logo logo
AI Search

متعدد افراد کو ایصال ثواب کرنے پر ثواب کی تقسیم کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

متعدد لوگوں کو ایصال ثواب کرنے سے سب کو کتنا کتنا ثواب ملتا ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ یہ بات بہت زیادہ مشہور ہے کہ جب متعدد لوگوں بلکہ پوری امت مسلمہ کو بھی ایصال ثواب کیا جائے تو سب کو برا بر، مکمل ثواب ملتا ہے، تقسیم ہوکر نہیں ملتا۔اس بات کی کیا حقیقت ہے ؟ کیا شریعت مطہرہ میں اس کی اصل موجود ہے یا یہ بات بے اصل ہے ؟

میں نے اس حوالے سے فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں لکھا تھا کہ ”سب کو برابر ثواب ملنے والی بات بے اصل ہے، مسلمانوں کو ایسی بےا صل و بے بنیاد باتوں سے دور رہنا چاہئے، البتہ ایصال ثواب کرنا حق ہے“۔ برائے مہربانی اس کا دلائل کی روشنی میں جواب ارشاد فرمائیے۔

جواب

جب کوئی مسلمان کسی ایک یا کئی نیک اعمال کا ثواب متعدد اہلِ ایمان کو ایصال کرتا ہے تو شریعت کی رو سے اُن میں سے ہر ایک کو پورا اور مکمل ثواب ملتا ہے، یوں نہیں کہ ثواب تقسیم ہو کر ٹکڑوں میں ملے، اسی طرح خود ایصالِ ثواب کرنے والے کے اجر میں بھی کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوتی۔یہ بات متعدد احادیثِ مبارکہ اور معتبر ائمہ و علما کی تصریحات سے ثابت ہے، اور یہی اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کے فضلِ عظیم کے شایانِ شان ہے، اسی بنا پر کتبِ معتبرہ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ افضل طریقہ یہ ہے کہ انسان جب کوئی نیک عمل کرے تو اُس کا ثواب تمام زندہ و مردہ مومنین و مومنات کو ہدیہ کر دے، تاکہ ہر ایک تک ثواب پہنچے اور عامل کو بھی تمام کے برابر اجر مل جائے، لہٰذا یہ کہنا کہ ” سب کو برابر ثواب ملنے والی بات بے اصل و بے بنیاد ہے“ بالکل درست نہیں۔

ذیل میں اس حوالے سے چند احادیث مبارکہ اور علماء کرام کی عبارات پیش کی جارہی ہیں:

شعب الايمان للامام البیہقی ، الترغیب و الترہیب اور کنز العمال میں ہے،

واللفظ للشعب: ” عن عبد العزيز بن عبد اللہ بن عمر، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: من حج عن والديه بعد وفاتهما كتب له عتق من النار، وكان للمحجوج عنهما أجر حجة تامة من غير أن ينقص من أجورهما شيئ “

ترجمہ: عبد العزیز اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے اور وہ عبد العزیز کے دادا یعنی حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے حج ادا کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آگ سے نجات لکھ دیتا ہے، اور جس کے لیے حج ادا کیا گیا ہے، اسے بھی کامل حج کا ثواب ملتا ہے بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کوئی کمی واقع ہو۔ (شعب الایمان، ج10، ص 304، مکتبۃ الرشد )(الترغیب والترھیب، ج01، ص 279، دار الحديث - القاهرة)(کنز العمال، ج05، ص 125، دار الحديث - القاهرة)

اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ” اگر ثواب نصف نصف ملتا تو اس آدھے میں سے کمی ہوجانے کا کیا احتمال تھا جس کی نفی فرمائی گئی۔ ہاں وہی اجر یہاں اجور ہوجائے۔ ہر ایک پور ا پورا بے کمی پائے، یہ خلاف عقل ظاہر تھا، تو اسی کا افادہ ضرور مفید واہم ہے۔ “ (فتاوی رضویہ، ج09، ص 619، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

 الجامع الصغیر اور اس کی شرح فیض القدیر للامام المناوی میں ہے:

” (ما على أحدكم إذا أراد أن يتصدق لله صدقة تطوعا أن يجعلها عن والديه إذا كانا مسلمين فيكون لوالديه أجرها وله مثل أجورهما بعد أن لا ينقص من أجورهما شيئا)۔۔(ابن عساكر) في تاريخه (عن ابن عمرو) بن العاص ورواه أيضا الطبراني “

ترجمہ: جب تم میں سے کوئی شخص کسی صدقہ نافلہ کا ارادہ کرے تو اس کا کیا حرج ہے کہ وہ صدقہ اپنے ماں باپ کی نیت سے دے کہ انہیں اس کا ثواب پہنچے گا اور اسے ان دونوں کے اجروں کے برابر ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے ثوابوں میں کچھ کمی ہو۔ اس حدیث کو ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کیا اور اس کو امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، ج05، ص 456، المكتبة التجارية الكبرى - مصر)

امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے ان دونو ں حدیثوں کو نقل کرنے کے بعد فرمایا: ” ان دونوں حدیثوں میں اگر کچھ تشکیک کی جائے تو حدیث سوم گویا نص صریح جس نے بحمدہ تعالیٰ اس امید کمال کو قوی کردیا، اور فتاوی علماء کی تاکید اکید فرمادی کہ ہر ایک کو کامل ثواب ملے گا۔ امام دارقطنی اور ا بوعبداللہ ثقفی فوائد ثقفیات میں حضرت زید بن ارقم رضی ا تعالیٰ عنہ سے روایت فرماتے ہیں، حضور صلی ا تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اذا حج الرجل عن والدیہ تقبل منہ ومنھما، واستبشرت ارواحھما، وکتب عند ﷲ برا

 یعنی جب آدمی اپنے والدین کی طرف سے حج کرے وہ حج اس حج کرنے والے اور ماں باپ تینوں کی طرف سے قبول کیا جائے اور ان کی روحیں خوش ہوں، اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا نیکو کار لکھا جائے۔

یہ لفظ دارقطنی کے ہیں، اور ثقفیات میں ان لفظوں سے ہے:

من حج عن ابویہ لم یحجا اجزأ عنھما وبشرت ارواحھما فی السماء وکتب عند ﷲ برا

یعنی جس کے ماں باپ بے حج کئے مرگئے ہوں یہ ان کی طرف سے کرے وہ ان دونوں کا حج ہوجائے گا اور ان کی روحوں کو آسمان میں خوشخبری دی جائے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا لکھا جائے۔

ظاہر ہے کہ حج ایک عبادت ِ واحدہ ہے جس کا بعض کافی نہیں، نہ وہ کل سے مغنی ہو، بلکہ قابل اعتبار ہی نہیں، جیسے فجرکی دو رکعتوں سے ایک رکعت، یا صبح سے دوپہر تک کا روزہ، تو یہ حج کہ ان دونوں کی طرف سے کافی ہو، ضرور ہے کہ ہر ایک کی جانب سے پورا حج واقع ہو، مگر فقہ میں مبین ومبرہن ہولیا کہ یہ اِجزاء بمعنی اسقاطِ فرض نہیں، تولاجرم یہی معنی مقصود کہ دونوں کو کامل حج کاثواب ملے۔ محدّث جلیل امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی اس حدیث کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

لااعلم احدا قال بظاھر من الاجزاء عنھا بحج واحد وھو محمول علی وقوعہ للاصل فرضا وللفرع نفلا اہ نقلہ فی التیسیر مع التقریر والحمد للہ رب العٰلمین ھذا وﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

جہاں تک مجھے علم ہے کوئی ا س کے ظاہر کا قائل نہیں یعنی یہ کہ وہ ایک ہی حج دونوں کی طرف سے کافی ہوجائیگا۔ وہ اس پر محمول ہے کہ اصل کے لئے فرض اداہوگا اورفرع کے لیے نفل ہوگا۔ اسے تیسیر میں نقل کیا اور برقرار رکھا۔ اور ساری خوبیاں اللہ کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے، اس استدلال کو محفوظ کرلو اور اس رب بزرگ کا علم سب سے زیادہ کامل اور محکم ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج09، ص 619، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام ابن حجر مکی شافعی علیہ الرحمۃ کے فتاوٰی میں ہے:

”(وسئل) نفع اللہ به عمن مر بمقبرة فقرأ الفاتحة وأهداها لهم فهل تقسم بينهم أو يصل لكل منهم مثل ثوابها كاملا؟(فأجاب) بقوله أفتى جمع بالثاني وهو اللائق بسعة الفضل“

ترجمہ: حضرت امام ابن حجر مکی سے سوال ہوا  کہ اگر کسی گزرنے والے نے قبرستان والوں کے لئے فاتحہ پڑھی اور اس کاثواب ان سب کو ہدیہ کیا تو اب ثواب ان کے درمیان تقسیم ہوگا یا ہرایک کو اس کے ثواب کی مثل پور ا ثواب ملے گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک جماعت علماء نے دوسری صورت پر فتوٰی دیا ہے یعنی سب کو برابر کامل ثواب ملے گا اور وہی فضل ربانی کی وسعت کے شایان شان ہے۔ ( الفتاوی الفقھیۃ الکبری، ج02، ص 24 ، مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیۃ )

اس معاملے میں ابن قیم جوزیہ نے کتاب الروح میں یہ موقف اختیار کیا کہ جب متعدد لوگوں کو ایصال ثواب کیا جائے تو ان کو ان کی تعداد کے مطابق تقسیم ہوکر ثواب ملتا ہے، علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ نے اس کی تردید میں رد المحتار میں فتاوی امام ابن حجر مکی شافعی کی اسی عبارت مذکور ہ بالا کو نقل فرمایا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج02، ص 244، دار الفکر، بیروت)

فتاوٰی رضویہ میں ہے : ” اللہ عزوجل کے کرمِ عمیم وفضل عظیم سے امید ہے کہ سب کو پورا پورا ثواب ملے گا، اگر چہ ایک آیت یا درود یا تہلیل کا ثواب آدم علیہ السلام سے قیامت تک کے تمام مومنین ومومنات احیا واموات کے لیے ہدیہ کرے، اورہر شخص کو افضل یہی کہ جو عمل صالح کرے اس کا ثواب اولین وآخرین احیاء واموات تمام مومنین ومومنات کے لیے ہدیہ بھیجے سب کو ثواب پہنچے گا اور اُسے اُن سب کے برابر اجرملے گا۔“  (فتاوی رضویہ، ج09، ص 616، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے: ’’نماز، روزہ، حج، زکوۃاور ہر قسم کی عبادت اور ہر عمل نیک فرض و نفل کا ثواب مردوں کو پہنچا سکتا ہے، ان سب کو پہنچے گااور اس کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی بلکہ اس کی رحمت سے امید ہے کہ سب کو پورا پورا ملے یہ نہیں کہ اسی ثواب کی تقسیم ہو کر ٹکڑا ٹکڑا ملے۔بلکہ امید ہے کہ اس ثواب پہنچانے والے کیلئے ان سب کے مجموعے کے برابر ملے‘‘۔ (بہار شریعت، ج1، حصہ4، ص 850، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: HAB-0672

تاریخ اجراء: 30 جمادی الاولٰی 1447ھ/22نومبر 2025 ء