logo logo
AI Search

محفل میلاد میں مرد و عورت کا بے پردگی کے ساتھ شرکت کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اجنبی مرد اور عورتوں کی مخلوط محفلِ میلاد میں بغیر کسی پردے کے شرکت کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایسی مخلوط محفل میلاد منعقد کرنے اور اس میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے کہ جس میں مَردوں اور عورتوں میں کوئی پردے کا نظام نہ ہو اور اس میں مَرد اور عورتیں بغیر کسی پردے کے ایک ساتھ بیٹھے ہوں، جبکہ ان میں محرم والا کوئی رشتہ داری بھی نہ ہو؟

جواب

سب سے پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ نبی اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا میلاد شریف منانا نہ صرف جائز، بلکہ کثیر برکات و حسنات کا باعث ہے۔ اس کی فضیلت و برکت قرآن کریم سے بھی خوب ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی رحمت اور فضل پر خوشی منانے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت و فضل ہیں، لہٰذا اگر شرعی احکام اور اصولوں کی مکمل طور پر رعایت کرتے ہوئے محفل میلاد کا اہتما م کیا جائے، تو عظیم سعادت ہے، لیکن اگر ایسی محفل ہو کہ جس میں مَردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو اور ان کے بیچ پردے کا کوئی خاص انتظام نہ ہو، تو اس انداز سے محفل کروانا اور اس میں شرکت کرنا، جائز نہیں ہو گا، اس لیے کہ عورت کو غیر محرم مرد کے سامنے اپنا چہرہ کھولنے اور اُس غیر محرم مَرد کا اس حالت میں اُنہیں دیکھنے کی شرعا ًاجازت نہیں، کیونکہ نظروں کی حفاظت کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور مخلوط محفل کروانے اور اس میں شرکت کرنے میں فتنہ ہے اور ہمیں ہر ایسے کام سے بچنے کا حکم ہے کہ جس میں فتنہ ہو، لہٰذا اگر کوئی مَردوں اور عورتوں کے لیے محفل کا انتظام کرنا چاہتا ہے، تو اسے چاہیے کہ پردے کا خاص انتظام کرے، مَردوں اور عورتوں کے آنے کے لیے راستہ اور بیٹھنے کے لیے نشستیں جدا ہوں، تاکہ ان کا آپس میں آمنا سامنا بھی نہ ہو کہ جو فتنے کا باعث بنے نیز بالخصوص عورتوں کی سائیڈ کسی مَرد کو جانے کی اجازت نہ ہو اور ان کے معاملات سر انجام دینا بھی مکمل طور پہ عورتوں کے ذمے ہی ہو، تا کہ بے پردگی، مَردوں اور عورتوں کے اختلاط نیز دیگر شرعی خرابیوں سے بچا جا سکے۔

فی نفسہ محافل میلاد کا انعقاد بالکل جائز ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و نعمت کے ملنے پر خوشی کا اظہار ہے کہ جس کا حکم اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:

﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰه وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴾

ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ: اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں، وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔ (پارہ 11، سورۂ یونس، آیت 58)

اس آیتِ کریمہ میں اللہ عزوجل نے اپنی رحمت و فضل پر خوشی منانے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور بلاشک و شبہ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ﴾

ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا، مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔ (پارہ 17، سورۃ الانبیاء، آیت 107)

دینی یا دنیوی کسی محفل یا مجلس میں مَردوں اور عورتوں کا اختلاط باعثِ فتنہ ہے، جبکہ فتنے کو قتل سے بھی سخت فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿الفتنۃ اشد من القتل﴾ ترجمہ کنزالایمان: فساد(فتنہ)تو قتل سے بھی سخت ہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 191)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے مرد و عورت دونوں کو پردے کا تاکیدی حکم دیا اور بے پردگی سے منع فرمایا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْن وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ﴾

ترجمہ کنز الایمان: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے، اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 30، 31)

ایک مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر والیوں اور مسلمان عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمً﴾

ترجمہ کنز الایمان: اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔ یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو، تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت59)

فی زمانہ عورت پر نامحرم مَردوں سے چہرے کا پردہ بھی لازم ہے۔ تنویر الابصار مع الدر میں ہے:

’’(وتمنع)المرأۃ الشابۃ(من کشف الوجہ بین رجال)لا لانہ عورۃ بل(لخوف الفتنۃ)‘‘

ترجمہ: جوان عورت کو اجنبی مردوں کے سامنے چہرہ کھولنے سے منع کیا جائے گا اور یہ ممانعت اس وجہ سے نہیں کہ چہرہ ستر میں داخل ہے، بلکہ اس لئے ہے کہ اسے ظاہر کرنے کی صورت میں فتنے کا خوف ہے۔ (تنویر الابصار الدر، ج 2، ص97، مطبوعہ پشاور)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’رفتہ رفتہ حاملانِ شریعت و حکمائے امت نے حکمِ حجاب دیا اور چہرہ چھپانا کہ صدرِ اوّل میں واجب نہ تھا، واجب کردیا۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 551، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

نیز ایک جگہ پردےکے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ’’رہا پردہ اس میں استاذ و غیر استاذ، عالم و غیر عالم، پیر سب برابر ہیں۔ نو برس سےکم لڑکی کو پردہ کی حاجت نہیں اور جب پندرہ برس کی ہو، سب غیر محارم سے پردہ واجب اور نو سے پندرہ تک اگر آثارِ بلوغ ظاہر ہوں، تو واجب اور نہ ظاہر ہوں، تو مستحب، خصوصاً بارہ برس کے بعد بہت مؤکد کہ یہ زمانہ قرب بلوغ و کمال اشتہا کا ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 639، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اگر تمام شرعی تقاضوں کو پورا کیا جائے، تو عورتیں محفلِ میلاد میں شریک ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ اس کے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”واعظ یا میلاد خوان اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اس کا وعظ و بیان صحیح و مطابق شرع ہو اور جانے میں پوری احتیاط اور کامل پردہ ہو اور کوئی احتمالِ فتنہ نہ ہو اور مجلسِ رجال سے دور، ان کی نشست ہو، تو حرج نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، ص239، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: pin-7064
تاریخ اجراء: 13 ربیع الاول 1444ھ 10 اکتوبر 2022ء