logo logo
AI Search

ٹی شرٹ پر جاندار کی تصویر پرنٹ کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ٹی شرٹ پر تصویر پرنٹ کرنے کا کام کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہم کسٹمر کےکہنے پر ٹی شرٹ کے اوپرتصویر بناتے ہیں، جس تصویروہ ڈیمانڈ کرے، اب وہ کوئی بھی ہو، اس طرح کا کام حلال ہے یا حرام؟

جواب

ٹی شرٹ پر جاندار کے چہرے والی تصویر بنانا ناجائز و گناہ ہے، لہذا اس طرح کا کام کرنا جائز نہیں ہے، اورجس نوکری میں کوئی ناجائزکام کرنا پڑے، وہ نوکری کرنابھی جائزنہیں ہے۔ ہاں! جاندارکی بیک سائیڈکی تصویربنا سکتے ہیں، جس میں چہرہ سامنے نہ ہو، یا چہرے کے علاوہ، صرف نیچے والے دھڑکی تصویربناسکتے ہیں، کہ تصویرمیں اصل چہرہ ہے۔ اسی طرح کسی بے جان چیز مثلاً درخت، پتھر پودے وغیرہ کی تصویر بنا سکتے ہیں۔ بخاری شریف کی حدیث پاک میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: إن أشد الناس عذابا عند اللہ يوم القيامة المصورون" ترجمہ: بے شک قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب والے وہ ہیں جو تصویر بنانے والے ہیں۔ (صحیح البخاری، صفحہ 1097، حدیث 5950،دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

شرح معانی الآثار میں ہے "عن ابی ھریرۃ، قال: الصورۃ الراس فکل شئی لیس لہ راس فلیس بصورۃ" ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: تصویر سر (چہرے) کا نام ہے، لہذا جس چیز کا سر نہ ہو وہ تصویر نہیں۔ (شرح معانی الآثار، باب الصور تکون فی الثیاب، ج 4، ص 287، عالم الكتب، بيروت)

سنن الترمذی میں ہے، حضرت سیدنا جبریل امین علی نبینا و علیہ الصلوۃ و التسلیم نے تصویروں کے متعلق نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: فمر برأس التمثال الذي بالباب فليقطع فيصير كهيئة الشجرة" ترجمہ: دروازے پر جو تصویر ہے، آپ اس کے متعلق حکم فرما دیجئے کہ اس کا سر کاٹ دیا جائے، تاکہ وہ درخت کی طرح ہو جائے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث 2806، ص 1026، دار ابن کثیر)

صحیح بخاری میں ہے "عن سعيد بن أبي الحسن قال:كنت عند ابن عباس رضي اللہ عنهما: إذ أتاه رجل فقال: يا أبا عباس، إني إنسان، إنما معيشتي من صنعة يدي، و إني أصنع هذه التصاوير. فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم ،سمعته يقول: (من صور صورة فإن اللہ معذبه حتى ينفخ فيها الروح، و ليس بنافخ فيها أبدا). فربا الرجل ربوة شديدة و اصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح" ترجمہ: حضرت سعید بن ابی الحسن سے مروی ہے،آپ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا، بولا اے ابن عباس! میں ایسا شخص ہوں کہ میری روزی میری ہاتھ کی کاریگری میں ہے، اور میں یہ تصویریں بناتا ہوں، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ میں تم کو نہیں خبر دیتا، مگر وہ جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے سنا، میں نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: جو کوئی تصویر بنائے گا تو اللہ تعالی اسے عذاب دے گا، یہاں تک کہ وہ اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح کبھی نہ پھونک سکے گا۔ تو وہ شخص بہت سخت ہانپااور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا، تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: افسوس ہے تجھ پر! اگر تجھے تصویر بنانی ہی ہے، تو اس درخت یعنی ہراس چیز کی بنا جس میں روح نہ ہو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 2225، ص 396،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے "قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم، و هو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث، سواء صنعه في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار أو غير ذلك" ترجمہ: ہمارے اصحاب اور دیگر علماء کرام نے فرمایا حیوانات کی تصویر بنانا شدید حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہے کیونکہ اس پر شدید وعید آئی ہے جو احادیث میں مذکور ہے۔ ( مرقاۃ المفاتیح، جلد 8، صفحہ 323، مطبوعہ: کوئٹہ)

خلاصۃ الفتاوی میں ہے "و إن کانت مقطوع الرأس لا بأس به، و کذا لو محی وجه الصورة فهو کقطع الرأس" ترجمہ: اور اگر تصویر کا سر کٹا ہوا ہو، تو اس میں حرج نہیں، اور ایسے ہی جس تصویر کا چہرہ مٹا دیا گیا ہو، تو وہ بھی کٹے سر کی طرح ہے۔ (خلاصۃ الفتاوی، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 58، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ایک وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے، جیسے یہ ملازمت جس میں سود کا لین دین، اس کا لکھنا پڑھنا، تقاضا کرنا اس کے ذمہ ہو، ایسی ملازمت خود حرام ہے، اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے، وہ مال حلال بھی اس کے لیے حرام ہے، مال حرام ہے تو حرام در حرام۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 515، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وقارالفتاوی میں ہے معصیت(ناجائزکام کرنے) پر اجرت بھی معصیت (ناجائز) ہوتی ہے۔ لہٰذا جس طرح تصویر بنانا حرام ہے، اس کی مزدوری لینا بھی حرام ہے۔ ( وقار الفتاوی، جلد 02، صفحہ 518، بزم وقارا لدین، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی فتوی نمبر: WAT-5182 تاریخ اجراء: 25 محرم الحرام 1448ھ / 11 جولائی 2026ء