logo logo
AI Search

وائل نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بچے کا نام وائل رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

وائل، نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بہت پیارے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ہے، جب یہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضرہ ہونے کے لیے اپنے علاقے سے چلے، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان کے آنے سے پہلے ہی ان کی آمد کی بشارت دے دی، ان کے آنے پر ان کا استقبال فرمایا اور ان کی اولاد میں برکت کی دعا بھی فرمائی، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے زمانہ تک حیات رہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے متعدد روایات بھی نقل فرمائی ہیں۔ لہٰذا صحابی رسول کی نسبت سے یہ نام رکھنا درست اور باعثِ برکت ہے۔

علامہ عزالدین ابن الاثیر رحمۃ اللہ علیہ" اسد الغابة في معرفة الصحابة " میں فرماتے ہیں: وفد على رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قد بشر أصحابه بقدومه قبل أن يصل بأيام، و قال: يأتيكم وائل بن حجر من أرض بعيدة، من حضر موت، طائعا راغبا في اللہ عز و جل و في رسوله، و هو بقية أبناء الملوك.فلما دخل عليه رحب به و أدناه من نفسه، و قرب مجلسه و بسط له رداءه، و أجلسه عليه مع نفسه، و قال: اللّٰهم، بارك في وائل و ولده و استعمله النبي صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم على الأقيال من حضر موت وأقطعه أرضا ۔ ۔ ۔ روى عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أحاديث

ترجمہ: وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے پہنچنے سے کئی دن پہلے ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان کو ان کی آمد کی خوشخبری دے دی تھی اور فرمایا تھا: تمہارے پاس وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دور دراز علاقے، حضرموت سے آنے والے ہیں۔ وہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و رغبت کے ساتھ آ رہے ہیں، اور وہ بادشاہوں کی اولاد میں سے باقی رہنے والے افراد میں سے ہیں۔جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کا خیر مقدم کیا، انہیں اپنے قریب کیا، اپنی مجلس میں ان کے لیے جگہ بنائی، اپنا کپڑا بچھایا اور انہیں اپنے ساتھ اس پر بٹھایا۔ پھر فرمایا: اے اللہ! وائل اور ان کی اولاد میں برکت عطا فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں حضرموت کے سرداروں پر حاکم مقرر فرمایا اور انہیں ایک زمین عطا فرمائی۔ وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متعدد احادیث بھی روایت کی ہیں۔ (اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، جلد 5، صفحہ 451،دار احیاء التراث العربی، بیروت)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”اقول: بلکہ مواظبت درکنار چوبیس 24 صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے صفتِ وضو قولاً وفعلاً نقل فرمائی ۔ ۔ ۔ ۔ (۱۰) وائل بن حجر۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 816، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ حضرت وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”آپ کا نام وائل ابن حجر ابن ربیعہ ابن وائل ابن یعمر ہے، کنیت ابو حمیدہ ،قبیلہ بنی حزم سے ہیں، حضرموت کے شاہزادہ تھے، جب اسلام لانے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضور نے ان کے لیئے اپنی چادربچھادی اور اپنے قریب بٹھالیا اور فرمایا کہ تم نے اللہ کے لیئے بہت دراز سفر کیا اور بہت دعائیں دیں، حضر موت کا حاکم بنایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو ہمیشہ حاضریٔ بارگاہ میسر نہ تھی۔“ (مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 18، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

محمد نام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي و تبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ” قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب و إسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 9، ص 688، مطبوعہ: کوئٹہ)

امامِ اہلِسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا اِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے واردہوئے ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘کا مطالعہ کیجئے۔ آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5323
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1448ھ / 17 اگست 2026ء