حاملہ عورت کا سجدے میں پیٹ رانوں سے لگانا ضروری ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
سجدہ میں عورت بوجہِ عذر پیٹ رانوں سے نہ لگائے تو؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
اگرعورت کو اُمید سے ہونے یا کسی بھی دوسرے عذر کے سبب پیٹ کو رانوں کے ساتھ لگانا دشوار اور تکلیف دَہ ہو تو پیٹ کو رانوں سے جدا رکھ کر سجدہ کر سکتی ہے۔ اِس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، کیونکہ عورت کے حق میں سمٹ کر رانوں کو پیٹ سے لگاتے ہوئے سجدہ کرنا سجدے کی سنتوں میں سے ہے۔ فقہائے دین نے عورت کی کیفیتِ سجدہ بیان کرتے ہوئے ”ینبغی للمرأۃ“ اور ”السنۃ فی حقھا“ کے جملے استعمال کیے ہیں، جو اِس طریقے کے سنتِ سجدہ ہونے کی دلیل ہے، لہٰذا عذر کے سبب اِس انداز کو چھوڑنے کی بھی اجازت ہے، بلکہ جب اس کے بغیر ممکن نہیں تو ایسا کرنا ضروری ہوگا، نیز ہمارا دینِ اسلام مرد وعورت کو اُن کی طاقت وحالت کے مطابق ہی مکلف بناتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا﴾ترجمۂ کنز العرفان: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے۔ (سورۃ البقرۃ، پارہ 3، آیت 286)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-207