logo logo
AI Search

لقطہ کے پیسے قرض دینا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا لقطہ کی رقم کسی کو قرض دینا جائز ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کو تقریباً نو ماہ پہلے کچھ رقم ملی۔ اُس نے پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کے اصل مالک کی تلاش کے لیے اعلان کروایا اور مختلف ذرائع سے اس کی تشہیر بھی کی، مگر اُس رقم کا اصل مالک نہیں ملا اور غالب گمان بھی یہی ہے کہ اب اس کا مالک نہیں آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اُس رقم کو کسی ضرورت مند کو قرض کے طور پر دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ رقم کو اُس کے اصل مالک تک پہنچانے کے لیے حتی المقدور ذرائع اختیار کیے، مگر مکمل تشہیر اور کوشش کے باوجود بھی مالک تک رسائی نہیں ہوئی، تو اُس رقم کو قرض کے طور پر دیا جا سکتا ہے، کیونکہ جب اُسے صدقہ کرنا، جائز ہے، تو قرض دینا بدرجۂ اولیٰ جائز ہوگا کہ صدقہ کی بنسبت قرض دینے میں فائدہ یہ ہے کہ اگر بعد میں اصل مالک آ جائے، تو وہ رقم قرض کی واپسی سے مالک کو ادا کی جا سکتی ہے، جبکہ صدقہ کر دینے کی صورت میں اگر مالک اس پر راضی نہ ہو، تو اُس رقم کو بہر صورت واپس کرنا ہوگی۔

لقطہ (یعنی گری پڑی چیز) کی تشہیر لازم ہے، یہاں تک کہ غالب گمان ہو کہ اب مالک نہیں آئے گا، چنانچہ علامہ زَیْلَعی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 743ھ / 1342ء) لکھتے ہیں:

عرف اللقطۃ الی ان یغلب علی ظنہ ان صاحبھا لا یطلبھا۔۔۔ ثم تصدق ای تصدق باللقطۃ اذا لم یجیئ صاحبھا بعد التعریف لان الواجب عليه حفظها و اداؤها الى اهلها

ترجمہ: (لقطہ اٹھانے والا شخص) لقطہ کا اعلان کرے، یہاں تک اسے ظنِ غالب ہو جائے کہ اب اس کا مالک اسے تلاش نہیں کرے گا۔۔۔ پھر جب اعلان کرنے کے بعد مالک نہ آئے، تو لقطہ کو صدقہ کر دے، کیونکہ اس پر اس لقطہ کی حفاظت کرنا اور اسے اس کے مستحق تک پہنچا نا واجب ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 3، صفحہ 302 - 304، مطبوعہ المطبعة الكبرى الاميرية، القاهرة)

لقطہ کی تشہیر کے بعد اُسے اپنے پاس رکھنے یا شرعی فقیر پر صدقہ کرنے کے متعلق بدا ئع الصنائع اور فتاوی عالمگیری وغیرہ کتبِ فقہیہ میں ہے،

و اللفظ للآخر: ثم بعد تعریف المدۃ المذکورۃ الملتقط مخیر بین أن یحفظھا حسبۃ و بین أن یتصدق بھا فإن جاء صاحبھا فأمضی الصدقۃ یکون لہ ثوابھا وإن لم یمضھا ضمن الملتقط أو المسکین إن شاء لو ھلکت فی یدہ فإن ضمن الملتقط لا یرجع علی الفقیر و إن ضمن الفقیر لا یرجع علی الملتقط و إن کانت اللقطۃ فی ید الملتقط أو المسکین قائمۃ أخذھا منہ

ترجمہ: پھر مذکورہ مدت کی تشہیر کے بعد لقطہ اُٹھانے والے کو اختیار ہے کہ ثواب کی نیت سے لقطہ کی حفاظت کرے یا اُسے صدقہ کر دے، پھر اگر مالک آ جائے اور صدقہ کو بر قرار رکھے(یعنی اس پر راضی ہو جائے)، تو اسے ثواب ملے گا، اور اگر صدقہ کو برقرار نہ رکھے اور وہ چیز بھی ہلاک ہو چکی ہو، تو وہ ملتقط (چیز اُٹھانے والے) یا مسکین (جسے صدقہ دیا گیا) میں سے جس سے چاہے تاوان لے سکتا ہے۔ اگر ملتقط سے تاوان لیا، تو ملتقط مسکین سے رجوع نہیں کر سکتا اور اگر مسکین سے تاوان لیا، تو مسکین ملتقط سے رجوع نہیں کر سکتا اور اگر وہ گمی ہوئی چیز ملتقط یا مسکین کے پاس موجود ہو، تو وہ اپنی چیز اسی سے لے لے گا۔ (الفتاوى الھندیۃ، كتاب اللقطہ، جلد 02، صفحہ 308، مطبوعہ کوئٹہ)

مذکورہ صورت میں جب لقطہ کو صدقہ کرنا، جائز ہے، تو قرض دینا بدرجۂ اولیٰ جائز ہوگا، جیسا کہ علامہ علاؤ الدین حَصْکَفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتے ہیں:

متى جاز للملتقط التصدق فالاقراض أولى

ترجمہ: جب لقطہ اُٹھانے والے کے لیے لقطہ کو صدقہ کرنا، جائز ہے، تو قرض دینا بدرجۂ اولیٰ جائز ہوگا۔

مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ  / 1836ء) لکھتے ہیں:

اذا نشد اللقطة ومضى مدة النشدات ينبغي ان يجوز له الاقراض من فقير لانه لو تصدق بها عليه في هذه الحالة جاز فالقرض أولى

ترجمہ: ملتقط جب لقطہ کی تشہیر کر چکے اور تشہیر کی مقررہ مدت گزر جائے، تو اس کے لیے کسی فقیر کو قرض دینا جائز ہوگا، کیونکہ اگر اسی حالت میں وہ اسے فقیر پر صدقہ کر دے، تو یہ جائز ہے، تو قرض دینا بدرجۂ اولیٰ جائز ہوگا۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب القضاء، جلد 08، صفحہ 126، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ”ملتقط نے اگر لقطہ کااُتنے زمانہ تک اعلان کر لیا جو اُس کے لیے مقرر ہے اور مالک کا پتہ نہ چلا، اب اگر یہ قرض دینا چاہے دے سکتا ہے، کیونکہ جب اس وقت اس کو تصدق (صدقہ) کرنا جائز ہے، تو قرض دینا بدرجۂ اولیٰ جائز ہو گا۔ (بھارِ شریعت، جلد02، حصہ 12، صفحہ908، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9771
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم1447ھ / 30 جنوری2026ء