logo logo
AI Search

جس کا کوئی پیر نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے یہ کس کا قول ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس کا کوئی پیر نہ ہو، اس کا پیر شیطان ہوتا ہے اس قول کے متعلق تفصیل

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

”جس کا کوئی پیر نہ ہو، اس کا پیر شیطان ہوتا ہے“ یہ حدیث پاک ہے یا اولیائے کرام کا قول ہے؟

جواب

"جس کا کوئی پیر نہ ہو، اس کا پیر شیطان ہوتا ہے" یہ حدیث پاک نہیں، بلکہ اولیائے کرام کا قول ہے، اوراس سے مراد:

(الف)ایک تووہ ہے کہ جس کاعقیدہ خراب ہو، خواہ پہلے ہی سے خراب تھا یا پہلے درست تھا، راہ سلوک پر چلا اور اس کی راہ اس پر نہ کھلی لیکن پھربھی انکار اور عقیدے کا فساد اس میں آگیا۔

(ب)اور دوسرا وہ کہ اگرچہ صحیح عقیدہ رکھتا تھا، لیکن راہ سلوک پر چلا اور وہ راہ اس پر کھلی، لیکن اس کی دشوار گزار گھاٹیوں کو عبور کرنے کے لیے کوئی ایسا پیر نہیں پکڑا، کہ جو اس راہ میں آنے والی مشکلات کا اسے علاج و حل بتائے، اور یہ اس کی ہرہربات دل و جان سے تسلیم کرکے ان پرعمل کرے، اور اس کے ہاتھ میں ایسا ہوجائے جیسا مردہ، زندہ کے ہاتھ میں، کہ ان گھاٹیوں میں اگر ایسا پیر پکڑ کر اس کی پورے طور پر اطاعت نہ کی جائے، تو انسان عموما ہلاکت و بربادی سے دو چار ہو جاتا ہے، اور ایسے کا پیرشیطان ہوگا۔

اس کی مزیدتفصیل درج ذیل ہے:

مرشدکی دواقسام ہیں:

ایک: مرشد عام: یعنی کلام اللہ اور کلام رسول (عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم)، ائمہ شریعت وطریقت کا کلام اور علمائے دین کا کلام، اس ترتیب سے کہ عوام کا ہادی کلام علما، علما کا رہنما کلام ائمہ، ائمہ کا مرشد کلام رسول، رسول کا پیشوا کلام اللہ۔(جل و علا وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم)

دوم: مرشد خاص: عالم سنی صحیح العقیدہ، صحیح الاعمال، جامع شرائط پیر و شیخ۔

پھر مرشد خاص کی دو اقسام ہیں:

ایک: شیخ اتصال: کہ سلسلہ متصل ہو، سنی صحیح العقیدہ ہو، عالم ہو، فاسق معلن نہ ہو۔(فقط)

دوم: شیخ ایصال: کہ شرائط مذکورہ کے ساتھ ساتھ مفاسد نفس کے فسادات، شیطان کی مکاریوں اور خواہشات کے جالوں سے آگاہ ہو، دوسرے کی تربیت جانتا اور اپنے متوسل (مرید) پر پوری شفقت رکھتا ہو، کہ اس کے عیوب پر اسے آگاہ کرے، ان کا علاج بتائے، جو مشکلات اس راہ میں پیش آئیں، ان کا حل فرمائے، نہ محض سالک ہو، نہ نرا مجذوب۔

پھر بیعت کی بھی دو قسمیں ہیں:

ایک: بیعت برکت: کہ صرف تبرک کے لیے بیعت کرنا۔اس بیعت کے لیے شیخ اتصال کہ چاروں شرائط کاجامع ہو، کافی ہے۔

دوم: بیعت ارادت: کہ اپنے آپ کو پورے طور پر، اپنے شیخ و مرشد کے حوالے کردے، اسے مطلقا اپنا حاکم و مالک و متصرف جانے، اس کے چلانے پر راہ سلوک چلے، کوئی قدم اس کی مرضی کے بغیر نہ رکھے، اس کی کسی بات پر دل میں بھی اعتراض نہ لائے، اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے، الغرض! اس کے ہاتھ میں ایسا ہوجائے جیسے مردہ، زندے کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔یہ بیعت سالکین ہے۔

پس اس تفصیل کے مطابق حکم درج ذیل ہے:

(الف)بدمذہب و گمراہ، جوراہ ہدایت سے ہٹ چکا، وہ ظاہری طور پر اگرچہ کسی انسان کا مرید ہو، یا خود پیر بناہوا ہو، لیکن درحقیقت اس کا پیر شیطان ہے، جس کے پیچھے چل کروہ راہ ہدایت سے دورہوا۔

(ب)سنی صحیح العقیدہ کہ سلوک کی راہ پر نہیں چلا، اس کا اگر کوئی خاص پیر نہیں، تو وہ راہ ہدایت پرہی ہے، اور کم ازکم مرشد عام، تو رکھتا ہے، لہذا وہ ہرگز بے پیرا نہیں، اور اگریہ تقوی اختیار کرے، تو فلاح پر بھی ہے۔

(ج)اور اگر سلوک کی دشوار گزار گھاٹیوں میں قدم رکھا، اور کوئی مرشد خاص نہیں بنایا، تو اب اگر اس پر راہ نہیں کھلی، اور نہ کوئی مرض مثلا خود پسندی، اور انکار وغیرہ، اس میں پیدا ہوا، تو اب بھی، وہ راہ ہدایت پر ہی ہے، اور اس کا کم از کم مرشدعام تو ہے، اور متقی ہے، تو فلاح پر بھی ہے۔

(د)اور اگر اس میں یہ مرض پیدا ہوئے، تو فلاح پر نہ رہا، اور اگر انکار کرے، اور عقیدہ خراب ہو، تواب شیطان کا مرید ہوگیا۔

(ہ)اور اگر سلوک کی راہ اس پر کھلی، توجب تک پیر ایصال (جو دوسری قسم کا پیر ہے)کے ہاتھ پربیعت ارادت (جس میں مرشد کے ہاتھ میں ایسا ہوتا ہے کہ جیسے مردہ، زندہ کے ہاتھ میں) نہ رکھتا ہو، تو غالب ہلاکت ہے، اس بے پیرے کا پیر شیطان ہوگا، اگرچہ بظاہر کسی ناقابل پیر کا مرید ہو، بلکہ اگرچہ محض شیخ اتصال (فقط جامع شرائط پیر) کا مرید ہو، یا خود پیر بنتا ہو۔ (ملخص از فتاوی رضویہ، ج 21، ص 496 اور، 505 تا 509، اور 519، 520، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نوٹ: اس کے متعلق تفصلی گفتگو امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کے ایک تفصیلی فتوے میں ہے، جو فتاوی رضویہ مخرجہ کی جلد   نمبر 21 کے صفحہ  496 سے شروع ہو کر520 پر ختم ہوتا ہے۔اس کا تفصیلی مطالعہ بہت مفید رہے گا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4676
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم 1447ھ/26 جنوری 2026 ء