شب معراج کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
واقعہ معراج کہاں سے ثابت ہے اور اس کے منکر کا کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ واقعہ معراج کہاں سے ثابت ہے اور اس کے منکر کا کیا حکم ہے؟
جواب
مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک راتوں رات تشریف لے جانا نص قطعی کتاب اللہ سے ثابت ہے۔ اس کا انکار کرنے والا کافر ہے اور زمین سے آسمان اور ان کے اوپر جن بلند مقامات تک اللہ تعالی نے چاہا، وہاں تشریف لے جانا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے، اس کا انکار کرنے والا گمراہ ہے اور جنت میں یا عرش پر جانا اخبار احاد سے ثابت ہے، اس کا انکار کرنے والا گنہگار ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی میں ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
ترجمہ کنز الایمان: پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے۔ (سورہ بنی اسرائیل، پ 15، آیت 01)
اس آیت مبارکہ کے تحت حضرت علامہ مولانا مفتی صدر الافاضل محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بیت المقدس تک شب کے چھوٹے حصّہ میں تشریف لے جانا نصِّ قرآنی سے ثابت ہے، اس کا منکِر کافر ہے اور آسمانوں کی سیر اور منازلِ قرب میں پہنچنا احادیثِ صحیحہ معتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے، جو حدِّ تواتر کے قریب پہنچ گئی ہیں، اس کا منکِر گمراہ ہے۔ اسی کی مثل عبارت تفسیر روح البیان میں بھی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:
قال الكاشفى: رفتن آن حضرت از مكه ببيت المقدس بنص قرآن ثابتست ومنكر آن كافر وعروج بر آسمانها ووصول بمرتبه قربت بأحاديث صحیحه مشهوره كه قريبست بحد تواتر ثابت كشت وهر كه انكار آن كند ضال ومبتدع باشد (تفسیر روح البیان، ج 05، ص 104، دارالفکر، بیروت)
فقہ اکبرمیں ہے:
و خبر المعراج حق فمن ردہ فھو ضال مبتدع
اس کی شرح میں ملا علی قاری علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں:
(و خبر المعراج) ای بجسد المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم یقظۃ الی السماء ثم الی ماشاء اللہ تعالی من المقامات العلی (حق) ای حدیثہ ثابت بطرق متعددۃ (فمن ردہ) ای ذلک الخبر و لم یومن بمقتضی ذلک الاثر (فھو ضال مبتدع) ای جامع بین الضلالۃ و البدعۃ
ترجمہ: اورمعراج یعنی مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا بیداری کی حالت میں آسمان کی طرف اور پھر بلند مقامات سے جہاں اللہ تعالی نے چاہا وہاں تشریف لے جانے کی خبر یعنی حدیث حق ہے یعنی طرق متعددہ سے ثابت ہے پس جس نے اس خبر کا رد کیا اور اس کے مقتضی پر ایمان نہ لایا تو وہ گمراہ بدعتی ہے یعنی گمراہی اور بدعت کا جامع ہے۔ (فقہ اکبرمع الشرح، بحث فی ان المعراج حق، ص189، مطبوعہ کراچی)
شرح العقائد النسفیہ میں ہے:
و المعراج لرسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم فی الیقظۃ بشخصہ الی السماء ثم الی ماشاء اللہ تعالی من العلی حق ای ثابت بالخبر المشہور حتی ان منکرہ یکون مبتدعا
ترجمہ: اور رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے لیے بیداری میں جسم کے ساتھ آسمان تک پھر جن بلند مقامات تک اللہ تعالی نے چاہا وہاں تک معراج حق ہے یعنی خبر مشہور سے ثابت ہے یہاں تک کہ اس کا انکار کرنے والا بدعتی ہوگا۔ (شرح العقائد النسفیۃ، مبحث المعراج الخ، ص 175، مطبوعہ لاھور)
فتح القدیر و تبیین الحقائق میں ہے:
و منكر المعراج إن أنكر الإسراء إلى بيت المقدس فكافر، و إن أنكر المعراج منه فمبتدع
ترجمہ: اور معراج کا منکر اگر بیت مقدس تک رات کو جانے کا انکار کرے تو وہ کافر ہے اور اگر وہاں سے معراج کا انکار کرے تو بدعتی ہے۔ (فتح القدیر، باب الامامۃ، ج 01، ص 350، دار الکفر، بیروت)
النبراس میں ہے:
الجمھورعلی ان منکر الحدیث المتواتر کافر و منکر المشھور فاسق ومنکر خبر الاحاداثم ھذا ھو الصحیح
ترجمہ: جمہور اس پر ہیں کہ حدیث متواتر کا انکار کرنے والا کافر ہے اور حدیث مشہور کا انکار کرنے والافاسق (اعتقادی یعنی گمراہ) ہے اور اخبار احاد کا انکار کرنے والا گنہگار ہے، یہی صحیح ہے۔ (النبراس شرح شرح العقائد، ص 292، مطبوعہ ملتان)
فتاوی رضویہ میں ہے:
و تحقیق المقام علی ما الھمنی الملک العلام ان العلم القطعی یستعمل فی معنیین۔ احدھما: قطع الاحتمال علی وجہ الاستیصال بحیث لایبقی منہ خبر و لا اثر و ھذا ھو الاخص الاعلی کما فی المحکم و المتواتر و ھو المطلوب فی اصول الدین فلا یکتفی فیھا بالنص المشہور۔ و الثانی: ان لایکون ھناک احتمال ناش من دلیل و ان کان نفس الاحتمال باقیاً کالتجوز و التخصیص و سائر انحاء التاویل کما فی الظواھر و النصوص و الاحادیث المشہورۃ و الاول یسمی علم الیقین و مخالفہ کافر علی الاختلاف فی الاطلاق کما ھو مذہب فقہاء الاٰفاق، و التخصیص بضروریات الدین ما ھو مشرب العلماء المتکلمین۔ و الثانی علم الطمانیۃ و مخالفہ مبتدع ضال و لا مجال الی اکفارہ
ترجمہ: اور مقام کی تحقیق اس طور پر جو مجھے اللہ ملک العلام نے الہام کیا یہ ہے کہ علم قطعی دو معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ ایک تویہ کہ احتمال جڑ سے منقطع ہو جائے بایں طور کہ اس کی کوئی خبر یا اس کا کوئی اثر باقی نہ رہے۔ اور یہ اخص اعلیٰ ہے جیسا کہ محکم اور متواتر میں ہوتا ہے۔ اور اصولِ دین میں یہی مطلوب ہے۔ تو اس میں نصِ مشہور پر کفایت نہیں ہوتی۔ دوسرا: یہ کہ اس جگہ ایسا احتمال نہ ہو جو دلیل سے ناشی ہو اگرچہ نفس احتمال باقی ہو۔ جیسے کہ مجاز اور تخصیص۔ اور باقی وجوہِ تاویل۔ جیسا کہ ظواہر اور نصوص اور احادیث مشہورہ میں ہے۔ اور پہلی قسم کا نام علم یقین ہے اور اس کا مخالف کافر ہے علماء میں اختلاف کے بموجب مطلقاً جیسا کہ فقہائے آفاق کا مذہب ہے یا ضروریات دین کی قید کے ساتھ یہ حکم مخصوص ہے جیسا کہ علمائے متکلمین کا مشرب ہے اور دوسرے کا نام علم طمانیت ہے اور اس کا مخالف بدعتی و گمراہ ہے اور اس کو کافر کہنے کی مجال نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 28، ص 667، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
شرح العقائد النسفیۃ میں علامہ سعد الدین تفتازانی علیہ الرحمۃ ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں:
فالاسراء و ھو من المسجد الحرام الی بیت المقدس قطعی ثبت بالکتاب و المعراج من الارض الی السماء مشہور و من السماء الی الجنۃ او الی العرش او غیر ذلک احاد
ترجمہ: پس اسراء اور وہ ہے مسجد حرام سے بیت المقدس تک جانا، قطعی ہے جو کتاب اللہ سے ثابت ہے اور زمین سے آسمان تک معراج مشہورہے اور آسمان سے جنت تک یا عرش تک یا اس کے علاوہ کی طرف جانا اخبار احاد سے ثابت ہے۔ (شرح العقائد النسفیۃ، مبحث المعراج الخ، ص 176، مطبوعہ لاھور)
یہاں آسمان سے جنت کی طرف جانے میں جو لفظ آسمان کہا، تو اس سے فقط آسمان ہی مراد نہیں بلکہ آسمان اور اس کے اوپر کے وہ مقامات جہاں اللہ تعالی نے لے جانا چاہا، جن کا ذکر احادیث مشہورہ میں ہے، وہ مراد ہیں کیونکہ احادیث مشہورہ میں فقط آسمان کا ہی ذکر نہیں بلکہ اس کے علاوہ بلند مقامات کا بھی ذکر ہے۔ جیسا کہ اوپرگزرا، ہاں خاص جنت یا عرش وغیرہ پر جانا احادیث احاد سے ثابت ہے تو تیسری شق میں خاص جنت یا عرش وغیرہ کا احاد سے ثابت ہونا بیان کرنا مقصود ہے۔ اس بات کی وضاحت یہ ہے کہ: شرح عقائد کی اس عبارت:
و من السماء الی الجنۃ او الی العرش او غیر ذلک
احاد پر اعتراض ہوتا ہے کہ شرح عقائد کی اس سے پچھلے صفحے پر جو عبارت ہے:
الی السماء ثم الی ماشاء اللہ تعالی من العلی حق ای ثابت بالخبرالمشہور
اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آسمان سے اوپر کے بلند مقامات تک جانا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے جبکہ اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمان سے اوپر جانا خبر احاد سے ثابت ہے تو یہ تو دونوں عبارات میں تعارض ہے۔ اس کا جواب علامہ عبدالعزیز پر ھاروی علیہ الرحمۃ نے یہ دیا کہ گزشتہ صفحے میں جو بیان کیا گیا کہ آسمان سے بلند مقامات تک جانا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے، وہ حق ہے اور اس عبارت میں خبر احاد سے ثبوت کا تعلق خاص جنت یا عرش کے ساتھ ہے۔ چنانچہ نبراس کی عبارت یہ ہے:
و اعترض علیہ بانہ ینافی ماسبق من قولہ ای ثابت بالخبر المشہور واجیب بان المشہور ھو العروج من السماء الی ما فوقہا و الاحاد ھو خصوصیۃ الجنۃ او العرش (النبراس شرح شرح العقائد، ص 295، مطبوعہ ملتان)
اسی طرح حاشیہ خیالی میں بھی شرح عقائد کی اس عبارت:
الی السماء ثم الی ما شاء اللہ تعالی من العلی حق ای ثابت بالخبر المشہور
کے تحت لکھا ہے:
یفھم منہ ان المعراج من السماء ایضا مشہور و ما ثبت بطریق الاحاد ھو خصوصیۃ ما الیہ من الجنۃ او غیرھا
ترجمہ: اس سے سمجھا جاتا ہے کہ آسمان سے معراج کا سفر بھی مشہور ہے اور جو طریق احاد سے ثابت ہے وہ خاص وہ ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا یعنی جنت یا اس کے علاوہ۔ (الخیالی علی شرح العقائد، بیان حقیقۃ المعراج لمحمد علیہ الصلوۃ و السلام ، ص 142، مطبوعہ پشاور)
ملا عبدالحکیم سیالکوٹی حاشیہ مولوی بر خیالی میں خیالی کی عبارت و ماثبت بطریق کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
یعنی کون المعراج من السماء الی العلی ایضا مشہور الیس مخالفا لما ذکرہ الشارح فیما بعد من قولہ ومن السماء الی الجنۃ اوالی العرش او الی غیر ذلک احادلان ما ثبت بطریق الاحاد ھو خصوصیۃ ما ذھب الیہ من الجنۃ اوالی العرش اوالی اطراف العالم لا الی مطلق العلی حتی ینافیہ
ترجمہ: یعنی آسمان سے بلند مقامات تک کی معراج کا بھی مشہور ہونا اس کے مخالف نہیں ہے جس کو شارح نے اس کے بعد اپنے اس قول میں ذکر کیا ہے و من السماء الی الجنۃ او الی العرش او الی غیر ذلک احاد کیونکہ جوبطریق احاد ثابت ہے وہ خاص وہ ہے جس کی طرف تشریف لے گئے یعنی جنت یاعرش یا اطراف عالم نہ کہ مطلق بلند مقامات، کہ یہ اس کے منافی ہو۔ (حاشیہ مولوی برخیالی، ص 253، 254، مطبع ھند)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-6536
تاریخ اجراء: 01 شعبان المعظم 1438ھ / 28 اپریل 2017ء