بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
اگر کوئی اللہ کا نیک بندہ کسی جگہ کچھ دیر کے لیے ٹھہرا، وہاں عبادت کی، پھر وہاں سے روانہ ہوگیا اور بعد میں لوگوں نے اس جگہ کو زیارت گاہ بنا لیا، تو شریعت میں اس عمل کی کیا حیثیت ہے؟
کوئی نیک بندہ کسی جگہ نماز پڑھے تو اس جگہ کو مسجد بنانا یا یاد گار کے طور پر باقی رکھنا پھر وہاں نماز پڑھنا یا زیارت کے لیے آنا شرعاً منع نہیں بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کو اپنے گھر بلاتے، جہاں آپ علیہ السلام نماز پڑھتے اسی جگہ کو مسجد بیت کے طور پر نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیتے۔ بلکہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں ایسی کئی مساجد ملیں گی جو بعد میں بنیں اور وجہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے وہاں ادا فرمائی تھی۔ نیز بزرگانِ دین سے تبرک و توسل کا عمل ابتدائے اسلام سے چلا آرہا ہے جس پر صحابہ کرام علیہم الرضوان سمیت بعد والی امت کا عمل ہے۔ اس کو بدعت یا شرک ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔
بخاری شریف میں ہے:
سمعت عتبان بن مالك الأنصاري، ثم أحد بني سالم، قال: كنت أصلي لقومي بني سالم، فأتيت النبي صلى اللہ عليه وسلم، فقلت: إني أنكرت بصري، و إن السيول تحول بيني و بين مسجد قومي، فلوددت أنك جئت، فصليت في بيتي مكانا حتى أتخذه مسجدا، فقال: «أفعل إن شاء اللہ»، فغدا علي رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم و أبو بكر معه بعد ما اشتد النهار، فاستأذن النبي صلى اللہ عليه و سلم، فأذنت له، فلم يجلس حتى قال: «أين تحب أن أصلي من بيتك؟»، فأشار إليه من المكان الذي أحب أن يصلي فيه، فقام، فصففنا خلفه، ثم سلم و سلمنا حين سلم
ترجمہ: میں نے حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ (جو بنو سالم میں سے تھے) کو فرماتے سنا: میں اپنی قوم بنو سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میری بینائی کمزور ہو گئی ہے، اور سیلاب میری قوم کی مسجد تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتا ہے، میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور کسی جگہ نماز پڑھیں تاکہ میں اسے مسجد بنا لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا۔ چنانچہ دن چڑھنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب کی تو میں نے اجازت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے نہیں بلکہ فرمایا: تم اپنے گھر میں کہاں نماز چاہتے ہو؟ میں نے وہ جگہ بتائی جہاں نماز پڑھوانا چاہتا تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا۔ (صحیح بخاری، حدیث 840، صفحہ 136، مطبوعہ: ریاض)
بخاری شریف میں ہے:
حدثنا موسى بن عقبة، قال: رأيت سالم بن عبد اللہ يتحرى أماكن من الطريق فيصلي فيها، و يحدث أن أباه كان يصلي فيها «و أنه رأى النبي صلى اللہ عليه و سلم يصلي في تلك الأمكنة»
ترجمہ: موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا: میں نے سالم بن عبداللہ کو راستے میں بعض جگہوں کا خاص طور پر انتخاب کرتے دیکھا جہاں وہ نماز پڑھتے، اور وہ بیان کرتے کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان جگہوں پر نماز پڑھا کرتے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جگہوں پر نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ (صحیح بخاری، حدیث 483، صفحہ 87، مطبوعہ: ریاض)
بخاری شریف میں ہے:
عن ابن عمر رضي اللہ عنهما: أنه كان إذا دخل الكعبة، مشى قبل الوجه حين يدخل، و يجعل الباب قبل الظهر، يمشي حتى يكون بينه و بين الجدار الذي قبل وجهه قريبا من ثلاث أذرع، فيصلي، يتوخى المكان الذي أخبره بلال: «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم صلى فيه، و ليس على أحد بأس أن يصلي في أي نواحي البيت شاء»
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ میں داخل ہوتے تو سامنے کی طرف چلتے، دروازہ ان کی پیٹھ کی طرف ہوتا، یہاں تک کہ ان کے اور سامنے کی دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا، وہ وہاں نماز پڑھتے اور اس جگہ کو تلاش کرتے جہاں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی تھی۔ اور کسی پر کوئی حرج نہیں اگر وہ کعبہ کے کسی بھی گوشے میں نماز پڑھے۔(صحیح بخاری، حدیث 1599، صفحہ 254، مطبوعہ: ریاض)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2312
تاریخ اجراء: 05 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 02 جون 2025ء