کونڈوں کی نیاز میں کھیر پوری ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کونڈوں کی نیاز کس چیزپردی جائے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کونڈوں کی نیاز، گوشت والے چاول یا بریانی پر دلوا سکتے ہیں؟ یا پھر کھیر پوری پر دلوانی ہوگی؟
جواب
کونڈوں کی نیاز میں کھیر پوری کی نیاز دلوانا ہی ضروری نہیں ہے، کہ نیاز کا مقصد ایصال ثواب ہوتاہے، اور ایصال ثواب ہر حلال و طیب چیزکا پہنچایا جاسکتا ہے۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی امجدیہ میں تحریر فرماتے ہیں: چیز اگر حرام لعینہ ہے تو اس پر فاتحہ پڑھنا اور اس کا ثواب پہنچانا جائز نہیں۔ حدیث شریف میں ہے:
لا يقبل اللہ الا الطيب
(حرام چیز کو اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا)۔ تو نہ اس کا کوئی ثواب ہے، نہ ثواب پہنچایا جاسکتا ہے۔ اور اگر حرام لعینہ نہ ہو تو فاتحہ پڑھنے اور ایصال ثواب کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ (فتاوی امجد یہ، جلد1،صفحہ 364، مکتبہ رضویہ، کراچی)
فتاوی خلیلیہ میں ہے ہر وہ چیز جس کا کھانا، پینا، برتنا حلال و مباح و جائز ہے، اسے فی سبیل اللہ راہ خدا میں دینا بھی جائز اور کار ثواب ہے۔ نیاز، درود، فاتحہ بھی دراصل ذریعہ ہیں احباب و اعزاء و مساکین کے ساتھ حسن سلوک کا، جو کار خیر ہے۔ مثلاً گیارہویں شریف کا کھانا جو حضور غوث پاک کی نذر کیا جاتا ہے اور اس کا ثواب انہیں ہدیتاً پہنچایا جاتا ہے، یہ طعام تبرک ہے جیسے اپنے، پرائے، مالدار، نادار سب ہی کھاتے ہیں۔ اور عوام مسلمین کی فاتحہ کا کھانا وغیرہ غرباء کو دیا جاتا ہے تو یہ سب اللہ واسطے ہے کہ مقصود اس سے قرب خداوندی اور ثواب کا حصول ہے۔ اور یہ ہر حلال و جائز شے پر جائز ہے اگرچہ کھانے پینے کی نہ ہو، برتنے اور استعمال کرنے کی ہو مثلاً کپڑا، جوتا، ٹوپی وغیرہ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گوشت یا سبزی یا انڈے مچھلی پر فاتحہ نہیں ہوسکتی تو یہ سب جاہلانہ خیالات اورمحض خرافات ہیں جس کی شریعت میں کوئی سند نہیں ہے۔ (فتاویٰ خلیلیہ، جلد 1، صفحہ 100، ضیاء القرآن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4716
تاریخ اجراء: 19رجب المرجب1447ھ / 09 جنوری2026ء