حالت حیض میں بیوی سے جماع کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حالت حیض میں بیوی سے صحبت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ
(1) ایک شخص اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے، اس کو پتا نہیں کہ بیوی حیض کی حالت میں ہے، جبکہ درحقیقت بیوی حیض کی حالت میں تھی، اور بیوی کو اس بات کا علم بھی تھا، اس کے باوجود بیوی نے اسے نہیں بتایا، وہ بیوی کو پاک حالت میں سمجھ کر صحبت کرتا ہے تو اس صورت میں گنہگار کون ہوگا، شوہر یا بیوی، یا دونوں ؟
(2) اور اگر کسی شخص کو یہ پتا ہو کہ اس کی بیوی حالت حیض میں ہے، لیکن اسے یہ معلوم نہ ہو کہ حالت حیض میں بیوی سے صحبت کرنا گناہ، پس وہ اس سے صحبت کر لے تو اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے ؟
جواب
(1) اگر واقعی شوہر کو پتا نہیں تھا کہ اس کی بیوی حالت حیض میں ہے اور اس پر کوئی قوی قرینہ وغیرہ بھی نہیں تھا اور بیوی نے بھی اسے نہیں بتایا، اور اس نے بیوی کو پاک سمجھ کر صحبت کرلی، جبکہ بیوی کو اپنا حالت حیض میں ہونا معلوم تھا اور اس نے جانتے بوجھتے شوہر کو نہیں بتایا تو ایسی صورت میں گناہ صرف بیوی پرہے۔کیونکہ حیض ایک عارض ہے اور عورت کا پاک ہونا اصل ہے تو شوہر اصل کو دلیل بنا رہا ہے اور قاعدہ ہے کہ: "الاصل بقاء ما کان علی ما کان" (ترجمہ: اصل یہ ہے کہ جو چیز پہلے جس حالت پر تھی وہ اس وقت بھی اسی حالت پر ہے۔) (الاشباہ والنظائر، ص 49، مطبوعہ بیروت)
نہر الفائق میں ہے "كما يحرم عليه الفعل يحرم عليها التمكين" ترجمہ: جیسے مرد پر حالت حیض میں عورت کے ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک کے حصے سے نفع حاصل کرنا حرام ہے، اسی طرح مرد کو اپنے اوپر قدرت دینا عورت پر حرام ہے۔ (النھرالفائق شرح کنز الدقائق، باب الحیض، ج 01، ص 132، مطبوعہ کراچی)
رد المحتار میں ہے "وإذا حرم عليه مباشرة ما تحت إزارها حرم عليها تمكينه منها" ترجمہ: اور جب مرد پر عورت کے ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک کے حصے سے نفع حاصل کرنا حرام ہے تو مرد کو اپنے اوپر قدرت دینا عورت پر حرام ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 535، مطبوعہ کوئٹہ)
(2) اگر کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ حالت حیض میں بیوی سے صحبت گناہ ہے، اور وہ جانتے بوجھتے صحبت کر لیتا ہے تو ایسی صورت میں وہ حالت حیض میں صحبت کرنے سے گنہگار ہوگا اور لاعلمی عذر نہیں بنے گی بلکہ علم نہ سیکھنے کا علیحدہ سے گناہ ہوگا۔
نیز اگر کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ حالت حیض میں بیوی سے صحبت کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، یا ممانعت کا اسے علم ہو لیکن وہ اس ممانعت کو حرمت پر محمول نہیں سمجھتا اور وہ اس حالت میں حلال سمجھ کر صحبت کر لیتا ہے، تو اس کے متعلق بعض ائمہ کا فرمان ہے کہ یہ کفر نہیں ہے اور بعض کا فرمان ہے کہ اسے ممانعت کا علم تھا یا نہیں، یا ممانعت کو حرمت پر محمول سمجھتا تھا یا نہیں، بہر صورت یہ کفر ہے۔ اور جب کسی بات کے کفر ہونے میں اختلاف ہو تو احتیاطا توبہ و تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا حکم دیا جاتا ہے لہذا ایسے شخص کو توبہ و تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرنا چاہیے۔
نوٹ: یاد رہے کہ حالت حیض میں بیوی کے ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک کے حصے کو اتنے موٹے کپڑے وغیرہ کو حائل کیے بغیر کہ جس سے بدن کی گرمی محسوس نہ ہو، مرد کا اپنے کسی عضو کے ساتھ شہوت سے یا بغیر شہوت کے چھونا جائز نہیں اور اتنے حصے کو شہوت کے ساتھ دیکھنا بھی جائز نہیں۔ ہاں ناف سے اوپر والے حصے سے اور گھٹنے سے نیچے والے حصے سے جس طرح چاہے نفع حاصل کر سکتا ہے۔ ہاں حالت حیض میں عورت مرد کے ہر حصہ بدن کو ہاتھ لگا سکتی ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-﴾ ترجمۂ کنز الایمان: ”اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں۔“ (سورۃ البقرۃ، پ 02، آیت 222)
کنز العمال میں ہے "ذنب العالم واحد وذنب الجاهل ذنبان؛ العالم يعذب على ركوب الذنب والجاهل يعذب على ركوب الذنب وتركه العلم" ترجمہ: عالم کا گناہ ایک ہے اور جاہل کے دو گناہ ہیں، عالم کو گناہ کرنے پر عذاب ہوگا اور جاہل کو گناہ کرنے پر بھی عذاب ہوگا اور علم حاصل نہ کرنے پر بھی گناہ ہوگا۔ (کنز العمال، حرف العین، ج 10، ص 175، مطبوعہ بیروت)
منحۃ الخالق میں ہے "قال في الخانية۔۔۔: وعن إبراهيم بن رستم أنه قال إن استحل الجماع في الحيض متأولا أن النهي ليس للتحريم أو لم يعرف النهي لم يكفر وإن عرف النهي واعتقد أن النهي للتحريم ومع ذلك استحل كان كافرا وعن شمس الأئمة السرخسي إن استحلال الجماع في الحيض كفر من غير تفصيل" ترجمہ: خانیہ میں ہے: ابراہیم رستم سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر حیض میں جماع کو اس تاویل سے حلال سمجھے کہ ممانعت، حرام کرنے کے لیے نہیں ہے یا اسے ممانعت کا علم ہی نہیں تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور اگر ممانعت کا علم ہو اور یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ ممانعت، حرام کرنے کے لیے ہے، اس کے باوجود حلال سمجھے تو کافر ہوگا، اور شمس الائمہ سرخسی سے مروی ہے کہ حیض میں جماع کو حلال سمجھ کر کرنا بغیر کسی تفصیل کے کفر ہے۔ (منحۃ الخالق مع البحر الرائق، باب احکام المرتدین، ج 05، ص 206، مطبوعہ کوئٹہ)
نبراس میں ہے "قال ابراہیم بن رستم احد الائمۃ الحنفیۃ انہ ان استحل علی زعم ان النہی لیس للتحریم لم یکفر وان استحل مع العلم بان النہی یفید الحرمۃ کفر وعندی ان ھذا القول اعدل" ترجمہ: ابراہیم بن رستم جو ائمہ احناف میں سے ایک ہیں، انہوں نے فرمایا: اگر (حالت حیض میں جماع کو) اس گمان سے حلال سمجھے کہ ممانعت، حرام کرنے کے لیے نہیں ہے تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور اگر یہ جانتے ہوئے کہ ممانعت حرمت کا فائدہ دیتی ہے، جماع کو حلال سمجھے تو یہ کفر ہے اور میرے نزدیک یہ قول سب سے زیادہ انصاف پر مبنی ہے۔ (النبراس شرح شرح العقائد، ص 340، مطبوعہ ملتان)
رد المحتار میں ہے "ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط." ترجمہ: جو بالاتفاق کفر ہو وہ عمل اور نکاح کو باطل کر دیتا ہے اور جس میں اختلاف ہو تو اس کے قائل کو توبہ، استغفار اور تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ یہ احتیاطی معاملہ ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، باب المرتد، ج 04، ص 230، مطبوعہ کوئٹہ)
در مختار میں ہے "(ویمنع حل۔۔۔قربان ما تحت إزار) يعني ما بين سرة وركبة ولو بلا شهوة، وحل ما عداه مطلقا. وهل يحل النظر ومباشرتها له؟ فيه تردد" ترجمہ: اور ناف اور گھٹنے کے درمیان کا جو بیوی کے بدن کا حصہ ہے، حالت حیض میں اس سے قربت حلال نہیں اگرچہ بغیر شہوت کے ہو اور اس کے علاوہ بدن کا جو حصہ ہے اس سے مطلقا قربت حلال ہے۔ اور کیا مرد کا اس حصے کو دیکھنا حلال ہے اور عورت کا مرد سے فائدہ اٹھانا حلال ہے ؟ اس میں تردد ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 533 تا 535، مطبوعہ کوئٹہ)
اس کے تحت رد المحتار میں ہے "نقل في الحقائق في باب الاستحسان عن التحفة والخانية: يجتنب الرجل من الحائض ما تحت الإزار عند الإمام.۔۔۔ثم اختلفوا في تفسير قول الإمام: قيل لا يباح الاستمتاع من النظر ونحوه بما دون السرة إلى الركبة ويباح ما وراءه، وقيل يباح مع الإزار. اهـ. ولا يخفى أن الأول صريح في عدم حل النظر إلى ما تحت الإزار، والثاني قريب منه، وليس بعد النقل إلا الرجوع إليه فافهم" ترجمہ: حقائق میں تحفہ اور خانیہ سے نقل کیا گیا کہ ''امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرد، حائضہ عورت کے ازار کے نیچے سے اجتناب کرے''۔ پھر امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے۔ کہا گیا ہے کہ: ناف سے گھٹنوں تک کے حصے سے نفع حاصل کرنا، دیکھنے وغیرہ کے ذریعے جائز نہیں اور اس کے ماسوا سے جائز ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ ازار کے ساتھ جائز ہے (حقائق کی عبارت ختم ہوئی ۔) اور مخفی نہ رہے کہ پہلا قول ازار کے نیچے والے حصے کی طرف دیکھنے کی حرمت میں واضح ہے اور دوسرا اس کے قریب ہے اور نقل کے بعد اس کی طرف رجوع کرنے کے سوا چارہ نہیں۔ تو تم سمجھ جاو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 535، مطبوعہ کوئٹہ)
در مختار کی عبارت کے تحت جد الممتارمیں ہے "قال: أي: "الدر": وهل يحل النظر: الجواب: لا. قال: أي: "الدر": ومباشرتها له؟ فيه تردد: الجواب: نعم! بما وراء ما تحت إزارها بأن تباشر بما فوق سرتها وتحت ركبتها ما شاءت من بدنه حتى ذكره." ترجمہ: در میں جو فرمایا کہ کیا مرد کے لیے عورت کے اس حصے کی طرف نظر کرنا حلال ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: حلال نہیں ہے۔ اور در میں جو فرمایا کہ: عورت مرد سے فائدہ حاصل کر سکتی ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: ہاں عورت کے ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک کے حصے کے علاوہ سے فائدہ اٹھا سکتی ہے یوں کہ اپنے ناف کے اوپر والے حصے سے اور گھٹنے سے نیچے والے حصے کے ساتھ مرد کے بدن کے جس حصے سے چاہے فائدہ ہے یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ سے۔ (جد الممتار، باب الحیض، ج 02، ص 329، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی ہندیہ میں ہے "(ومنها) حرمة الجماع. هكذا في النهاية والكفاية وله أن يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة" ترجمہ: اور حیض و نفاس کے احکامات میں سے ایک یہ ہے کہ اس حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔ اسی طرح نہایہ اور کفایہ میں ہے اور مرد کو یہ اجازت ہے کہ وہ عورت کو اس حالت میں بوسہ دے اور اپنے ساتھ لٹائے اور ناف اور گھٹنے کے درمیان کے حصے کے علاوہ اس کے تمام بدن سے نفع اٹھائے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 39، کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض و نفاس میں ز یر ناف سے زانو تک عورت کے بدن سے بلا کسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسم عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے تمتع جائز نہیں یہاں تک کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھُونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقاً ہر قسم کا تمتع جائز یہاں تک کہ سحق ذکر کرکے انزال کرنا۔" (فتاوی رضویہ، ج 04، ص 353، رضا فاونڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے "اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عُضْوْ سے چھونا، جائز نہیں جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شَہوت سے ہو یا بے شَہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حَرَج نہیں۔ ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں۔ یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے۔۔۔۔اس حالت میں عورت مرد کے ہر حصہ بدن کو ہاتھ لگا سکتی ہے۔ " (بھار شریعت، ج 01، حصہ 02، ص 382، 383، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10789
تاریخ اجراء: 29 ذو الحجۃ 1442ھ/09 اگست 2021ء