اہلسنت و جماعت کون ہیں اور کب سے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اہلسنت و جماعت کب سے ہیں اور جنتی گروہ کی نشانیاں کیا ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین درج ذیل سوالات کے بارے میں کہ:
(1) اہلسنت و جماعت کب سے ہے؟
(2) جنتی گروہ کون سا ہے اور اس کی نشانیاں کیا ہیں؟ کیونکہ ہر فرقہ ہی اپنے آپ کو جنتی اور دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے، تو جنتی گروہ کی تعیین کیسے ہوگی؟
جواب
(1) اہلسنت و جماعت وہی مسلمان ہیں، جو صحابہ کرام علیھم الرضوان کی طرح عقائد رکھنے والے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کے پیروکار ہیں۔ اس کی تفصیل کچھ یوں سمجھ لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں منافقوں کو چھوڑ کر تمام مسلمان ایک ہی جماعت تھے، اس میں سے کوئی گروہ خارج نہیں تھا، وہ سب اہلِ اسلام اور اہلِ سنت یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنتوں پر عمل کرنے والے تھے۔ اوران ہی کے راستے کو قرآن پاک نے صراطِ مستقیم یعنی سیدھا راستہ قرار دیا اور اسی جماعت کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بعد ازاں رفتہ رفتہ جب مختلف گمراہ فرقے جیسے دشمنانِ صحابہ نیز خوارج، معتزلہ، قدریہ اور دیگر گروہ پیدا ہوئے اور انہوں نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے عقائد کے خلاف دین میں نئی نئی باتیں داخل کیں، توان گمراہ فرقوں سے امتیاز کے لئے حق پر قائم مسلمانوں کو الگ پہچان دینے کے لیے واضح الفاظ میں اہلِ سنت و جماعت کہا جانے لگا۔
اور یاد رہے! اہلسنت وجماعت کا ٹائٹل بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرامین ہی سے ماخوذ ہے، کیونکہ احادیث میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فتنوں کی خبردیتے ہوئے ارشاد فرمایا: میری امت میں تہتر فرقے ہونگے اور میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا جنتی ہوگا۔ اور یہ واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی سنت ہے اور اسی پر صحابہ کرام عمل کرتے تھے۔ اس سے اہل سنت کا لفظ وجود میں آیا اور اس کا معنی یہ ہوا کہ سنت پر چلنے والے۔ جبکہ دوسری حدیث پاک میں جماعت کو جنتی گروہ قرار دیا گیا، تو یوں ان دونوں الفاظ کو ملانے سے حق پر قائم جماعت کا پورا نام اہلِ سنت و جماعت ہوا۔ الغرض اہلِ سنت وجماعت بنیادی طور پر صحابہ کرام کے طریقے پر چلنے والی جماعت ہے، جسے بعد میں علمائے حق نے اہلِ سنت و جماعت کے نام کی باقاعدہ پہچان عطا کردی، گویا اس کی ابتداء اسلام کے آغاز ہی سے ہے۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان وتابعینِ عظام کے راستے کو قرآنِ پاک میں صراط مستقیم کہا گیا اور اہلسنت وجماعت اسی راستے پر گامزن ہیں۔ چنانچہ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: ہم کو سیدھا راستہ چلا۔ (پارہ 01، سورۃ الفاتحۃ، آیت 05)
اس آیتِ مبارکہ کے تحت ابو الحسن علی بن محمد البصری البغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (وفات: 450ھ) لکھتے ہیں: ”هو رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم و أخيار أهل بيته و أصحابه و هو قول الحسن البصري“ ترجمہ: صراطِ مستقیم سے مراد نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے بہترین اہلِ بیت اور صحابہ کرام ہیں اور یہ قول امام حسن بصری علیہ الرحمۃ کا ہے۔ (تفسير الماوردي، تحت ھذہ الآیہ، ج 01، ص 59، بيروت)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: صراطِ مستقیم سے مراد عقائد کا سیدھا راستہ ہے، جس پر تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام چلے یا اِس سے مراد اسلام کا سیدھا راستہ ہے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم، بزرگانِ دین اور اولیائے عِظام رحمۃ اللہ تعالی علیہم چلے جیسا کہ اگلی آیت میں موجود بھی ہے اور یہ راستہ اہلسنت کا ہے کہ آج تک اولیا ئے کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہم صرف اِسی مسلک اہلسنت میں گزرے ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان، پارہ 01، سورۃ الفاتحۃ، تحت الایت 05، ج 1، ص 52، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
قرآنِ پا ک میں جماعتِ صحابہ کے طریقے پر چلنے کا حکم ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا﴾ ترجمہ: اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔ (پارہ 3، سورۃ اٰل عمران، آیت 103)
اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: یاد رہے کہ اصل راستہ اور طریقہ مذہب اہلسنت ہے۔ حکم یہ ہے کہ جس طریقے پر مسلمان چلتے آرہے ہیں، جو صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے جاری ہے اور سنت سے ثابت ہے، اس سے نہ ہٹو۔ اہلِ سنت و جماعت تو سنت رسول اور جماعت صحابہ کے طریقے پر چلتے آرہے ہیں، تو سمجھایا تو ان لوگوں کو جائے گا جو اس سے ہٹے نہ کہ اصل طریقے پر چلنے والوں کو کہا جائے کہ تم اپنا طریقہ چھوڑ دو۔ (تفسیر صراط الجنان، پارہ 03، سورۃ اٰل عمران، تحت الایت 103، ج 2، ص 21، 22، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
اہل سنت وجماعت کی ابتداء دورِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی سے ہے۔ چنانچہ اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: فائدہ جلیلہ: محاورہ قرآن و حدیث میں مومن و مسلم خاص اہلسنت کو کہتے ہیں۔ زمانہ نزولِ قرآن عظیم و ارشاد حدیث کریمہ میں صرف اہل سنت و جماعت ہی تھے، اس زمان برکت نشان میں کسی بدمذہب و مبتدع کا ہونا محال تھا کہ بد مذہبی شبہ و تاویل سے پیدا ہوتی ہے، جسے یقینِ قطعی سے بدلنے والے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم دنیا میں جلوہ فرما تھے، اگر شبہ گزرتا، حضور کشف فرماتے، شبہ و الامانتا تو سُنی ہوتا، نہ مانتا، تو کافر ہوجاتا، یہ بیچ کی شق وہاں ممکن ہی نہ تھی۔ (فتاوی رضویہ، ج 09، ص 453 / 454، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
یونہی شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ اشعۃ اللمعات میں ارشاد فرماتے ہیں: اہلسنت و جماعت کی دلیل و برہان یہ ہے کہ یہ دین نقل سے بھی تعلق رکھتا ہے، صرف عقل کافی نہیں (جیسے گمراہ معتزلہ) اور متواتر اخبار سے معلوم اور احادیث و آثار کی تلاش و تتبع سے متعین ہوچکا ہے کہ سلف صالح یعنی صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگ سب اسی عقیدہ اور اسی طریقہ پر تھے اور مذاہب و اقوال میں یہ بدعات و خواہشات صدرِ اول کے بعد پیدا ہوئیں۔ صحابہ کرام اور اسلافِ متقدمین سے کوئی ان بدعات و خواہشات کا قائل نہ تھا۔ بلکہ وہ حضرات ان سے پاک و بری تھے اور جو لوگ ان بدعات و خواہشات کے قائل ہوئے، اہلسنت و جماعت نے ان سے قطع تعلقی اختیار کرلی اور ان کے خیالات و عقائد کا رد فرمایا۔ احادیث کی چھ کتب اور دوسری مشہور و معتمد کتابیں کہ احکامِ اسلامی کا مدار و مبنٰی ان پر ہے، ان کے مؤلفین اور مذاہب اربعہ کے آئمہ، فقہاء وغیرہم جو ان ائمہ کے طبقہ میں تھے، سب اسی مذہب اہلسنت وجماعت پر تھے اور جو کچھ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اجماع امت میں آچکا ہے، ان حضرات نے اسی کی تائید کی ہے۔ اس بناء پر ان کا نام اہلسنت و جماعت پڑ گیا ہے، اگرچہ یہ نام بعد میں پڑا، لیکن ان کا مذہب و اعتقاد قدیم ہے۔ (اشعۃ اللمعات مترجم، حدیث 158، ج 01، ص 461 / 462، مطبوعہ لاہور، ملتقطاً)
(2) اب رہی یہ بات کہ جنتی گروہ کی نشانیاں کیا ہیں، کیونکہ ہر فرقہ ہی اپنے آپ کو جنتی کہتا ہے، تو اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ جنتی گروہ کی بعض نشانیاں تو خود نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرما دیں اور بعض ائمہ مجتہدین و علماءِ کاملین نے نبی پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرامین کی روشنی میں بیان فرمائیں۔ اولاً ان نشانیوں کو ذکر کیا جا رہا ہے جن کی تصریح خود نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیان فرمائی اور وہ درج ذیل ہیں:
جنتی گروہ کی پہلی نشانی: حدیثِ پاک میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنتی گروہ کی ایک نشانی و علامت ”ما انا علیہ و اصحابی“ بیان فرمائی، یعنی وہ کہ جس کا عقیدہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کے عقیدہ کے موافق ہو۔ تو جس جماعت کا عقیدہ ”ماانا علیہ و اصحابی“ کے موافق ہوگا، وہی حق پر ہے اور وہی جنتی ہے اور جس کا اس کے خلاف ہوگا، وہ جھوٹا و جہنمی ہے۔ اب ہم صحابہ کرام علیہم الرضوان سے مروی ہونے والی مختلف احادیث دیکھتے ہیں، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ یہ حضرات نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے اللہ کی عطا سے علمِ غیب مانتے تھے۔ یونہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اختیارات و معجزات کو ماننا، مافوق الاسباب امور میں آپ ﷺ سے مدد مانگنا جیسے اپنے امراض اور کھانے پانی کی قلت میں آپ ﷺ سے مدد مانگنا، آپ ﷺ کے بدن سے چھونے والے کپڑوں اور پانی اور اشیاء کو متبرک جاننا اور انہیں شفا و برکت کا وسیلہ بنانا، بے مثل بشر ماننا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بے حد ادب و احترام اور تعظیم و توقیر کرنا ان کا معمول تھا، جس کی مکمل تفصیل اس موضوع پر علماء اہل سنت کی لکھی ہوئی کتب جیسے جاء الحق وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اور بحمد اللہ اہلسنت و جماعت آج بھی انہی عقائدِ حقہ، صحیحہ پر قائم ہیں جو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے عقائد و نظریات تھے۔ جبکہ اہلسنت و جماعت کے مقابلے میں باقی گمراہ و بد دین فرقے ان جیسے کئی عقائد حقہ، صحیحہ کا انکار کرتے ہیں، بلکہ ان عقائد کے ماننے والوں کو کافر و مشرک قرار دیتے ہیں اور بعض فرقے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان (جن کے راستے پر چلنے کا حکم دیا گیا، ان) ہی پر طعن و تشنیع کرتے ہیں، بلکہ بعض تو معاذ اللہ چند صحابہ کرام علیہم الرضوان کے علاوہ بقیہ تمام کو ظالم و غاصب اور منافق و مرتد قرار دیتے ہیں، تو جن فرقوں کے ایسے بدترین عقیدے ہوں، وہ جنتی گروہ میں سے کیسے ہوسکتے ہیں؟ لہذا اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آج کے دور میں ”ماانا علیہ و اصحابی“ پر مکمل طور پر کاربند جماعت صرف وہی ہے جن کی پہچان آج بھی اہلسنت وجماعت کے نام سے ہے۔
دوسری نشانی: کئی احادیثِ مبارکہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنتی گروہ کی دوسری نشانی یہ بیان فرمائی کہ جنت میں جانے والا فرقہ مسلمانوں کی بڑی جماعت ہوگی، جس کو دوسری حدیث میں سوادِ اعظم کے نام سے تعبیر کرتے ہوئے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم اختلاف دیکھو، تو سوادِ اعظم کے ساتھ ہوجاؤ، سوادِ اعظم کی اتباع و پیروی کرو، تو جو سوادِ اعظم سے الگ ہوگا، وہ جہنم میں جائے گا۔ اور پوری دنیا میں موجود تمام فرقوں کو دیکھا جائے کہ کونسی جماعت سب سے بڑی ہے، جو عقائد و نظریات میں باہم مختلف بھی نہیں، تو بحمد اللہ پوری دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت و سواد اعظم اہلسنت وجماعت ہے، حتی کہ اس کے مقابل کل گمراہ فرقوں کی تعداد ملانے کے باوجود بھی اہلسنت و جماعت کی تعداد ہی سب سے زیادہ ہے۔
یونہی ائمہ مجتہدین و علمائے کاملین نے زمان و مکان اور حالات کے اختلاف اور نت نئے فرقوں کے خروج کے وقت قرآن و احادیث کی روشنی میں جنتی گروہ / اہلسنت کی مختلف نشانیاں بیان فرمائیں، ان میں سے چند یہ ہیں: ٭ تمام انبیاء، صحابہ، اہلِ بیتِ اطہار اور اولیاء سے سچی محبت رکھنا، ان کا ادب و احترام کرنا اور ان کا ذکر صرف خیر کے ساتھ کرنا۔ ٭ صرف فرشتے اورانبیاء کرام علیھم الصلوۃ و السلام ہی کو معصوم ماننا، ٭ خلفاءِ راشدین کی خلافت کو حق جاننا اور بترتیبِ خلافت ان کو افضل جاننا، بالخصوص صدیق اکبر و عمر فاروق رضی اللہ عنھما کو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل جاننا۔
اب دیکھا جائے تو اہل سنت کے علاوہ بقیہ فرقے اوپر مذکور عقائد میں کہیں نہ کہیں راہِ حق سے منحرف نظر آتے ہیں۔ کچھ فرقے انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء کرام کی شان میں طرح طرح کی گستاخیاں کرتے ہیں، بعض صحابہ کرام علیہم الرضوان کو برا بھلا کہتے اور خلفاء راشدین میں سے پہلے تین کی خلافت کا انکار کرتے ہیں، بعض تقلید کا انکار کرتے، بلکہ تقلید کرنے والے کو مشرک و بدعتی قرار دیتے ہیں۔ تو یہ جنتی گروہ میں سے کیسے ہو سکتے ہیں؟ الغرض مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اہلسنت و جماعت ہی جنتی گروہ ہے۔
پہلی نشانی سے متعلق حدیثِ پاک:
المعجم الکبیر للبطرانی، شرح السنۃ للبغوی اور سنن ترمذی میں ہے: ”عن عبد اللہ بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم ۔۔۔ إن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين و سبعين ملة و تفترق أمتي على ثلاث و سبعين ملة، كلهم في النار إلا ملة واحدة، قالوا: من هي يا رسول اللہ؟ قال: ما أنا عليه و أصحابي“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک بنی اسرائیل، بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، جو سب کے سب جہنمی ہوں گے، سوائے ایک ملت کے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کی نشانی کیا ہے؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (سنن الترمذي، جلد 4، صفحہ 586، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیۃ)
دوسری نشانی سے متعلق احادیث:
مسند دارمی، کنزالعمال، مسند احمد بن حبنل اور سنن ابی داؤد اور سنن ابن ماجہ میں جنتی گروہ کی دوسری نشانی جماعت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ ابنِ ماجہ کے الفاظ یہ ہیں: ”و إن أمتي ستفترق على ثنتين و سبعين فرقة، كلها في النار إلا واحدة و هي الجماعة“ ترجمہ: عنقریب میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائےگی، ایک کے علاوہ سب جہنم میں ہوں گے اور وہ (ایک جنت میں جانے والی) جماعت ہے۔ (سنن ابن ماجه، كتاب الفتن، باب افتراق الامم، جلد 5، صفحه 130، الناشر، فيصل عيسى البابي الحلبي)
المعجم الأوسط للطبرانی کی روایت میں سوادِ اعظم کا لفظ ہے: ”و أمتي تزيد عليهم فرقة، كلها في النار إلا السواد الأعظم“ ترجمہ: اور میری امت میں ان کی بہ نسبت ایک فرقہ زیادہ ہوگا (73 فرقے ہونگے) سب کے سب جہنم میں جائیں گے، سوائے سوادِ اعظم کے۔ (المعجم الأوسط للطبراني، جلد 7، صفحہ 175، مطبوعہ القاهرة)
سوادِ اعظم کی اتباع ضروری ہے اور جو اس سے الگ ہوگا، وہ جہنم میں جائے گا۔ چنانچہ مصابيح السنۃ، مشكاة المصابيح، كنز العمال اور المستدرك على الصحيحين میں ہے: ”عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: لا يجمع اللہ هذه الأمة على الضلالة أبدا و قال يد اللہ على الجماعة، فاتبعوا السواد الأعظم، فإنه من شذ شذ في النار“ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں ہوگی اور مزید فرمایا کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے، پس تم سوادِ اعظم کی اتباع کرو، جو ان سے الگ ہوا، جہنم میں الگ ہوکر جائے گا۔ (المستدرك على الصحيحين، حدیث 391، ج 1، ص 199، مطبوعہ بيروت)
ائمہ مجتہدین اور علمائے کاملین کی بیان کردہ نشانیوں پر جزئیات:
عظیم تابعی بزرگ، کروڑوں حنفیوں کے پیشوا، امام الائمہ، امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اہلسنت کی علامات کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”ان تفضل الشیخین ای ابا بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما و تحب الختنین ای عثمان و علیا رضی اللہ تعالیٰ عنھما ان تری المسح علی الخفین“ ترجمہ: (ان کی علامت یہ ہے کہ) شیخین یعنی حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو (تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان) پر فضیلت دی جائے۔ اور ختنین یعنی حضرت عثمان غنی و علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے محبت کی جائے اور موزوں پر مسح کیا جائے۔ (شرح فقہ اکبر، صفحہ 76، مطبوعہ کراچی )
تمام صحابہ کرام واہل بیت رضی اللہ تعالی عنہم کا صرف خیر کے ساتھ ذکر کرنا اہلسنت و جماعت ہونے کی نشانی ہے۔ چنانچہ شعب الایمان میں امام بکر بن عیاش علیہ الرحمہ سے منقول ہے: ”أوصاف أهل السنة و الجماعة من كف عن أصحاب النبي صلى اللہ عليه و سلم فيما اختلفوا فيه فلم يذكر أحدا منهم إلا بخير“ اہلِ سنت و جماعت کی صفات میں سے یہ ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں زبان کو روکے رکھتے ہیں اور ان میں سے کسی کا ذکر نہیں کرتے مگر خیر اور بھلائی کے ساتھ۔ (شعب الإيمان، حدیث 1513، ج 02، ص 192، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت)
عصمتِ انبیاء سے متعلق امام اہلسنت فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: اجماعِ اہلسنت ہے کہ بشر میں انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ جو دوسرے کو معصوم مانے اہلسنت سے خارج ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 187، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اہلسنت وجماعت کی نشانیوں سے متعلق فتاوی یورپ میں ہے: اہل سنت و جماعت اسے کہتے ہیں جو "ما اناعلیہ و اصحابی" کا مصداق ہو۔ زمان و مکان اور حالات کے اختلاف سے سنی کی تعریف مختلف ہوتی رہی ۔۔۔ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہم نے "ما انا علیه و اصحابی" کے ساتھ ”تفضل الشیخین علی الختنین“ کو بھی اہل سنت و جماعت کی پہچان اور شعار قرار دیا ۔۔۔ مختصر جواب یہ ہے کہ سنی مسلمان وہ ہے جو "ما اناعلیہ و اصحابی" کا مصداق ہو۔ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کی افضلیت کا حسب ترتیب خلافت معتقد و قائل ہو۔ صحابہ کرام کا ذکر بھلائی کے سوا نہ کرتا ہو۔ آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک کا مقلد ہو۔ (فتاوی یورپ، ص 63 تا 66، مطبوعہ شبیر برادر، لاہور، ملتقطاً)
شروع سے لے کر اب تک امت کے علماء، اہلِ سنت وجماعت ہی کو جنتی گروہ قرار دیتے رہے، اس پر جزئیات:
علامہ ابو بکر محمد بن عباس خوارزمی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 383ھ) فرماتے ہیں: ”قال النبي صلى اللہ عليه وسلم ستفترق أمتي على ثلاث و سبعين فرقة، الناجية منها فرقة۔ (اعلم) أن الناجي من هذه الأمة أهل السنة و الجماعة“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، ان میں سے ایک فرقہ جنتی ہوگا۔ جان لو کہ اس امت میں جنتی فرقہ اہلِ سنت و جماعت ہے۔ (مفيد العلوم ، ص 66، مطبوعہ بیروت)
علامہ ابو بکر عبد القاہر بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 429ھ) ارشاد فرماتے ہیں: ”ان النبى عليه السلام لما ذكر افتراق امته بعده ثلاثا و سبعين فرقة و اخبر ان فرقة واحدة منها ناجية، سئل عن الفرقة الناجية و عن صفتها فاشار الى الذين هم على ما عليه هو و اصحابه و لسنا نجد اليوم من فرق الامة من هم على موافقة الصحابة رضى الله عنهم غير اهل السنة و الجماعة ۔۔۔ دون الرافضة و القدرية و الخوارج و الجهمية و النجارية و المشبهة و الغلاة و الحلولية“ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے بعد اپنی امت کے تہتر فرقوں میں بٹ جانے کا ذکر فرمایا، اور خبر دی کہ ان میں سے ایک فرقہ نجات پانے والا ہوگا۔ اس نجات یافتہ فرقے کے بارے میں اور اس کی صفات کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو اس راستے پر ہوں گے جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے صحابہ ہیں۔ آج ہم امت کے مختلف فرقوں میں ایسا کوئی گروہ نہیں پاتے جو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے طریقے پر ہو، سوائے اہلِ سنت وجماعت کے۔ اس کے علاوہ روافض، قدریہ، خوارج، جہمیہ، نجاریہ، مشبہہ، غالی اور حلولیہ وغیرہ اس طریقے پر نہیں ہیں۔ (الفرق بين الفرق، ص 304 تا 309، مطبوعه بيروت، ملتقطاً)
تفسیر ابنِ کثیر میں ہے: ”هذه الأمة أيضا اختلفوا فيما بينهم على نحل كلها ضلالة إلا واحدة و هم أهل السنة و الجماعة، المتمسكون بكتاب اللہ و سنة رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم و بما كان عليه الصدر الأول من الصحابة و التابعين و أئمة المسلمين في قديم الدهر“ ترجمہ: یہ امت بھی آپس میں مختلف فرقوں میں بٹ گئی، جن میں سے سب گمراہی پر ہیں، سوائے ایک کے اور وہ اہلِ سنت و جماعت ہیں، جو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے والے ہیں اور انہی عقائد پر ہوں گے، جس پر صدرِ اول کے لوگ صحابہ، تابعین اور آئمہ مسلمین شروع سے چلے آرہے ہیں۔ (تفسیر ابنِ کثیر، ج 06، ص 258، مطبوعہ بيروت)
شافعی محدث امامِ اجل علامہ جلال الدين سيوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 911ھ) فرماتے ہیں: ”الفرق الضالة اثنتين و سبعين فرقة و الثالثة و السبعون هم أهل السنّة و الجماعة و هي الفرقة الناجية“ ترجمہ: بہتر فرقے گمراہ ہیں اورتہترواں اہل سنت و جماعت ہے اور وہی جنتی فرقہ ہے۔ (مرقاة الصعود إلى سنن أبي داود، کتاب السنۃ، جلد 3، صفحہ 1170، مطبوعہ بیروت)
عظیم صوفی بزرگ محمد بن علی ابو طالب مکی علیہ الرحمۃ (سال وفات 386ھ) فرماتے ہیں: ”و ليس السواد الأعظم و الجمّ الغفير الدهماء إلا أهل السنة و الجماعة“ ترجمہ: سوادِ اعظم اور بہت بڑی کثرت والی عام جماعت صرف اہلِ سنت و جماعت ہی ہیں۔ (قوت القلوب في معاملة المحبوب، ج 02، ص 212، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت)
غزالی زماں حضرت علامہ مولانا سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (1406ھ) فرماتے ہیں: اس مقام پر جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس دورِ اختلاف و افتراق میں حق پسند اور نجات پانے والے گروہ کا کیسے پتہ چلے اور کیوں کر معلوم ہو کہ موجودہ فرقوں میں حق پر کون ہے؟ اس حدیثِ پاک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہی بات ارشاد فرمائی ہے کہ جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑو۔ یہاں اختلاف سے مراد اصولی اختلاف ہے، جس میں کفر و ایمان اور ہدایت و اختلاف کا فرق پایا جائے، فروعی اختلاف ہرگز مراد نہیں، کیونکہ وہ تو رحمت ہے۔ اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر موجودہ اسلامی فرقوں میں اس بڑے فرقے کو تلاش کیجیے جو باہم اصولاً مختلف نہ ہو، تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ کو ایسا فرقہ اہل سنت و جماعت کے سوا کوئی نہ ملے گا۔ جس میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی قادری، چشتی، سہروردی، نقشبندی، اشعری، ماتریدی سب شامل ہیں، یہ سب اہل سنت ہیں اور ان کے مابین کوئی ایسا اصولی اختلاف نہیں جس میں کفر و ایمان یا ہدایت و دلالت کا فرق پایا جائے۔ لہذا اس دور پرفتن میں حدیث مذکور کی رو سے سواد اعظم و اہل سنت و جماعت کا حق پر ہونا ثابت ہوا۔ (مقالات کاظمی، جلد 4، صفحہ 355 تا 356، مطبوعہ ملتان، ملتقطاً)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0127
تاریخ اجراء: 07 ذی القعدہ 1447ھ / 25 اپریل 2026ء