نبی کریم ﷺ اپنی قبر مبارک میں درودِ پاک سنتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام اپنی قبر مبارک میں درود سنتے ہیں، اس پر دلائل
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال یہ ہے كہ ہم اہلسنت وجماعت کا عقیدہ ہے، درودپاک پڑھنے والاکہیں سے بھی درودپڑھے، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اپنے مزار اقدس میں سماعت فرماتے ہیں۔ اس پر تفصیلی دلیل کیا ہے؟
جواب
اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی دنیا کے کسی بھی حصے سے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر درودِ پاک پڑھتاہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اسے سماعت فرماتے ہیں، اور اس کاجواب بھی ارشادفرماتے ہیں۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم خود ارشاد فرماتے ہیں: ليس من عبد يصلّي عليّ إلا بلغني صوته حيث كان" ترجمہ: جو بھی شخص مجھ پر درود پاک پڑھتا ہے اس کی آواز مجھے پہنچتی ہےخواہ وہ کہیں بھی ہو۔ (سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، جلد 12، صفحہ 358، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ایک روایت میں مزید ان الفاظ کا اضافہ ہے "قلنا: و بعد و فاتك؟ قال: وبعد وفاتي إن اللہ عزَّ وجلَّ حرم على الأرض أن ياکل أجساد الأنبياء" ترجمہ: صحابہ فرماتے ہیں ہم نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیا آپ کے دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد بھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں میرے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی کہ اللہ تعالی نےزمین پر حرام فرمادیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔ (البدر التمام شرح بلوغ المرام، جلد 5، صفحہ 406، مطبوعه: بیروت)
المعجم الکبیر للطبرانی میں حضرت عبدالله بن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:إن اللہ عز وجل قد رفع لي الدنيا، فأنا أنظر إليها وإلى ما هو كائن فيها إلى يوم القيامة، كأنما أنظر إلى كفي هذه؛" ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے پوری دنیا کو اس طرح نمایاں کر دیا ہے کہ میں اسے اور قیامت تک اس میں پیش آنے والے تمام حالات و واقعات کو ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انکشاف ہے، جو اس نے اپنے نبی پر فرمایا، جس طرح اس سے پہلے بھی انبیائے کرام علیہم السلام پر ایسے حقائق منکشف فرمائے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 13، صفحہ 318، رقم الحدیث 14112، مطبوعہ: بیروت)
رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم کا مبارک فرمان ہے "إني أرى ما لا ترون وأسمع ما لا تسمعون" یعنی میں ہر اس چیز کو دیکھتا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے اور ہر اس آواز کو سنتا ہوں جسے تم نہیں سنتے۔ ( مشكاة المصابيح، ج 3، ص 1469، الحدیث: 5347، مطبوعہ: بيروت)
شارحِ بخاری، حضرت علامہ مولانا سیِّد غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس روایت کے تحت فرماتے ہیں: ہر وہ آواز اس میں داخل ہے جس کو مُخاطَبین (یعنی جن سے خطاب فرمایا) نہیں سنتے خواہ وہ عالَم کے کسی گوشے سے اٹھے، کُرّۂ زمین کی ہو یا کُرّۂ آب کی ، کُرّۂ ہوا کی ہو یا کُرّۂ نار کی، کُرّۂ سماوات کی ہو یا عرش و کرسی کی ، خواہ انسان کی آواز ہو یا حیوانات کی، نَباتات (پودوں وغیرہ) کی ہو یا جمادات (پتھر وغیرہ بے جان چیزوں) کی، جِنّات کی ہو یا فرشتوں کی یا ایسی مخلوق کی آواز ہوجس کو ہم نہیں جانتے۔ ۔ ۔ غرض کہ تمام عالَم کی جملہ آوازوں پر یہ کلمہ مشتمل ہے۔ (بشیر القاری بشرح صحیح بخاری، ص14، میر محمد کتب خانہ، کراچی)
سلام کاجواب ارشادفرمانے کے متعلق سنن ابی داؤد میں ہے"عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: ما من أحد يسلم علي إلا رد اللہ علي روحي حتى أرد" ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی مجھ پر سلام عرض کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، ج 3، ص 384، مطبوعہ: بیروت)
علّامہ تقی الدین علی سُبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریرفرماتے ہیں: قد تضمنت الاحادیث المتقدمۃ: ان روح النبی صلی اللہ علیہ و سلم ترد علیہ، و انہ یسمع ویرد السلام" ترجمہ: احادیثِ مذکورہ اس بات کو متضمن ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی روح مبارک آپ علیہ الصلوۃ والسلام پر لوٹا دی جاتی ہے، اور اس بات کوبھی کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام، سلام کو سنتے ہیں اور اس کا جواب مرحمت فرماتے ہیں۔ (شفاء السقام، صفحہ 390، دارا لکتب العلمیۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5150
تاریخ اجراء: 17 محرم الحرام 1448ھ / 03 جولائی 2026ء