logo logo
AI Search

ریاکاری سے پڑھا گیا درود مقبول ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ریاکاری کے ساتھ پڑھے گئے درود شریف کا ثواب ملے گا یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک عالم کی تقریر سنی، کہ نماز و روزہ و زکوۃ سب میں ریاکاری ہو سکتی ہے، مگر درود پاک ایسا عمل ہے، کہ اس میں ریاکاری نہیں ہے، اور اگر درود پاک بغیر دھیان کے بھی پڑھیں، تب بھی قبول ہے، اور اس کا حوالہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کا فرمان ہے کہ درود پاک بغیر دھیان کے بھی پڑھیں تب بھی قبول ہے۔ کیا یہ بات درست ہے ؟

جواب

درود پاک میں دو جہتیں ہیں: ایک ہے جو مانگا وہ ملنا اور دوسرا ہے اس پر ثواب حاصل ہونا۔ جو مانگا ہے یعنی حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالی کی رحمت اور سلامتی ہو تو، یہ تو بہرصورت پورا ہو گا، خواہ مانگنے والے نے ریاکاری کے طور پر مانگا ہو، کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے خود فرمادیا ہے کہ اللہ تعالی اس نبی علیہ الصلوۃ والسلام پر درود بھیجتا ہے، لہذا لوگ کسی طور پر بھی درود پڑھیں، یا سرے سے پڑھیں ہی ناں، تب بھی آپ علیہ الصلوۃ والسلام پر اللہ تعالی کی طرف سے درود و رحمتیں نازل ہوتی ہی رہیں گی، جب کہ دوسری جہت یعنی اس پر ثواب ملنا، تو ثواب کا حصول تبھی ہوگا، جبکہ ثواب حاصل ہونے سے کوئی مانع نہ ہو، اور ریاکاری ثواب حاصل ہونے سے مانع ہے، لہذا اگر ریاکاری کے طور پر درود پاک پڑھا، تو ثواب نہیں ملے گا۔

رد المحتار میں علامہ ابن عابدین شامی حنفی رحمہ اللہ اس عنوان پر سلف صالحین کا کلام نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "والذي ينبغي حمل كلام السلف عليه أنه لما كانت الصلاة دعاء والدعاء منه المقبول ومنه المردود، وأن الله تعالى قد يجيب السائل بعين ما دعاه وقد يجيبه بغيره لمقتضى حكمته خرجت الصلاة من عموم الدعاء لأن الله تعالى قال {إن الله وملائكته يصلون على النبي} [الأحزاب: 56] بلفظ المضارع المفيد للاستمرار التجددي مع الافتتاح بالجملة الاسمية المفيدة للتوكيد وابتدائها بإن لزيادة التوكيد، وهذا دليل على أنه سبحانه لا يزال مصليا على رسوله - صلى الله عليه وسلم - ثم امتن سبحانه على عباده المؤمنين حيث أمرهم بالصلاة أيضا ليحصل لهم بذلك زيادة فضل وشرف وإلا فالنبي - صلى الله عليه وسلم - مستغن بصلاة ربه سبحانه وتعالى عليه، فيكون دعاء المؤمن بطلب الصلاة من ربه تعالى مقبولا قطعا أي مجانا لإخباره سبحانه وتعالى بأنه يصلي عليه، بخلاف سائر أنواع الدعاء وغيره من العبادات، وليس في هذا ما يقتضي أن المؤمن يثاب عليها أو لا يثاب، بل معناه وأن الطلب والدعاء مقبول غير مردود.وأما الثواب فهو مشروط بعدم العوارض كما قدمناه، فعلم أنه لا إشكال في كلام السلف، وأن له سندا قويا وهو إخباره تعالى الذي لا ريب فيه، فاغتنم هذا التحرير العظيم الذي هو من فيض الفتاح العليم"

ترجمہ: اور سلف کے کلام کو جس معنی پر محمول کرنا مناسب ہے وہ یہ ہے کہ جب درود پاک دعا ہے، اور دعا میں کچھ قبول ہوتی ہیں اور کچھ ردّ بھی ہو جاتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ کبھی سائل کو وہی چیز عطا فرماتا ہے جس کی اس نے دعا کی ہو اور کبھی اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت اس کے علاوہ کچھ اور عطا کرتا ہےتو اس بنا پر درود پاک عام دعا کے حکم سے خارج ہو جاتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ (الأحزاب: 56)، اور یہ (يُصَلُّونَ)مضارع کا صیغہ ہے جو تجدد اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس کا آغاز جملہ اسمیہ سے ہوا ہے جو تاکید پر دلالت کرتا ہے، اور پھر "إنَّ" کے ساتھ ابتداء مزید تاکید کے لیے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا رہتا ہے۔ پھر اس نے اپنے مومن بندوں پر احسان فرمایا کہ انہیں بھی درود بھیجنے کا حکم دیا، تاکہ انہیں اس کے ذریعے مزید فضل اور شرف حاصل ہو، ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے درود بھیجنے کی وجہ سےبے نیاز ہیں۔ لہٰذا مومن کا اپنے رب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی دعا کرنا یقیناً قبول ہے، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اپنے نبی پر درود بھیجتا ہے۔ یہ معاملہ دیگر دعاؤں اور عبادات کے برخلاف ہے۔اور اس میں یہ بات لازم نہیں آتی کہ مومن کو اس پر ثواب ملے گا یا نہیں ملے گا، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ دعا اور طلب قبول ہے، ردّ نہیں کی جاتی۔رہا ثواب، تو وہ موانع کے نہ ہونے کے ساتھ مشروط ہے، جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ سلف کے کلام میں کوئی اشکال نہیں، بلکہ اس کی مضبوط بنیاد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ خبر جس میں کوئی شک نہیں۔ لہٰذا اس عظیم تحقیق کو غنیمت جانو، جو الفتاح العلیم عزجل کے فیض میں سے ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 01، صفحہ 520، 521، دار الفكر، بيروت)

رد المحتار میں ہے "فمعنی ان الصلاۃ علی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم قد ترد عدم اثابۃ العبد علیھا لعارض کاستعمالھا علی محرم۔۔او لاتیانہ بھا من قلب غافل او لریاء وسمعۃ" ترجمہ: یہ جو کہا جاتا ہے کہ کبھی نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر بھیجا ہوا درود پاک مقبول نہیں ہوتا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی عارضے کے سبب اس پر ثواب نہیں ملتا، جیسے غیرمحل میں درود پاک پڑھا، کہ جہاں پڑھنا جائز نہیں تھا، یا غافل دل سے پڑھا، یا دکھلاوے اور سنانے کے لیے درود پاک پڑھا۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، ج 02، ص 283، مطبوعہ: کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے ”العابد محروم من ثواب عمله بالرياء“ ترجمہ: عبادت گزار ریاکاری کی وجہ سے اپنے عمل کے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، ج 1، ص 42، دار الفکر، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5002
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 13 مئی 2026ء