logo logo
AI Search

بے وضو عمرے کا طواف کرکے واپس پاکستان آجائیں تو کیا حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکمل عمرہ بے وضو کیا اور واپس پاکستان آگئے، تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں اپنی والدہ کے ساتھ عمرہ پر گیا، وہاں میری والدہ نے تین عمرے ادا کئے، آخری عمرہ انہوں نے وضو کے بغیر ادا کیا یعنی مکمل طواف بے وضو حالت میں کیا، اب پاکستان واپس آچکی ہیں، ایسی صورت میں ان کے لئے کیا حکم ہے جبکہ وہ ضعیف بھی ہیں؟ کیا میں ان کی طرف سے یہ طواف کر سکتا ہوں ؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کی والدہ پر ایک دَم کی ادائیگی لازم ہے، یعنی حدودِ حرم میں قربانی کی شرائط کے مطابق بکری ، بھیڑ وغیرہ چھوٹا جانورذبح کرکے گوشت مساکین میں تقسیم کر دیں۔

دم حرمِ مکہ میں دینا لازم ہوتا ہے،اب حرم میں خود جاکر ادا نہیں کرسکتیں، تو کسی کو رقم دے کر حرم میں دَم ادا کرنے کے لیے وکیل بنا دیں اور وہ شخص حرم میں ان کی طرف سے دَم ادا کردے یا آپ خود ان کی اجازت سے وہاں جاکر یا کسی بااعتماد فرد کے ذریعے دم ادا کرسکتے ہیں۔ آپ کا ان کی طرف سے عمرہ یا طواف کرنا کافی نہ ہوگا ۔

چنانچہ مفتی علی اصغر صاحب دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ”اگر کسی نے تمام یا اکثر پھیرے عمرے کے طواف میں جنابت، حیض یا نفاس کی حالت میں کئے تو مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے پاکی کی حالت میں اعادہ کرنا واجب ہے اور اگر بے وضو حالت میں کئے تو پاکی کی حالت میں اعادہ کرنا مستحب ہے۔ اعادہ نہ کیا تو تمام صورتوں میں ایک دَم دینا ہوگا۔“ (27 واجباتِ حج اور تفصیلی احکام، صفحہ 150)

مزید لکھتے ہیں: ”بے وضو طوافِ عمرہ کرنے کی صورت میں بغیر اعادہ میقات سے چلے جانے پر دَم دینا ہوگا، واپس آکر اعادہ کرنے کی حاجت نہیں۔“ (27 واجباتِ حج اور تفصیلی احکام، صفحہ 151)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2550

تاریخ اجرا: 27ربیع الآخر1447ھ/21 اکتوبر2025ء