوڈنٹس اور یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اسٹڈی ٹور (Study Tour) پر جانا، جائز نہیں۔ کیونکہ اسٹڈی ٹور پر جانے کے لئے آپ کو حید ر آباد سے کراچی تک کا شرعی سفر کرنا پڑے گا، حالانکہ عورت کا شوہر یا مَحْرَم کے بغیر تین دن یعنی 92 کلو میٹر کی راہ کاسفر ناجائز و حرام و گناہ ہے۔ نیز ہماری پیاری شریعت میں تو عورت کو شوہر یا محرم کے بغیر حج یا عمرے جیسے مقدس سفر پر جانے کی اجازت نہیں، تو اسٹڈی ٹور پر جانے کی اجازت کیسے ہو گی؟
نیز اس طرح کے اسٹڈی ٹور میں عموماً مزید قباحتیں بھی پائی جاتی ہیں، مثلاً نوجوان مردو عورت اکٹھے جاتے ہیں، تو راستے میں یا وہاں پہنچ کر لڑکے لڑکیاں آپس میں ہنسی مذاق کرتے ہیں اور اکٹھے تصاویر وغیرہ بناتے ہیں، حالانکہ اجنبی مرد و عورت کا آپس میں ہنسی مذاق کرنا، بے تکلفی کے ساتھ میل جول رکھنا، نا محرم مر د و عورت کا بے پردگی کی حالت میں ایک دوسرے کے سامنے آنا اور ایک دوسرے کی تصاویر بنانا، سخت ناجائز و گناہ اور حرام ہے کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اسلام شرم و حیا کا درس دیتا ہے، رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے ارشاد فرمایا: "الحیاء من الایمان" یعنی حیا ایمان سے ہے۔(ترمذی، 3 / 406، حدیث: 2016)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Book-196