کیا زندہ انسان کو ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زندہ انسان کو ایصالِ ثواب کر نے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا زندہ لوگوں کو ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں؟
جواب
جی ہاں! زندہ لوگوں کو بھی ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں، بلکہ قیامت تک جو مسلمان آئیں گے، ان تمام کو بھی ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے، اور یہی طریقہ بہتر ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام، صحابہ کرام علیہم الرضوان و اولیائے کرام علیہم الرحمہ اور قیامت تک کے تمام مسلمانوں کو ایصالِ ثواب کیا جائے۔
البحر الرائق میں ہے
”لا فرق بین ان یکون المجعول لہ میتا او حیا“
ترجمہ: اس میں کوئی فرق نہیں کہ جس کو ثواب پہنچایا جائے، وہ وفات پا چکا ہو، یا زندہ ہو۔ (البحر الرائق، جلد 3، صفحہ 106، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے"حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے طفیل میں تمام انبیاء و اولیاء و مومنین و مومنات جو گزر گئے اور جو موجود ہیں اور جو قیامت تک آنے والے ہیں سب کو شامل کر سکتا ہے اور یہی افضل ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 9 صفحہ 622، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4746
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم 1447ھ/ 22 جنوری 2026ء