ملحان نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
مِلْحانْ نام رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
"مِلحان(Milhan) " نام رکھنا شرعاً جائز ہے، بلکہ اچھا نام ہے، کیونکہ یہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ہے اور سردیوں کے بعض مہینوں کو بھی ملحان کہا جاتا ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ بچے کا نام اولاً صرف "محمد" رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اس کی فضیلت و ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ پھر پکارنے کے لیے صحابی رسول کی نسبت سے مِلحان نام رکھا جائے؛ کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشادفرمائی گئی ہے۔
عمدۃ القاری میں ہے ”عن أنس عن ابن ملحان القيسي عن أبيه . . . فذكره و لم يسمه، و قال الحافظ المزي تبعا للحافظ ابن عساكر: و يشبه أن يكون ابن كثير أي شيخ أبي داود نسبه إلى جده، و قال الحافظ أبو الحسن علي بن المفضل المقدسي: قيل: إنه ملحان بن شبل البكري والد عبد الملك بن ملحان، ذكره ابن عبد البر في الصحابة“ ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، ابن ملحان قیسی سے، ان کے والد سے روایت ہے، پھر انہوں نے حدیث بیان کی، لیکن ان کا نام ذکر نہیں کیا۔ حافظ مزی نے حافظ ابن عساکر کی پیروی کرتے ہوئے فرمایا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن کثیر، یعنی ابو داود کے شیخ نے، ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کی ہے۔ اور حافظ ابو الحسن علی بن مفضل مقدسی نے فرمایا: کہا گیا ہے کہ وہ ملحان بن شبل بکری ہیں، جو عبد الملک بن ملحان کے والد ہیں۔ ابن عبد البر نے انہیں صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 11، صفحہ 136، مطبوعہ: کوئٹہ)
تاج العروس میں ہے”(ومنهال القيسي، أو صوابه ملحان: صحابي) ، وهو منهال بن أوس أبو عبد الملك، له حديث في مسند أحمد، هكذا ذكره الذهبي، و قال في ملحان ما نصه: ملحان بن شبل البكري و قيل القيسي والد عبد الملك، له في صوم أيام البيض في سنن أبي داود“ ترجمہ: منہال قَیسی، یا صحیح نام مِلحان ہے۔ یہ صحابی ہیں۔ ان کا نام منہال بن اوس اور کنیت ابو عبدالملک ہے۔ ان کی ایک حدیث مسندِ احمد میں مذکور ہے۔ امام ذہبی نے ان کا اسی طرح ذکر کیا ہے۔ اور مِلحان کے بارے میں یہ عبارت نقل کی ہے: مِلحان بن شبل بکری ہیں، اور کہا گیا ہے کہ قَیسی ہیں، عبد الملک کے والد ہیں۔ ان کی ایک حدیث سننِ ابی داؤد میں ایامِ بیض کے روزوں کے متعلق مذکور ہے۔ (تاج العروس، جلد 31، صفحہ 48، مطبوعہ: کویت)
"الصحاح" میں ہے ”و يقال لبعض شهور الشتاء: "مِلْحانُ" لبياضِ ثلجه“ ترجمہ: اور سردیوں کے بعض مہینوں کو ’’مِلحان‘‘ کہا جاتا ہے، ان کی برف کی سفیدی کی وجہ سے۔ (الصحاح تاج اللغۃ، جلد 01، صفحہ 407، مطبوعہ: بیروت)
محمد نام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي و تبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ ترجمہ:جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 9، ص 688، مطبوعہ: کوئٹہ)
امامِ اہلِسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا اِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے وارد ہوئے ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب:
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء و اولیاء علیہم الصلٰوۃ و الثناء کے اسمائے طیبہ پرنام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5326
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1448ھ / 17 اگست 2026ء