خود کشی کرنے والے کو ایصال ثواب کرسکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خود کشی کرنے والے کو ایصال ثواب کرنے کا حکم ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے ایک کزن (خالہ کے بیٹے) نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔ زید کی یہ روٹین ہے کہ وہ روزانہ تلاوتِ قرآن، درود شریف اور دیگر ذکر و اذکار کر کے اپنے تمام فوت شدہ رشتہ داروں کو ایصالِ ثواب کرتا ہے۔ اب زید اس الجھن میں ہے کہ چونکہ اس کے خالہ کے بیٹے نے خود کشی کی ہے تو کیا شرعاً اسے ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب
خود کشی کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں ایسے شخص کے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ جہاں تک ایسے شخص کو ایصال ثواب کرنے کا معاملہ ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ خود کشی کرنے والے کو ایصال ثواب یعنی اس کے لیے بخشش کی دعا کرسکتے ہیں، کیونکہ خود کشی اگرچہ بہت بڑا گناہ ہے، لیکن اس کی وجہ سے مسلمان، کافر نہیں ہوتا، بلکہ وہ بدستور مسلمان ہی رہتا ہے، جبکہ خود کشی کو حلال سمجھ کر نہ کرے اور مسلمان کو ایصال ثواب کرسکتے ہیں۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں زید اپنی خالہ کے بیٹے کو بھی ایصال ثواب کرسکتا ہے۔
خود کشی کرنے والے کی مذمت کے متعلق اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے:
﴿وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا﴾
ترجمہ کنز العرفان: اوراپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔ بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ (پارہ 5، سورۃ النساء، آیت29، 30)
صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفٰی 1367 ھ) مذکورہ آیت کے تحت لکھتے ہیں: ”اس آیت سے خود کُشی کی حرمت بھی ثابت ہوئی۔“ (خزائن العرفان، صفحہ163، تحت الایۃ: 29، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خود کشی کرنے والے کے لیے بخشش کی دعا کی، چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے:
’’عن جابر: ان الطفيل بن عمرو الدوسي اتى النبي صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ وهاجر معه رجل من قومه، فاجتووا المدينة فمرض فجزع، فأخذ مشاقص له فقطع بها براجمه، فشخبت يداه حتى مات، فرآه الطفيل بن عمرو في منامه، فرآه وهيئته حسنة ورآه مغطيا يديه، فقال له: ما صنع بك ربك؟ فقال: غفر لي بهجرتي إلى نبيه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال: ما لي اراك مغطيا يديك؟ قال: قيل لي: لن نصلح منك ما افسدت. فقصها الطفيل على رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: اللهم وليديه فاغفر“
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ (مکہ سے ہجرت کرکے ) نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان کے ساتھ ان کی قوم کا ایک اور شخص بھی ہجرت کر کے آیا۔ وہ مدینہ کی آب و ہوا کو برداشت نہ کرسکا اور بیمار ہوا اور گھبرا گیا، اس نے اپنے تیروں کے چوڑے پھل (چھریاں) پکڑے اور ان سے اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے، جس سے اس کے دونوں ہاتھوں سے اتنا خون بہا کہ وہ فوت ہو گیا۔ پھر حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا، تو وہ بہت اچھی حالت میں نظر آیا مگر اپنے دونوں ہاتھ ڈھانپے ہوئے تھا۔ حضرت طفیل رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ اس نے جواب دیا: اپنے نبی ﷺ کی طرف ہجرت کرنے کی برکت سے اللہ نے مجھے بخش دیا۔ حضرت طفیل رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں ہاتھ ڈھانپے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ اس نے جواب دیا: مجھ سے کہا گیا ہے کہ جس چیز کو تم نے خود بگاڑا ہے ہم اسے ہرگز درست نہیں کریں گے۔ حضرت طفیل نے یہ سارا ماجرا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کے ہاتھوں کی غلطی کو بھی معاف فرما دے۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 76، مطبوعہ دار طوق النجاۃ )
حضرت علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی علیہ الرحمۃ (متوفی656ھ) "المفہم لمااشکل من تلخیص کتاب مسلم" میں مذکورہ حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
’’الظاهر: ان هذا الرجل ادركته بركة دعوة النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فغفر له وليديه، وكمل له ما بقي من المغفرة عليه؛ وعلى هذا: فيكون قوله: لن نصلح منك ما افسدت ممتدا إلى غاية دعاء النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم له؛ فكأنه قيل له: لن نصلح منك ما افسدته ما لم يدع لك النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وهذا الحديث يقتضي ان قاتل نفسه ليس بكافر، وانه لا يخلد في النار، وهو موافق لمقتضى قوله تعالى: ان اللہ لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء. وهذا الرجل ممن شاء اللہ ان يغفر له؛ لأنه انما اتى بما دون الشرك، وهذا بخلاف القاتل نفسه المذكور في حديث جندب؛ فإنه ممن شاء اللہ ان يعذبه“
ترجمہ: ظاہر یہ ہے کہ اس شخص کو نبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت حاصل ہوگئی، چنانچہ اللہ نے اسے اور اس کے ہاتھوں کو بخش دیا، اور مغفرت کا جو حصہ اس کے حق میں باقی رہ گیا تھا وہ (اس دعا کے ذریعے) مکمل ہوگیا۔ اس بنیاد پر یہ قول کہ ’’ہم تمہاری اس چیز کو درست نہیں کریں گے جسے تم نے خود بگاڑا ہے“، اس کا وقت نبی کریم ﷺ کی اس کے لیے دعا فرمانے تک ہی تھا؛ گویا اس سے یہ کہا گیا تھا کہ: ہم تمہارے اس بگاڑ کو اس وقت تک درست نہیں کریں گے جب تک کہ نبی کریم ﷺ تمہارے لیے دعا نہ فرما دیں۔ اور یہ حدیث اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خود کشی کرنے والا کافر نہیں ہے، اور وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا، اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے عین مطابق ہے کہ: ’’بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے“ اور یہ شخص (جس کا تذکرہ حدیث میں ہے) ان لوگوں میں سے ہے جنہیں اللہ نے بخشنے کا ارادہ فرمایا؛ کیونکہ اس نے شرک سے کم تر گناہ (یعنی خود کشی) کیا تھا۔ اور یہ معاملہ اس خود کشی کرنے والے کے برعکس ہے جس کا ذکر ’’حدیثِ جندب“ میں ہے (جسے عذاب کی وعید سنائی گئی)، کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہیں اللہ نے عذاب دینے کا ارادہ فرمایا تھا۔ (المفہم لمااشکل من تلخیص کتاب مسلم، جلد 1، صفحہ 324، مطبوعہ دار ابن كثير، دمشق)
خود کشی اگرچہ بہت بڑا گناہ ہے، لیکن اس سے مسلمان کافر نہیں ہوتا جبکہ حلا ل سمجھ کر نہ کی ہو، بلکہ وہ مومن ہی رہتا ہے اور مومن کے لیے ایصال ثواب کرنا جائز ہے، جیسا کہ ابو حفص عمر بن محمد بن احمد نسفی رحمہ اللہ (المتوفٰی 687 ھ) لکھتے ہیں:
”والکبیرۃ لا تخرج العبد المؤمن من الإیمان ولا تدخلہ في الکفر“
ترجمہ: اور گناہ کبیر ہ بندہ مؤمن کو ایمان سے خارج نہیں کرتا اور نہ ہی اس کو کفر میں داخل کرتا ہے۔ (العقائد النسفیۃ، صفحہ 253، 254، 255 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
اسی کتاب میں دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
’’والعفو عن الكبيرۃ إذا لم تكن عن استحلال والاستحلال كفر“
یعنی گناہ کبیرہ سے(توبہ کرکے) معافی اسی صورت میں ہوتی ہے جبکہ اسے حلال سمجھ کر نہ کیا ہو، ورنہ حلال سمجھ کر کرنے کی صورت میں کفر ہوگا۔ (العقائد النسفیۃ، صفحہ 266، مکتبۃ المدینہ کراچی )
فتاوی فیض الرسول میں ہے: زید جس نے خودکشی کر لی۔۔۔ اس کی روح کو ایصالِ ثواب کرنا، جائز ہے۔ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 418، مطبوعہ اکبر سیلز لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD -9897
تاریخ اجراء:15 شوال المکرم 1447 ھ/04 اپریل 2026 ء