logo logo
AI Search

بالغہ عورت کا والد کے ساتھ حج کرنے سے فرض حج ادا ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بالغہ عورت اپنے والد کے ساتھ حج کر لے، تو کیا شادی کے بعد استطاعت ہونے پر دوبارہ حج کرنا ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

ایسا شخص جس پر حج فرض نہ ہو اوروہ فرض حج،یا مطلق حج کی نیت سےحج کر لے، تو یہ اس کی طرف سے فرض ہی ادا ہوگا، اس صورت میں اگر بعد میں وہ استطاعت والا ہوجاتا ہے، تب بھی اس پر دوبارہ حج فرض نہیں ہوگا اور اگر وہ خاص نفل کی نیت سے حج کرے گا، تو پھر یہ اس کی طرف سے نفلی حج ہوگا اور ا ٓئندہ استطاعت ہونے کی صورت میں دوبارہ حج کرنا اس پر فرض ہوجائے گا۔

لہٰذا پوچھی گئی صورت میں عورت کو چاہیئے کہ جب اسے موقع مل رہا ہے، تو فرض حج کی نیت سے ہی حج ادا کرے، تاکہ فرض ادا ہو جائے، تو پھر بعد میں صاحبِ مال ہونے کی صورت میں اس پر دوبارہ حج کرنا فرض نہیں ہوگا۔

علامہ ملا علی قاری علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: السادس: الاستطاعۃ و ھی شرط الوجوب لا شرط الجواز، و الوقوع عن الفرض، حتی لوتکلف الفقیر و حج و نوی حج الفرض او اطلق جاز لہ، و سقط عنہ فرضہ“ چھٹی شرط استطاعت (طاقت) ہے اور یہ وجوب کی شرط ہے، حج کے درست اور حج کے فرض واقع ہونے کی شرط نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر فقیر تکلّف کر کے مکے پہنچ جائے اور حج کرلے اور فرض حج کی نیت کرلے یا مطلق نیت کرلے تو اس کا حج درست ہے اور اس کا فرض اس سے ساقط ہوجائے گا۔ (مناسک ملا علی قاری، صفحہ 44، مطبوعہ بیروت)

مزید اسی میں ہے: و (اما الفقیر) ای الحقیقی و ھو من لیس لہ مال (و بمن معناہ) ای کمن لہ مال لکنہ مستغرق بالدیون (اذا حج سقط عنہ الفرض ان نواہ) ای الفرض فی احرام حجہ (او اطلق النیۃ) ای و ان لم یقید بکونہ نفلااونذرا (حتی لو استغنی) ای صار غنیا بحصول المال من الوجہ الحلال (بعد ذٰلک) ای بعد ادائہ الحج بغیر استطاعۃ (لا یجب علیہ ثانیا) ای فی المال“ فقیریعنی حقیقی فقیروہ کہ جس کے پاس مال نہ ہو اور جو معنا فقیر ہو یعنی جس کے پاس مال تو ہو، لیکن قرض میں مستغرق ہو، جب وہ احرام میں فرض حج کی نیت کرے تو فرض حج ساقط ہوجائے گا یا نیت کو مطلق رکھا ہو اور نفل یا نذر کے ساتھ مقید نہ کیا ہو یہاں تک کہ اگر وہ بعدمیں مالِ حلال ملنے کی وجہ سے مال دار ہوگیا، تو اس پر دوسری مرتبہ اپنے مال سے حج کرنا واجب نہیں ہوگا۔ (مناسک ملا علی قاری، صفحہ 70، مطبوعہ بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے: میقات سے باہر کا رہنے والا جب میقات تک پہنچ جائے اور پیدل چل سکتا ہو، تو سواری اُس کے لیے شرط نہیں، لہٰذا اگرفقیر ہو جب بھی اُسے حجِ فرض کی نیت کرنی چاہیے، نفل کی نیت کرےگا، تو اُس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا اور مطلق حج کی نیت کی یعنی فرض یا نفل کچھ معین نہ کیا، تو فرض ادا ہوگیا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 1041، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2557
تاریخ اجراء: 05 جمادی الاولٰی 1447ھ / 28 اکتوبر 2025ء