بزرگوں کی قبروں پر مزارات کیوں بنائے جاتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بزرگوں کی قبروں پر مزارات بنانے کی وجہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بزرگوں کی قبروں پر مزارات کیوں بنائے جاتے ہیں؟

جواب

بزرگوں کی قبروں پر مزارات اس لیے بنائے جاتے ہیں، کہ مزار صاحبِ قبر کی عظمت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے، اگر قبر سادہ ہو، تو ناواقف افراد کو معلوم نہیں ہوتا کہ صاحب قبر کون ہیں، جس کی وجہ سے اندیشہ ہوتا ہے کہ لوگ ان کے احترام میں کمی کریں، لیکن جب مزار تعمیر ہوتا ہے، تو وہ جگہ ممتاز ہو جاتی ہے، لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ صاحب قبر، اولیاء اللہ و صالحین میں سے ہیں، یوں لوگوں کے سامنے ان کی عظمت کا ظہور ہوتا ہے، اور لوگ زیارت اور دعا کے لیے شوق سے آتے ہیں، نیز آنے والوں کے لیے بھی اس میں سہولت ہے کہ دھوپ وبارش وغیرہ سے بچت کا سامان ہوجاتا ہے۔ علامہ اسمٰعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 1127ھ) قرآنِ کریم کی آیت مبارکہ

(اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ)

کے تحت روح البیان میں فرماتےہیں:

بناء القباب على قبور العلماء و الأولياء و الصلحاء و وضع الستور و العمائم و الثياب على قبورهم امر جائز إذا كان القصد بذلك التعظيم فى أعين العامة حتى لا يحتقروا صاحب هذا القبر

ترجمہ:علماء، اولیاء اور صالحین کی قبروں پر قبے بنانا اور ان کی قبروں پر چادریں، عمامے اور کپڑے رکھنا جائز ہے جبکہ اس سے مقصود عوام الناس کی نگاہوں میں ان کی تعظیم ڈالنی ہو تاکہ وہ اس صاحب قبر کو حقیر نہ سمجھیں۔ (روح البیان، ج 3، ص 400،دار الفکر، بیروت)

جاء الحق میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: مسلمان دو طرح کے ہیں ایک تو عام مومنین۔ دوسرے علماء مشائخ اولیاء اللہ جن کی تعظیم و توقیر در حقیقت اسلام کی تعظیم ہے۔ عامۃ المسلمین کی قبروں کو پختہ بنانا یا ان پر قبہ وغیرہ بنانا چونکہ بے فائدہ ہے اس لیے منع ہے ہاں اس پر مٹی وغیرہ ڈالتے رہنا تاکہ اس کا نشان نہ مٹ جائے فاتحہ وغیرہ پڑھی جاسکے جائز ہے۔ اور علماء مشائخ عظام اولیاء اللہ جن کے مزارات پر خلقت کا ہجوم رہتا ہے لوگ وہاں بیٹھ کر قرآن خوانی و فاتحہ وغیرہ پڑھتے ہیں ان کی آسائش اور صاحب قبر کی اظہار عظمت کے لیے اس کے آس پاس سایہ کے لیے قبہ وغیرہ بنانا شرعاً جائز بلکہ سنت صحابہ سے ثابت ہے اور جن عوام مومنین کی قبریں پختہ بنانا یا ان پر قبہ بنانا منع ہے اگر ان کی قبریں پختہ بن گئی ہوں تو ان کو گرانا حرام ہے۔ (جاء الحق، حصہ اول، صفحہ 229، قادری پبلشرز، لاہور)

مزید معلومات کے لیے دار الافتاء اہلسنت کا فتوی "کیا قبر پر مزار بنانا جائز ہے؟ مزارات کی شرعی حیثیت" مطالعہ فرمائیں۔

فتوے کا لنک

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سجاد عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4586

تاریخ اجراء: 08 رجب المرجب 1447ھ / 29 دسمبر 2025ء