پتنگ اور ڈور کٹ کر گھر میں آجائے تو کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کسی کی پتنگ اور ڈور کٹ کر گھر میں آ جائے تو کیا حکم ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کی پتنگ ہمارے گھر میں آکر گرے تو اس پتنگ اور اس کی ڈور کا کیا کیا جائے؟ کیا دونوں چیزیں مالک کو واپس کرنا ہوں گی؟
جواب
قوانین شرعیہ کی رو سےاگر کسی کی پتنگ گھر میں آکر گر جائے تو اگر لڑائی جھگڑے کا خطرہ نہ ہو تو اسے پھاڑدیا جائے اور صحیح و سالم پتنگ نہ ہی اڑانے والے کو واپس دی جائے اور نہ ہی کسی اور کو دی جائے، البتہ پتنگ کی ڈور کے متعلق حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر اصل مالک آکر مانگتا ہے تو اسے دے دی جائے، یا اصل مالک کا پتا ہے تو اسے پہنچائی جائے اور اگر معلوم نہ ہو سکے کہ کس کی ہے تو کسی ایسے شرعی فقیر کو دیدیں، جو اسے کسی جائز کام میں استعمال کرے گا، اور اگر خود شرعی فقیر ہو ں تو اپنے جائز استعمال میں بھی لا سکتے ہیں، البتہ اگر بعد میں اصل مالک آکر اس تصدق پر راضی نہ ہو تو اسے اس ڈور کا معاوضہ دینا ہوگا۔
تفصیل یہ ہے کہ موجودہ دور میں جس انداز میں پتنگ بازی رائج ہے، یہ ایذائے مسلم، پڑوسیوں کے حقوق کی بربادی، گردنیں کاٹنے، راہ گیروں کو زخمی کرنے، لہو و لعب اور اس طرح کے محرمات کا مجموعہ ہے، لہٰذا پتنگ اڑانا، بنانا اور فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اور اگر کسی مقام پر پتنگ اڑانا، بنانا اور فروخت کرنا قانوناً جُرم ہو، جس کے مرتکب کو سزا اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو وہاں ایسے قانون کی خلاف ورزی کرنا بھی شرعاً جائز نہیں ہوگا، نیز پتنگ صرف اڑانے کے لئے ہی بنایا جاتا ہے، اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے نہیں بنایا جاتا، لہٰذا یہ گناہ کے لئے ہی متعین ہیں اور جو چیز گناہ کے کام کے لئے متعین ہو، شریعت مطہرہ میں اس کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ایسی چیز شرعاً مالِ متقوم بھی شمار نہیں ہوتی کہ مفتیٰ بہ قول کے مطابق اس کے ضائع کرنے والے پر تاوان لازم نہیں ہوتا، لہٰذا جب پتنگ کو ختم کرنے پر قدرت ہو تو اس کو پھاڑ دیا جائے، تاکہ سبب معصیت ختم ہو اور مسلمانوں سے ضرر بھی دور ہو جو کہ شرعاً مطلوب ہے۔
البتہ پتنگ کے ساتھ موجود ڈور گناہ کے کام کے لئے متعین نہیں ہوتی، اس کو پتنگ اڑانے کے علاوہ دیگر کاموں (کسی چیز کو باندھنے کے لئے، پردے لٹکانے وغیرہ) کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ مالِ متقوم ہوتی ہے، اور اصل مالک کی ملک ہوتی ہے، لہٰذا اگر اصل مالک آکر ڈور مانگتا ہے تو اس کو دیدی جائے، یا اس کے اصل مالک کا پتا ہو تو یہ ڈور اس تک پہنچائی جائے، ورنہ اس کا حکم مثلِ مال لقطہ ہوگا۔
کسی کی پتنگ گھر میں آکر گرے تو اس کو پھاڑنے کے متعلق اعلیٰ حضرت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ) لکھتے ہیں: ”کَنکَیّا(پتنگ) لوٹنا حرام، اور خود آکر گر جائے تو اُسے پھاڑ ڈالے، اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے توڈور کسی مسکین کودے دے کہ وہ کسی جائزکام میں صَرْف کرلے، اور خود مسکین ہو تو اپنے صَرْف(استِعمال) میں لائے، پھر جب معلوم ہوکہ فُلاں مُسْلِم کی ہےاور وہ اس تصدق یا اس مسکین کے اپنے صَرْف پر راضی نہ ہو تودینی آئے گی اورکَنکَیاکا مُعاوَضہ بَہرحال کچھ نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 660، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
احکام شریعت میں ایک سوال (پتنگ اڑانا اور اس کی ڈُور لوٹنا کیسا ہے؟) کے جواب میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’کَنْکَیَّا اُڑانا لَہْو و لَعِب اور لہو ناجائز ہے۔۔۔ڈور لوٹنا نہبٰی(لوٹ مار) اور نہبیٰ حرام ہے کہ حُضورِ پُرنور، شافِعِ یومُ النُّشُورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار سے منع فرمایا۔ لوٹی ہوئی ڈور کا مالک اگر معلوم ہو تو فرض ہے کہ اسے دے دی جائے اور اگر مالک نہ ہوتو وہ لُقْطہ ہے۔‘‘ (احکامِ شریعت، حصہ اول، صفحہ 59، 60، مطبوعہ اکبر بک سیلرز لاھور، ملخصاً)
گانے باجے کے آلات، بت اور صلیب معصیت کے لئے متعین ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے ان چیزوں کو توڑنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ مسنداحمد کی حدیثِ پاک میں ہے: ”عن ابي امامة قال قال رسول اللہ صلى الله عليه وآلہ وسلم: ان اللہ بعثني رحمة للعالمين، وهدى للعالمين، وامرني ربي بمحق المعازف والمزامير والاوثان والصلب“
ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک میرے رب عزوجل نے مجھے دونوں جہانوں کے لئے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے گانے بجانے کے آلات، بت اور صلیب توڑنے کا حکم دیا ہے۔ (مسند احمد، حدیث ابو امامہ باھلی، جلد 36، صفحہ 640، مؤسسہ الرسالہ)
جو چیز معصیت کے لئے متعین ہو، اس کو ختم کرنے پر ضمان لازم نہیں ہوتا کہ یہ مال متقوم نہیں ہوتا، چنانچہ نہایہ شرح ہدایہ میں ہے:
”لايضمن خمر المسلم بالاستهلاک۔۔۔۔ضمان من كسر بربطا أو مزمارا۔أن هذه الأشياء أعدت للمعصية فبطل تقومها۔۔ و قيل: يراق العصير أيضا قبل أن يشتد ويقذف بالزبد على من اعتاد الفسق‘‘
ترجمہ: مسلمان کی شراب کو ہلاک کرنے سے ضمان لازم نہیں ہوگا (کہ یہ مال متقوم نہیں ہے)۔۔۔جس نے بربط (ایک قسم کا آلہ موسیقی ہے)، یا آلات موسیقی کو توڑا، تو اس پرضمان کا حکم۔ بیشک یہ اشیاء معصیت کےلئے تیار کی جاتی ہیں، تو ان کا مال متقوم ہونا باطل ہوگیا (تو ان کے توڑنے پر ضمان بھی لازم نہیں ہوگا)۔۔۔۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو شخص فسق کا عادی ہو، اس کے پاس موجود انگور کا رس، جو ابھی نشہ آور نہ بنا ہو اور اس میں جھاگ نہ آئی ہو کو بہا دیا جائے گا۔ (نھایہ شرح الھدایہ، جلد 21، صفحہ 204، 206، مركز الدراسات الإسلامية)
علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں:
”الفتوٰی علی قولھما فی عدم الضمان بکسر المعازف و ھی الات اللھو کالطنبور ‘‘
ترجمہ: آلات لہو جیسا کہ ڈھول، ان کو توڑنے پر ضمان نہ ہونے کے متعلق صاحبین کے قول پر فتوٰی ہے۔ (بحر الرائق، جلد 03، صفحہ 45، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ) لکھتے ہیں: ”طبلہ، سارنگی، ستار، یکتارا، دوتارا (یہ سب آلات موسیقی ہیں)، ڈھول اور ان کے علاوہ دوسری قسم کے باجے کسی نے توڑ ڈالے توڑنے والے کو تاوان دینا ہوگا، مگر تاوان میں باجے کی قیمت نہیں دی جائے گی بلکہ اوس قسم کی لکڑی کُھدی ہوئی باجے کے سوا اگر کسی جائز کام میں آئے اُس کی جو قیمت ہو وہ دی جائے، یہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے، مگر صاحبین کے قول پر فتویٰ ہے وہ یہ کہ توڑنے والے پر کچھ بھی تاوان واجب نہیں، بلکہ ان کی بیع بھی جائز نہیں اور یہ اختلاف اُسی صورت میں ہے، جب وہ لکڑی کسی کام میں آسکتی ہو ورنہ بالاتفاق تاوان نہیں۔‘ (بہارِ شریعت، جلد 03، صفحہ 227، مکتبۃ المدینہ کراچی)
لوگوں سے ضررکودورکرنے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےارشاد فرمایا:
’’لا ضرر ولا ضرار، من ضار ضرہ اللہ، و من شاق شق اللہ علیہ‘‘
ترجمہ: نہ ضررلو، نہ ضرردو، جوضرردے اللہ عزوجل اس کوضرردے اورجومشقت کرے اللہ عزوجل اس پر مشقت ڈالے۔ (سنن الدارقطنی، جلد 4، صفحہ 51، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
جس چیز کیساتھ معصیت بھی ہو سکتی ہو اور اس کا جائز استعمال بھی ہو تو اس کا جائز استعمال کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، چنانچہ سنن الکبرٰی للبیہقی میں ہے:
”فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اهريقوا ما فيها، واكسروا قدورها، فقام رجل من القوم فقال: نهريق ما فيها ونغسلها؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او ذاك۔رواه البخاري في الصحيح۔ وكأنه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسبها لا ينتفع بها وقد طبخ فيها المحرم، فأمر بكسرها، فلما أخبر أن فيها منفعة مباحة ترك كسرها‘‘
ترجمہ: (فتح خیبر کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان برتنوں میں جو (شراب )ہے، اس کو انڈیل دو اور برتنوں کو توڑدو، ایک شخص نے عرض کی، ہم شراب کو انڈیل دیں اور ان برتنوں کو دھو لیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسے ہی کر لو، اس حدیثِ پاک کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری میں روایت کیا ہے، (امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ )گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خیال فرمایا کہ ان برتنوں سے (شراب پینےکے علاوہ) نفع نہ اٹھایا جائے اس حال میں کہ ان برتنوں میں حرام چیز کو پکایا گیا تھا۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان برتنوں کو توڑنے کا حکم ارشادفرمایا، لیکن جب یہ درخواست کی گئی کہ ان برتنوں کا جائز استعمال بھی ممکن ہے (تو کیوں نہ وہی کر لیا جائے) تو ان کو توڑنے کو چھوڑنے کی اجازت دیدی۔ (سنن الکبرٰی للبیہقی، جلد 06، صفحہ 168، دار الکتب العلمیہ بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0206
تاریخ اجراء: 03 شعبان المعظم 1447 ھ /23 جنوری 2026ء