logo logo
AI Search

اجنبی مسلمان کو ایصال ثواب پہنچا سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اجنبی مسلمان کو ایصال ثواب پہنچانے سے فائدہ ہوتا ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ا گر کوئی کسی ایسے مسلمان کو اس کا نام لے کر بلا ناغہ روزانہ ایصال ثواب کرتا ہے، جو کہ ایصال ثواب کرنے والے کو اپنی زندگی میں جانتا تک نہیں تھا، اُسے دنیا سے گئے ہوئے بھی مدت ہوئی ہے، تو کیا یہ ایصال ثواب اُسے پہنچے گا اور اس کے لیے باعث مغفرت ہوگا یا نہیں؟ نیز بھیجنے والے کو بھی فائدہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

ایصالِ ثواب کا فائدہ صرف جان پہچان تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان کو چاہے اُسے جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، ایصالِ ثواب کیا جائے، تو اُسے ثواب پہنچتا ہے اور کرنے والے کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ احادیث مبارکہ اور فقہی جزئیات سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ ایصال ثواب سے مردے کو فائدہ حاصل ہونا اور ایصال ثوا ب کرنے والے کو اجر و ثواب ملنا، ان کے درمیان باہمی تعارف پر موقوف نہیں، بلکہ یہ ایک عام اور وسیع نفع ہے، جو تمام مسلمانوں کو شامل ہے۔

(1) حدیث پاک سے ثابت ہے کہ جو شخص قبرستان جا کر گیارہ (11) بار سورہ اخلاص (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) پڑ ھ کر اس کا ثواب قبرستان والوں کو بخشے تو پڑھنے والے کو قبرستان میں موجود مُردوں کی تعداد کے برابر اجر دیا جاتا ہے۔

(2) ایک حدیث پاک میں فرمایا کہ جو شخص قبرستان میں جا کر سورہ فاتحہ، سورہ اخلاص اور سورۃ تکاثر(اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ) پڑھے پھر کہے کہ اے اللہ عزوجل! میں نے جو کچھ قرآن پڑھا، اُس کا ثواب اِس قبرستان کے مؤمن مَرد وں اور مؤمن عورتوں کو ایصال کرتا ہوں، تو اس کی برکت سے قیامت کے دن وہ سب مُردے ایصالِ ثواب کرنے والے کے سِفارشی ہو ں گے۔

(3) ایک حدیث مبارک میں ہے کہ قبرستان جا کر سورۃ یٰس پڑھ کر تمام قبر والوں کو ایصال ثواب کیا جائے، تو اللہ تعالیٰ اُن قبر والوں سے عذاب میں کمی فرماتا اور پڑھنے والے کو قبرستان میں موجود مُردوں کے برابر نیکیاں ملتی ہیں۔

ان تینوں احادیث میں قبرستان کے تمام مؤمن مَرد وں اور مؤمن عورتوں کو ایصال ثواب کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی شخص قبرستان میں ہر قبر والے کو جانتا پہچانتا نہیں ہے، مگر اس کے باوجود احادیث مبارکہ سے ان تمام مُردوں کو فائدہ ہونا اور پڑھنے والے کو ان کی تعداد کے برابر اجر ملنا، اُن مُردوں کا اس کے حق میں سفارشی ہونا ثابت ہوتا ہے۔

احادیث ملاحظہ ہوں:

علامہ محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ ’’عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’روى أبو بكر النجار في كتاب (السنن) عن علي بن أبي طالب، رضي الله تعالى عنه، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (‌من ‌مر ‌بين ‌المقابر ‌فقرأ: قل هو الله أحد، أحد عشر مرة، ثم وهب أجرها للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات)‘‘ ترجمہ: امام ابو بکر نجار نے اپنی کتاب "السنن" میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قبرستان سے گزرے اور(سورہ اخلاص یعنی) "قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ" گیارہ مرتبہ پڑھے، پھر اس کا ثواب مردوں کو بخش دے، تو اسے مردوں کی تعداد کے برابر اجر دیا جائے گا۔ (عمدۃ القاری، جلد 3، صفحہ 118، دار الفکر، بیروت)

علامہ عبد الرحمن بن ابو بكر جلال الدين سيوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ ’’شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور‘‘ میں اور علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشكاة المصابيح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’وأخرج أبو القاسم بن علي الزنجاني في فوائده عن أبي هريرة قال قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ‌من ‌دخل ‌المقابر ‌ثم ‌قرأ ‌فاتحة ‌الكتاب و {قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ} و {اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ} ثم اللهم إني جعلت ثواب ما قرأت من كلامك لأهل المقابر من المؤمنين والمؤمنات كانوا شفعاء له إلى اللہ تعالى۔۔۔وأخرج عبد العزيز صاحب الخلال بسنده عن أنس: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: «من دخل المقابر فقرأ سورة يس خفف اللہ عنهم، وكان له ‌بعدد ‌من ‌فيها ‌حسنات»‘‘ملتقطاً۔ ترجمہ: امام ابو القاسم بن علی زنجانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "فوائد" میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں داخل ہو، پھر سورۃ الفاتحہ، "قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ" اور "اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ" پڑھے، پھر کہے: اے اللہ! میں نے جو تیرے کلام میں سے پڑھا، اُس کا ثواب قبرستان والوں میں سے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے لیے ایصال کر دیا، تو وہ (اہلِ قبور) اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کرنے والے بن جائیں گے۔۔۔امام عبد العزیز صاحبِ خلال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں داخل ہو کر سورۃ یٰس پڑھے، اللہ تعالیٰ ان قبر والوں پر سے عذاب میں تخفیف فرما دیتا ہے، اور پڑھنے والے کو وہاں موجود مُردوں کی تعداد کے برابر نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔ (شرح الصدور، صفحہ 304، 303دار المعرفة - لبنان) (مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 1228، دار الفكر، بيروت - لبنان)

(4) کتبِ فقہ میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ ایصالِ ثواب میں تمام مسلمان مَردوں اور عورتوں کی نیت کرنا مستحب و افضل ہے۔ اس صورت میں ثواب سب کو پہنچتا ہے اور ثواب ایصال کرنے والے کے اپنے اجر میں بھی کمی نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کہ تمام مسلمان مرد و عورت کو جاننا پہچاننا ممکن نہیں، لیکن اس کے باوجود فقہائے کرام نے عمومی نیت کے ذریعے سب تک ثواب کے پہنچنے کو بیان فرمایا۔

فقہی جزئیات ملاحظہ ہوں:

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: ’’فی زکاۃ التاترخانیۃ عن المحیط: الأفضل لمن یتصدق نفلا أن ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لأنھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شئ‘‘ ترجمہ: تاترخانیہ کے کتاب الزکوۃ میں محیط کے حوالے سے ہے: کہ جو نفلی صدقہ کرے اس کیلئے افضل ہے کہ وہ تمام مؤمنین و مؤمنات کی نیت کر لے اس لئے کہ اس کا ثواب ان سب کو پہنچے گا اور اس کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 180، دارالمعرفۃ، بیروت)

موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: ’’ويستحب في الصدقة أن ‌ينوي ‌المتصدق ثوابها لجميع المؤمنين والمؤمنات‘‘ ترجمہ: صدقہ کرتے وقت مستحب ہے کہ صدقہ کرنے والا تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے صدقے کا ثواب ایصال کرنے کی نیت کرے۔ (موسوعۃ فقھیہ کویتیہ، جلد 26، صفحہ 339، دار الصفوة - مصر)

فتاوی امجدیہ میں مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ایصال ثواب مستحب ہے۔ اور جو کچھ نیک کام کیا ہو اور اس کا ثواب کسی کو پہنچانا چاہتا ہو تو یہ دعا کرے کہ الہی اسے قبول فرما اور اس کا ثواب فلاں فلاں کو پہنچا۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ جمیع مومنین و مومنات کو پہنچائے۔ امید کہ سب کو پورا پورا ثواب ملے اور اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو بلکہ سب کے مجموعے کے برابر ملے‘‘۔(فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 336، مکتبہ رضویہ، کراچی)

(5) سب سے واضح اور نمایاں دلیل یہ ہے کہ ایصالِ ثواب ہی کی طرح دعا کے ذریعے دوسروں کو نفع پہنچایا جاتا ہے اور دعا کے ذریعے نفع پہنچانے میں دنیا میں مسلمان جو دعا مانگتے ہیں اور جس کے بنیادی الفاظ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ماخوذ ہیں، ان میں تمام مومنوں کے لئے دعا کی جاتی ہے جنہیں ہم یقینا نہیں جانتے، چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ﴾ کنزالعرفان: اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔ (سورہ ابراہیم آیت 41)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1166
تاریخ اجراء: 02 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 20 اپریل 2026ء