جانور کے چارے کا خرچ پالنے والے کے ذمے لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جانور کے چارے وغیرہ کے اخراجات اجیر کے ذمے لگانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر میں اپنی گائے، بھیڑ یا بکری کسی دوست کو پالنے اور دیکھ بھال کے لیے دے دوں، اور ہمارے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ جانور کی خوراک، چارہ اور دیگر تمام اخراجات وہ اپنی طرف سے برداشت کرے گا، جبکہ میں صرف جانور کی دیکھ بھال کے عوض اسے اجرت دوں گا۔ مزید یہ کہ وہ اپنی خوشی سے چارہ وغیرہ کا خرچ مجھ سے وصول نہ کرے، بلکہ اسے اپنی طرف سے ہدیہ اور تعاون شمار کرے۔ کیا اس طرح کا معاہدہ شرعاً درست ہے؟ اور جانور پر ہونے والے اخراجات کو اپنی طرف سے بطورِ ہدیہ برداشت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
جانور کو پالنے اور دیکھ بھال کے لیے سوال میں ذکر کردہ طریقے کے مطابق معاہدہ کرنا شرعاً درست نہیں، بلکہ ناجائز و گناہ ہے، اس لیے کہ یہ اجارہ فاسدہ کی صورت ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ جانور کی دیکھ بھال، پالنے اور رکھوالی کے لیے کسی شخص کو اجرت پر رکھنا عقدِ اجارہ ہے، اور عقدِ اجارہ میں یہ شرط لگانا کہ جانور کا چارہ، علاج اور دیگر ضروری اخراجات اجیر، یعنی پالنے والے، کے ذمہ ہوں گے، شرطِ فاسد ہےکہ شرعاً جانور کا نفقہ اور ضروری اخراجات اس کے مالک کے ذمہ ہوتے ہیں۔ اور شرط فاسد سے عقدِ اجارہ فاسد ہو جاتا ہے، اس لیے ایسا معاہدہ کرنا جس میں چارے، علاج یا دیگر ضروری اخراجات کو پالنے والے پر لازم کیا جائے، جائز نہیں۔
البتہ اگر اجارہ درست طریقے سے کیا جائے، یعنی عقد میں یہ طے ہو کہ جانور کے تمام ضروری اخراجات مالک کے ذمہ ہوں گے، اور پالنے والے کو صرف جانور کی دیکھ بھال کی متعین اجرت دی جائے گی، پھر عقد کے بعد پالنے والا شخص، اپنی خوشی سے جانور کو چارہ ڈال دے ، یا اس کے علاوہ کوئی اور خرچ اپنی طرف سے بطورِ ہدیہ، احسان اور تبرع برداشت کرے، تو یہ صورت شرعاً جائز ہے۔ ایسی صورت میں وہ بعد میں مالک سے اس خرچ کی رقم کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں رکھے گا، کیونکہ اس نے وہ خرچ تبرعاً کیا ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو درست کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ عقدِ اجارہ میں جانور کے چارے، علاج اور دیگر ضروری اخراجات پالنے والے کے ذمے لازم نہ کیے جائیں، بلکہ یہ اخراجات مالک کے ذمے رہیں، پالنے والے کے لیے صرف دیکھ بھال کی اجرت الگ سے متعین کر دی جائے، اس کے بعد اگر پالنے والا اپنی خوشی سے تبرعاً چارہ یا کوئی اور خرچ برداشت کرے تو اس میں شرعا حرج نہیں۔
دوسری جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مالک جانور کے چارہ، خوراک، علاج اور دیگر ضروری اخراجات کی ایک متعین رقم الگ سے طے کر کے پالنے والے کو دے دے، اور اسے اپنی طرف سے وکیل بنا دے کہ وہ اس رقم سے جانور کا چارہ وغیرہ خریدے، اور جانور پر خرچ کرے۔ ان دونوں صورتوں میں معاملہ شرعاً درست ہوگا۔
شرح مختصر الكرخي میں ہے ”وقالوا فيمن استأجر عبدًا وشرط على المستأجر طعامه: لم يجز، وكذلك لو استأجر دابة وشرط على المستأجر علفها؛ لأن مقدار ذلك مجهول، والبدل المجهول لا يجوز العقد به“ ترجمہ : فقہائے کرام نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس نے کوئی غلام اجرت پر لیا اور مستأجر (کرایہ/اجرت پر لینے والے) پر اس کے کھانے کی شرط لگائی، تو یہ جائز نہیں۔ اسی طرح اگر کسی نے کوئی جانور اجرت پر لیا اور مستأجر پر اس کے چارے کی شرط لگائی، تو یہ بھی جائز نہیں؛ کیونکہ اس چارے کی مقدار مجہول ہے، اور مجہول بدل کے ذریعے عقد کرنا جائز نہیں ہوتا۔ (شرح مختصر الكرخي، جلد 05، صفحہ 234، دار أسفار، الكويت)
الاختيار لتعليل المختار میں ہے ”اعلم أن الإجارة تفسد بالشروط كما يفسد البيع، وكل جهالة تفسد البيع تفسد الإجارة من جهالة المعقود عليه أو الأجرة أو المدة؛ لما عرف أن الجهالة مفضية إلى المنازعة“ ترجمہ: جان لو کہ اجارہ بھی شرائطِ فاسدہ سے فاسد ہو جاتا ہے، جیسے بیع فاسد ہو جاتی ہے۔ اور ہر وہ جہالت جو بیع کو فاسد کرتی ہے، اجارے کو بھی فاسد کرتی ہے؛ خواہ وہ معقود علیہ کی جہالت ہو، اجرت کی ہو یا مدت کی؛ کیونکہ یہ معلوم ہے کہ جہالت نزاع تک پہنچاتی ہے۔ (الاختيار لتعليل المختار، جلد 02، صفحہ 357، دار الحدیث، القاهرة)
درر الحكام شرح مجلة الأحكام میں ہے”نفقة المأجور على الآجر، مثلًا علف الدابة التي استكريت وسقيها على صاحبها، ولكن لو أعطى المستأجر علف الدابة بدون إذن صاحبها تبرعًا ليس له أخذ ثمنه من صاحبها“ ترجمہ: مأجور چیز کا نفقہ آجر (مالک) پر ہے۔ مثلاً جو جانور کرایہ پر لیا گیا ہو، اس کا چارہ اور پانی اس کے مالک کے ذمہ ہے۔ لیکن اگر مستأجر نے مالک کی اجازت کے بغیر بطورِ تبرع جانور کو چارہ دے دیا، تو بعد میں اسے مالک سے اس چارے کی قیمت لینے کا حق نہیں ہوگا۔
اسی کی شرح میں آگے ہے ”حتى إنه إذا شرط على المستأجر الإنفاق على الدابة كانت الإجارة فاسدة؛ لأن ذلك ليس من مقتضيات العقد، وإنما هو شرط فيه نفع وفائدة للمؤجر“ ترجمہ: حتیٰ کہ اگر مستأجر پر جانور کا خرچ شرط کر دیا جائے تو اجارہ فاسد ہوگا؛ کیونکہ یہ شرط مقتضائے عقد میں سے نہیں، بلکہ ایسی شرط ہے جس میں مؤجر (مالک )کے لیے نفع اور فائدہ ہے۔ (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة: 561، جلد 1، صفحہ 646، دار الجيل)
امام محمد بن حسن الشيبانی رحمہ اللہ کی کتاب ”الأصل“ میں ہے ”قلت: أرأيت إذا استأجر الرجل دابة بكذا وكذا درهماً إلى بغداد على أن علفها على المستأجر، أيجوز ذلك؟ قال: لا. قلت: فكيف وجه الثقة في ذلك حتى يجوز ويصلح؟ قال: يسمي قدر علف الدابة، ويزيد ذلك في الأجر، ويوكله رب الدابة أن يعلفها بتلك الزيادة“ ترجمہ: میں نے پوچھا: اگر کوئی شخص ایک جانور کو اتنے اتنے درہم کے عوض بغداد تک کے لیے کرایہ پر لے، اس شرط پر کہ اس کا چارہ مستأجر/کرایہ دار کے ذمہ ہوگا، تو کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا: نہیں۔ میں نے پوچھا: پھر اعتماد کی کیا صورت ہے کہ معاملہ جائز اور درست ہو جائے؟ فرمایا: جانور کے چارے کی مقدار متعین کرے، اسے اجرت میں بڑھا دے، اور جانور کا مالک کرایہ دار کو وکیل بنا دے کہ وہ اس زائد رقم سے جانور کو چارہ کھلائے۔ (الأصل لمحمد، جلد 09، صفحہ 416، مطبوعہ: بيروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5139
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1448ھ/23 جون 2026ء