بکنگ منسوخ ہونے پر ایڈوانس واپس کرنا ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا بکنگ کینسل ہونے پر ایڈوانس واپس کرنا ہوگا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے والد گاڑی چلاتے ہیں، بعض اوقات لوگ کہیں جانے کے لیے گاڑی بُک کرواتے ہیں، اور بطورِ ایڈوانس کچھ رقم ادا کر دیتے ہیں، یہ ایڈوانس کبھی چند دن پہلے، کبھی چند گھنٹے پہلے، اور کبھی صبح کے وقت دیا جاتا ہے، جبکہ سفر رات کو ہونا ہوتا ہے،گاڑی بُک ہونے کے بعد میرے والد اس مسافر کو مقررہ وقت پر لے جانے کے پابند ہو جاتے ہیں، اس لیے وہ سارا دن کسی اور سواری کو نہیں لے جا سکتے، اگر رات کو روانگی کے وقت وہ مسافر آ کر یہ کہہ دے کہ کسی مجبوری کی وجہ سے اب ہم سفر نہیں کر سکتے، تو کیا ایسی صورت میں ڈرائیور ان کی دی ہوئی ایڈوانس رقم اپنے پاس رکھ سکتا ہے، یا شرعاً اسے مکمل واپس کرنا لازم ہوگا، جبکہ اس نے سارا دن اسی بکنگ کی وجہ سے دوسری سواریاں بھی نہیں لیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں ڈرائیور، مسافر کی دی ہوئی ایڈوانس رقم مکمل واپس کرے گا، اس میں سے کچھ بھی اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، کیونکہ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر کسی شخص نے سفر کے لیے سواری کرائے پر لی، پھر سفر کا ارادہ ترک کر دیا، تو یہ فسخِ اجارہ کے لئے عذر شمار ہوگا، لہذاوہ اس اجارے کو فسخ کرسکتاہے، اور جب اجارہ فسخ ہوجائے گا، تو اب ایڈوانس لیا ہوا کرایہ واپس کرنا لازم ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے "لو استأجر إبلا إلى مكة ثم بدا للمستأجر أن لا يخرج فله ذلك ولا يجبر على السفر؛لأنه لما بدا له علم أن السفر ضرر فلا يجبر على تحمل الضرر و كذا كل من استأجر دابة ليسافر ثم قعد عن السفر فله ذلك"ترجمہ: اگر کسی شخص نے مکہ مکرمہ جانے کے لیے اونٹ کرائے پر لیا، پھر بعد میں مستأجر پر ظاہر ہوا کہ وہ سفر نہیں کرے گا، تو اسے ایسا کرنے کا حق ہے، اور اسے سفر پر مجبور نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ جب اس نے سفر ترک کرنے کا فیصلہ کیا، تو معلوم ہوا کہ اس کے حق میں سفر باعثِ ضرر ہے، اور کسی کو نقصان برداشت کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اور اسی طرح ہر وہ شخص جس نے سفر کے لیے کوئی سواری کرائے پر لی، پھر سفر نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، تو اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 04، صفحہ 54، مطبوعہ: کوئٹہ)
تبیین الحقائق میں ہے "قال الأتقاني وجملة هذا ما ذكر شيخ الإسلام في شرح الكافي للحاكم الشهيد قال، وإن استأجر دابة إلى بغداد وهي بعينها ثم بدا للمستأجر أن يقعد فلا يخرج فهذا عذر؛ لأنه قد تتعلق مصلحته بالسفر في زمان دون زمان فإذا وقع الاستغناء عنه اندفعت الحاجة بدونه فيكون عذرا" ترجمہ: علامہ اتقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کاخلاصہ وہ ہے جسے شیخ الاسلام نے امام حاکم شہید کی کافی کی شرح میں ذکر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: اگر کسی شخص نے بغداد جانے کے لیے ایک معین سواری کرائے پر لی، پھر بعد میں مستأجر کا ارادہ بدل گیا، اور اس نے سفر نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، تو یہ اس کے لیے عذر ہے؛ کیونکہ بعض اوقات کسی خاص وقت میں سفر کے ساتھ اس کی کوئی مصلحت وابستہ ہوتی ہے، پھر جب وہ مصلحت باقی نہ رہے، اور سفر کی ضرورت ختم ہو جائے، تو یہ معاہدہ ختم کرنے کے لیے معتبر عذر شمار ہوگا۔ (تبیین الحقائق، جلد 05، صفحہ 146، مطبوعہ: قاہرۃ)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے "لو سلم المستاجر الاجرۃ نقدا ملکھا الآجر ولیس للمستاجر استردادھا۔ ۔ ۔ و ذلک مالم تنفسخ الاجارۃ قبل انتھاء مدتھا فللمستاجر حینئذ استرداد ما زاد من الاجرۃ من المدۃ" ترجمہ: اگر مستاجر نے اجرت نقدادا کر دی، تو کام کرنے والا اجرت کا مالک ہوجائے گا اور مستاجر اجرت واپس نہیں لے سکتا، بشرطیکہ مقررہ مدت کے ختم ہونے سے پہلے اجارہ فسخ نہ ہو۔ اور اگر اجارہ اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے فسخ ہوجاتا ہے، تو اب مستاجر کو باقی ماندہ اجرت واپس لینے کا حق حاصل ہوگا۔ (درر الحکام شرح مجلۃالاحکام، ج 01، ص 530، دار الجیل)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5148
تاریخ اجراء: 17 محرم الحرام 1448ھ / 03 جولائی 2026ء