گونگے شخص کو قرآن دیکھنے کا ثواب ملیگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گونگا شخص قرآن کی زیارت کرے، تو کیا ثواب ملے گا؟ اور کیا یہ ثواب ایصال بھی کر سکتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گونگا شخص جو قرآنِ پاک کی تلاوت نہیں کر سکتا، اگر وہ شروع سے لے کر آخر تک پورے قرآن کی زیارت کرتا ہے، تو کیا اسے ثواب ملے گا؟ نیز کیا وہ یہ ثواب کسی کو ایصال بھی کر سکتا ہے؟
جواب
قرآنِ کریم ایسی بابرکت کتاب ہے کہ اسے پڑھنا، چھونا، دیکھنا اور اس کے مفاہیم پر غور و فکر کرنا، سب عبادت ہے۔ لہذا گونگا شخص اگر قرآنِ کریم کی زیارت کرتا اور اسے چھوتا ہے، تو اسے دیکھنے اور چھونے کا ثواب ملے گا، بلکہ حضرت عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ تعالی عنہ کے عمل سے بھی ثابت ہے کہ آپ بسا اوقات عبادت کی غرض سے محض قرآنِ پاک کی زیارت کرتے رہتے تھے۔ نیز گونگا شخص یہ ثواب دوسروں کو ایصال بھی کر سکتا ہے، کیونکہ قرآنِ کریم کو دیکھنا و چھونا بدنی عبادت میں شمار ہوتا ہے اور مالی و بدنی ہر طرح کی عبادات کا ثواب دوسروں کو ایصال کیا جا سکتا ہے۔
قرآنِ کریم کو دیکھنا عبادت ہے، اسی وجہ سے دیکھ کر قرآنِ پاک کی تلاوت افضل ہے۔ چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’قراءة الرجل القرآن في غير المصحف الف درجة و قراءته في المصحف يضاعف على ذلك الى الفي درجة‘‘ ترجمہ: آدمی کا قرآنِ کریم کو دیکھے بغیر تلاوت کرنا ایک ہزار درجے ثواب ہے اور قرآنِ کریم دیکھ کر تلاوت کرنا اس پر دو ہزار درجے تک فضیلت رکھتا ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی، ج 1، ص 221، حدیث: 601، مطبوعہ القاہرہ)
اس حدیثِ پاک کے تحت مراٰۃ المناجیح میں ہے: یعنی حفظ تلاوتِ قرآن کا ثواب دیگر عبادت سے ہزار گنا زیادہ ہے ۔۔ قرآن کریم میں دیکھ کر تلاوت کرنے کا ثواب دوسری عبادات سے دو ہزار گنا زیادہ یا حفظ تلاوت سے دو ہزار حصہ زیادہ ہے، کیونکہ قرآن کریم دیکھنا بھی عبادت ہے اور اس کی تلاوت بھی عبادت، تو دیکھ کر پڑھنے والا دوہری عبادت کرتا ہے اور حفظ تلاوت کرنے والا ایک عبادت کرتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ج 3، ص 268، مطبوعہ حسن پبلشرز)
مزید نبی کریم رؤوف رحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اعطوا اعينكم حظها من العبادة، قيل: يا رسول اللہ و ما حظها من العبادة قال: النظر في المصحف و التفكر فيه و الاعتبار عند عجائبه“ ترجمہ: اپنی آنکھوں کو ان کی عبادت کا حصہ دو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! آنکھ کی عبادت کا حصہ کیا ہے؟ فرمایا: قرآن پاک کی زیارت کرنا، اس میں غور و فکر کرنا اور اس کے عجائبات سے نصیحت حاصل کرنا۔ (شعب الایمان، ج 3، ص 509، حدیث: 2029، مطبوعہ مکتبۃ الرشد)
حضرت عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ تعالی عنہ بھی بسا اوقات محض قرآن کی زیارت کرتے تھے ۔چنانچہ شعب الایمان میں ہے: ’’كان عبد اللہ بن المبارك ربما يقلب المصحف و لا يقرأ للحديث الذی جاء: النظر في المصحف عبادة، و كان اذا ختم القرآن اكثر دعاءه للمؤمنين و المؤمنات‘‘ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ تعالی عنہ بسا اوقات قرآنِ کریم کے صفحات الٹ پلٹ کرتے رہتے اور اس وقت تلاوت نہیں کرتے تھے، اس حدیث کی وجہ سے کہ جس میں ہے: قرآنِ کریم کو دیکھنا بھی عبادت ہے اور جب آپ قرآن ختم کرتے، تو مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بہت زیادہ دعا کرتے۔ (شعب الایمان، ج 3، ص 516، حدیث: 2046 مطبوعہ مکتبۃ الرشد)
قرآنِ پاک کو دیکھنا و چھونا بدنی عبادت ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: بہت عبادات بدنیہ ہیں، جن میں طہارت شرط نہیں، جیسے یاد پر تلاوت ۔۔ اور قرآن عظیم کو بے چُھوئے دیکھنا ۔۔ یہ سب عباداتِ بدنیہ ہیں ۔۔ دار قطنی وغیرہ کی روایت یوں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ و سلم: ’’خمس من العبادۃ النظر الی المصحف و النظر الی الکعبۃ و النظر الی الوالدین و النظر فی زمزم و ھی تحط الخطایا و النظر فی وجہ العالم‘‘ ترجمہ: پانچ چیزیں عبادت سے ہیں: مصحف کو دیکھنا، کعبہ کو دیکھنا، ماں باپ کو دیکھنا اور زمزم کے اندر نظر کرنا اور اس سے گناہ اُترتے ہیں اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 557 تا 558 ملتقطاً، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بدنی و مالی اور ان دونوں سے مرکب عبادات کا ثواب دوسروں کو پہنچانے کے متعلق البنایہ شرح الہدایہ میں ہے: ’’ان الانسان له ان يجعل ثواب عمله لغيره ۔۔ يعني سواء كان جعل ثواب عمله لغيره صلاة او صوما او صدقة او غيرها كالحج و قراءة القران و الاذكار و زيارة قبورالانبياء و الشهداء و الاولياء و الصالحين و تكفين الموتى و جميع انواع البر و العبادة مالية كالزكاة و الصدقة و العشور و الكفارات و نحوها او بدنية كالصوم و الصلاة و الاعتكاف و قراءة القرآن و الذكر و الدعاء او مركبة منهما كالحج و الجهاد‘‘ ترجمہ: انسان کےلئے جائز ہے کہ وہ اپنے اعمال کا ثواب دوسروں کو پہنچائے، یعنی نماز، روزہ، صدقہ اور ان کے علاوہ حج، قراءت قرآن، ذکر و اذکار، انبیاء، شہداء، اولیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت، مردوں کی تکفین الغرض ہر قسم کی نیکی اور عبادت، چاہے عبادت مالی ہو جیسے زکوٰۃ، صدقہ، عشر، کفارے وغیرہ یا عبادت بدنی ہو جیسے روزہ، نماز، اعتکاف، قراءتِ قرآن، ذکر، دعا یا عبادت بدنی اور مالی کا مجموعہ ہو جیسے حج اور جہاد (ان تمام اعمال کا ثواب دوسرے کو پہنچانا، جائز ہے)۔ (البنایہ شرح ہدایہ، ج 4، ص 466، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0131
تاریخ اجراء: 11 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 29 اپریل 2026ء