logo logo
AI Search

کیا عورت کے انتقال سے نکاح ختم ہوجاتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا فوت ہونے والی عورت کا نکاح ختم ہوجاتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا یہ درست ہے کہ عورت جب مرتی ہے، تو اس کا نکاح ختم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے خاوند اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کفن پہننے سے پہلے چہرہ دیکھ سکتا ہے بعد میں نہیں دیکھ سکتا۔ تو ان میں سے کیا درست ہے؟ نیز اگر خاوند مرے تو پھرنکاح کیوں ختم نہیں ہوتا؟

جواب

جی ہاں! یہ بات درست ہے کہ عورت کے مرتے ہی اس کا نکاح ختم ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب یہ شوہر بھی اپنی فوت شدہ بیوی کے جسم کو بلا حائل ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ ہاں شوہر اپنی فوت شدہ بیوی کا چہرہ کفن سے پہلے بھی دیکھ سکتا ہے اور کفن کے بعد بھی دیکھ سکتا ہے، حتی کہ قبر میں رکھنے کے بعد بھی دیکھ سکتا ہے اور کسی اجنبی شخص کو فوت شدہ عورت کا چہرہ دیکھنا بھی منع ہے۔ یاد رہے کہ جب شوہر فوت ہو تو عورت کا نکاح فوری اس وجہ سے ختم نہیں ہوتا کہ عورت ابھی اس نکاح کی عدت میں ہوتی ہے اور جب تک عدت ختم نہ ہو اس وقت تک نکاح بھی باقی رہتا ہے۔ اسی وجہ سے عدت کے اندر عورت کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضاعطاری
فتوی نمبر: Book-197