logo logo
AI Search

کونڈوں کی نیاز کرنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کونڈوں کی نیاز کا شرعی حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جو کونڈوں کی نیاز کی جاتی ہے، یہ شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟ اور جہاں اس کی محفل ہو وہاں جانا جائز ہے؟

جواب

عرف عام میں حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایصال ثواب کے لیے ماہ رجب میں کی جانے والی مخصوص نیاز کو کونڈوں کی نیاز کہتے ہیں، یہ شرعاً جائز اور اچھا عمل ہے اور مسلمان عوام و خواص میں رائج ہے، اس میں قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کے ساتھ ساتھ کھیر پوری وغیرہ میٹھی چیز پکانے کھلانے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور یہ سب کام انفرادی طور پر نہ صرف جائز بلکہ باعث ثواب و موجب خیر و برکات ہیں۔ اس کی اصل ایصال ثواب ہے جو کہ باجماعِ اہل سنت جائز اور مستحب عمل ہے، جس کا ثبوت قرآن و حدیث اور اقوالِ فقہا و بزرگان دین میں واضح طور پر موجود ہے۔ جبکہ اس مخصوص کیفیت اور دن کی تخصیص میں بھی شرعاً کوئی مضائقہ نہیں؛ کہ نہ تو یہ کونڈوں کی نیاز کے لیے ضروری ہے اور نہ کوئی اسے شرعی طور پر لازم سمجھتا ہے، یہ محض یاد دہانی اور سہولت کے لیے ہے، جب ایسی عرفی تخصیص شریعت مطہرہ نے منع نہیں فرمائی تو یہی اس کے جائز ہونے کے لیے کافی ہے، حالانکہ مختلف امور کے لیے عرفی تخصیص کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی ملتا ہے۔ تاہم اگرچہ کونڈوں کی یہ نیاز کسی بھی دن اور چیز پر کی جا سکتی ہے لیکن مناسب ہے کہ یہ 15 رجب کو میٹھی چیز پر دلائی جائے؛ کہ اس میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یوم وصال سے مناسبت اور بزرگان دین کے عمل سے موافقت ہے۔

جب کونڈوں کی نیاز کرنا جائز ہے تو اس کے لیے منعقد کی گئی محفل میں جانا بھی جائز ہے بشرطیکہ وہاں کوئی غیر شرعی کام نہ ہو، مثلاً مرد و عورت کا اختلاط یا من گھڑت قصے کہانیوں کی سماعت وغیرہ۔ یاد رہے! بعض عوامی باتیں جیسے کونڈوں کی نیاز گھر سے باہر نہیں لے جا سکتے، یہ نیاز کونڈوں ہی میں کھائی جا سکتی ہے، اس میں سے فلاں فلاں شخص نہیں کھا سکتا، اس پر دس بیبیوں کی کہانی یا جناب سیدہ کی کہانی وغیرہ پڑھ کر سنانی ہوتی ہے، یہ سب بے بنیاد اور باطل ہیں، ان باتوں کا اس نیاز سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان پر عمل روا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَالَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ

ترجمہ کنز العرفان: اور ان کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔ (پارہ 28، سورۃ الحشر 59، آیت 10)

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ) لکھتے ہیں: اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے، ایک یہ کہ صرف اپنے لیے دعا نہ کرے ، سلف کے لیے بھی کرے۔ دوسرے یہ کہ بزرگان دین خصوصاً صحابۂ کرام و اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے عرس، ختم، نیاز، فاتحہ اعلیٰ چیزیں ہیں کہ ان میں ان بزرگوں کے لیے دعا ہے۔ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 873، فرید بکڈپو لمیٹڈ، دہلی)

امام جلال الدین عبد الرحمٰن سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 911ھ / 1505ء) لکھتے ہیں:

و قد نقل غير واحد الإجماع على أن الدعاء ينفع الميت و دليله من القرآن قوله تعالى وَالَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ

ترجمہ: اور متعدد علمائے کرام نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ دعا میت کو فائدہ پہنچاتی ہے، اور قرآن سے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اور ان کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔ (شرح الصدور بشرح حال الموتى و القبور، صفحہ 297، دار المعرفة، لبنان)

علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی مظہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1225ھ / 1810ء) نے بھی مذکورہ بالا کلام کو من و عن اپنی تفسیر میں نقل فرمایا ہے۔ (تفسیر مظہری، سورۃ النجم، جلد 9، صفحہ 127، مطبوعہ کوئٹہ)

صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن الکبری للبیہقی، مشکوۃ المصابیح وغیرہ کی روایت ہے:

عن عائشة رضي اللہ عنها: أن رجلا قال للنبي صلى اللہ عليه وسلم: إن أمي افتلتت نفسها و أظنها لو تكلمت تصدقت، فهل لها أجر إن تصدقت عنها؟ قال: نعم

ترجمہ: حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کی: میری ماں اچانک فوت ہو گئی، اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ کچھ بول سکتیں تو صدقہ کرتیں، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو انہیں ثواب ہوگا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں۔ (صحيح البخاري، كتاب الجنائز، باب موت الفجأة البغتة، جلد 1، صفحہ 467، حدیث 1322، دار ابن كثير، دمشق)

شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1052ھ / 1642ء) اس کے تحت لکھتے ہیں:

و في الحديث دليل على أن ثواب الصدقة يصل إلى الميت وكذا حكم الدعاء هذا هو مذهب أهل الحق

ترجمہ: اور اس حدیث میں دلیل ہے کہ صدقے کا ثواب میت تک پہنچتا ہے اور دعا کا حکم بھی یہی ہے۔ یہی اہلِ حق کا مذہب ہے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، كتاب الزكاة، باب صدقة المرأة من مال الزوج، جلد 4،صفحہ 387، دار النوادر، دمشق)

امام جلال الدین عبد الرحمٰن سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 911ھ / 1505ء) نقل کرتے ہیں:

ان الاخبار عن الصحابة بأنهم كانوا يستحبون الإطعام عن الموتى تلك الأيام السبعة

ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ میت کی طرف سے ان (بعد وصال) سات دنوں تک کھانا کھلانے کو پسند فرماتے تھے۔ (الحاوي للفتاوي، كتاب البعث، جلد 2، صفحہ 223، دار الفكر للطباعة و النشر، بيروت)

علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں:

ان المسلمين يجتمعون في كل عصر و زمان و يقرءون القرآن و يهدون ثوابه لموتاهم وعلى هذا أهل الصلاح و الديانة من كل مذهب من المالكية و الشافعية و غيرهم و لا ينكر ذلك منكر فكان إجماعا

ترجمہ: مسلمان ہر دور اور زمانے میں جمع ہوتے ہیں، اور قرآن پڑھتے اور اس کا ثواب اپنے مردوں کو پہنچاتے ہیں، اور مالکیہ، شافعیہ وغیرہ تمام مذاہب کے راست باز اور صالحین اسی (عمل) پر ہیں، اور کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرتا، لہذا یہ اجماع ہوا۔ (البنایة شرح الهدایة، کتاب الحج، باب الحج عن الغير، جلد 4، صفحہ 467، المطبعة الخيرية)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں:

ایصال ثواب و ہدیہ اجر بامواتِ مسلمین باجماع کافہ اہلسنت و جماعت امریست مرغوب و در شرع مندوب، احادیث بسیار از حضور سید الابرار علیہ افضل الصلوۃ من ملک الجبار و در ترغیب و تصویب ایں کار وارد شد

ترجمہ: مسلمان مردوں کو ثواب پہنچانا اور اجر ہدیہ کرنا ایک پسندیدہ اور شریعت میں مندوب امر ہے جس پر تمام اہلِ سنت و جماعت کا اجماع ہے، اس عمل کو درست قرار دینے اور اس کی رغبت دلانے سے متعلق حضور سید الابرار علیہ الصلوٰۃ و السلام سے بہت سی حدیثیں وارد ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 570، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

علامہ سراج الہند شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1239ھ / 1823ء) لکھتے ہیں:

حضرت امیر و ذریہ طاہرہ او را تمام امت بر مثالِ پیران و مرشدان می پرستند و امور تکوینیہ را بایشان وابستہ می دانند و فاتحہ و درود و صدقات و نذر و منت بنامِ ایشان رائج و معمول گردیدہ چنانچہ با جمیع اولیاء اللہ ہمیں معاملہ است

ترجمہ: حضرت امیر (مولیٰ علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم) اور ان کی پاکیزہ اولاد کو پوری امت پیروں اور مرشدوں کی طرح عقیدت سے مانتی ہے اور کائنات کے تکوینی معاملات کو ان سے وابستہ خیال کرتے ہیں، ان کے نام پر فاتحہ خوانی، درود، صدقات، نذر و نیاز اور منت رائج اور معمول ہیں، جیسے کہ تمام اولیاء اللہ کے ساتھ یہی معاملہ (طرزِ عمل رائج) ہے۔ (تحفہ اثنا عشریہ، باب ہفتم در امامہ، صفحہ 214، سہیل اکیڈمی، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایصالِ ثواب کے لیے پور یوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں، یہ بھی جائز (ہے)۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 643، مکتبة المدینہ، کراچی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے فتاوی میں لکھتے ہیں: امام جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کونڈے بھرنا اور اس پر فاتحہ وغیرہ پڑھ کر ایصال ثواب کرنا جائز ہے، اس کی اصل یہی ہے کہ ایصال ثواب جائز ہے، حدیث اور فقہ سے اس کا جواز ثابت ہے۔ جب تک کسی خاص صورت میں ممانعت ثابت نہ ہو، اس کو ناجائز بتانا اللہ و رسول اور شریعت پر افترا کرنا ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد1، صفحہ 365، مکتبہ رضویہ، کراچی)

خلیل ملت مفتی محمد خلیل خان برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1405ھ / 1985ء) لکھتے ہیں: شب برات کا حلوہ اور محرم الحرام کا کھچڑا اور رجب کے کونڈے، یہ سب بروئے احسان اور ایصال ثواب کی صورتیں ہیں، اور مسلمانوں میں رائج ہیں اور کسی بات کا اہل اسلام میں بلا نکیر رواج پانا خود اس کے جواز کی دلیل ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ

ما راه المسلمون حسن فهو عند اللہ حسن

مسلمانوں میں جو بات اچھی سمجھی جائے وہ اللہ کو بھی پسند ہے۔ بزرگان دین کو جو ایصال ثواب کیا جاتا ہے، اسے بلحاظِ ادب نیاز کہا جاتا ہے، لہذا جب ایصال ثواب جائز تو یہ بھی جائز ہے۔ (فتاوی خلیلیہ، جلد 1، صفحہ 196 بتغیر قلیل، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: (ایصال ثواب کے لیے) کھچڑا پلاؤ فرنی جو چاہیں اور بے دقت میسر ہو برادری میں بانٹیں، محتاجوں کو کھلائیں، اپنے گھر والوں کو کھلائیں، نیک نیت سے سب ثواب ہے،

کما ثبت فی الاحادیث الصحاح حتی قال صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مااطعمت نفسک فھو لک صدقۃ

(یعنی جیسا کہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے، یہاں تک کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو کچھ تو اپنے آپ کو کھلائے وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہے۔) رہا یہ کہ کھچڑا کہاں سے ثابت ہوا، جہاں سے شادی کا پلاؤ، دعوت کا زردہ ثابت ہوا۔ یہ تخصیصات عرفیہ ہیں نہ شرعیہ، ہاں جو اسے شرعاً ضروری جانے وہ باطل پر ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 493 - 494، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: شریعت اسلامیہ میں ایصال ثواب کی اصل ہے اور صدقات مالیہ کا ثواب باجماع ائمۂ اہلسنت پہنچتا ہے، اور تخصیصات عرفیہ کو حدیث نے جائز فرمایا کہ صوم یوم السبت لا لک ولا علیک (ترجمہ: ہفتے کے دن کا (مخصوص) روزہ نہ تجھے مفید ہے اور نہ تیرے لیے نقصان دہ ہے، یعنی یہ تیرے لیے برابر ہے۔) مانعین کی یہ جہالت ہے کہ جواز خصوص کے لیے دلیل خصوص مانگتے ہیں اور منع خصوص کے لیے دلیل خصوص نہیں دیتے۔ ان سے پوچھئے تم جو منع کرتے ہو آیا اللہ و رسول نے منع کیا ہے یا اپنی طرف سے کہتے ہو، اگر اللہ و رسول نے منع فرمایا ہے تو دکھاؤ کہ کون سی آیت و حدیث میں ہے کہ حلوا ممنوع ہے، یا حضرت سید الشہداء حمزہ یا حضرت خیر التابعین اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اس کا ثواب پہنچانا ممنوع ہے، یا اعزہ و احبا میں اس کا تقسیم کرنا ممنوع ہے، اور جب نہیں دکھا سکتے تو جو بات اللہ و رسول نے منع نہیں فرمائی تم اس کے منع کرنے والے کون؟۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 132- 133، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں:  معلوم ہوا کہ (نذر و نیاز اور فاتحہ و ایصال ثواب کے حوالے سے) کوئی بھی تخصیص ممنوع کا قائل نہیں، اور یہ مانعین کا افترا اور بہتان ہے کہ مسلمان اس میں تخصیص کے قائل ہیں۔ حقیقت الامر یہ ہے کہ اس قسم کی جتنی تخصیصات ہیں عرفی تخصیصات ہیں، کوئی اسے شرعی تخصیصات بمعنی مذکور نہیں جانتا۔ لوگوں نے اپنے مصالح اور آسانی کے لحاظ سے ایسی خصوصیت مقرر کر رکھی ہیں اور اس خصوصیت کے غیر میں بھی جائز جانتے ہیں اور ایسی خصوصیت میں کوئی قباحت نہیں، اور اس میں شک نہیں کہ بایں معنی وقت مقرر کرنے میں جو آسانی ہے وہ مبہم میں نہیں کہ وقت کی پابندی میں جس طرح کام انجام پا جاتا ہے وہ مبہم رکھنے میں نہیں ہوتا کہ مبہم میں یہ ہوتا ہے کہ آج کریں گے کل کریں گے، یوہیں زمانہ گزر جاتا ہے اور کام انجام نہیں پاتا اور معین کرنے میں ہو جایا کرتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا، اور تمام منظم کام اس طرح بخوبی انجام پاتے ہیں، اس کو تخصیص شرعی قرار دینا خوش فہمی ہے اور اس تخصیص کے جواز میں اصلا شک نہیں... بلکہ ایسی بعض تخصیصات قرن اول میں بھی پائی جاتی تھیں، مثلاً صحیح بخاری و مسلم شریف میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ

كان النبي صلى اللہ تعالی عليه وسلم يأتي مسجد قباء كل سبت ماشيا و راكبا و يصلى فیه رکعتین

(یعنی) نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر ہفتہ کے دن مسجد قبا کو تشریف لے جاتے، کبھی سوار کبھی پیدل، اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے۔ ہفتہ ہی کے دن جانا تخصیص ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ دوسرے دن جانا ناجائز۔ اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر سر سال پر شہدائے احد کے مزارات پر جاتے اور حضور کے بعد خلفائے راشدین بھی جاتے۔ ان امور کو لحاظ کرتے ہوئے گیارہویں تاریخ کو فاتحہ دلانے میں اصلاً کوئی حرج نہیں اور جو تخصیص ممنوع ہے وہ یہاں متحقق نہیں، لہذا ناجائز بتانا صحیح نہیں۔ (فتاوی امجدیہ، جلد1، صفحہ 354- 356، مکتبہ رضویہ، کراچی)

فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1423ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: ماہ رجب میں کونڈے کے نام پر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز کرنا جائز و درست ہے۔ لیکن ۲۲ رجب کی بجائے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز ۱۵ رجب کو کریں کہ حضرت کا وصال ۱۵ رجب ہی کو ہوا ہے، نہ کہ ۲۲ رجب کو۔ (لہذا جب) ۱۵ رجب کو حضرت کا وصال ہوا ہے تو اسی تاریخ میں ان کی نیاز کریں۔(فتاوی فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 265-266 ملتقطاً، شبیر برادرز، لاہور)

شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1406ھ / 1985ء) لکھتے ہیں: ماہ رجب میں حضرت امام جعفر صادق رحمہ اﷲ کو ایصال ثواب کرنے کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ سب جائز اور ثواب کے کام ہیں، مگر کونڈوں کی فاتحہ میں جاہلوں کا یہ فعل مذموم اور نری جہالت ہے کہ جہاں کونڈوں کی فاتحہ ہوتی ہے وہیں کھلاتے ہیں، وہاں سے ہٹنے نہیں دیتے، یہ پابندی غلط اور بے جا ہے، مگر یہ جاہلوں کا طریقہ عمل ہے، پڑھے لکھے لوگوں میں یہ پابندی نہیں۔ اسی طرح کونڈوں کی فاتحہ کے وقت ایک کتاب داستان عجیب لوگ پڑھتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں، لہذا اس کو نہیں پڑھنا چاہیے، مگر فاتحہ دلانا چاہیے کہ یہ جائز اور ثواب کا کام ہے۔ (جنتی زیور، صفحہ 474 - 475، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1057
تاریخ اجراء: 23 رجب المرجب 1447ھ / 13 جنوری 2026ء