تدفین سے پہلے ایصال ثواب کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تدفین سے پہلے میت کو ایصال ثواب کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ابھی تدفین نہ ہوئی ہو تو بھی فوت ہونے والے کے لیے فاتحہ اور ایصال ثواب کر سکتے ہیں؟ اس لیے کہ یہاں غیر مسلم ممالک میں بعض اوقات ضروری کاروائی پوری ہونے میں کچھ ٹائم لگ جاتا ہے تو کیا اس دوران میت کے ایصال ثواب کے لیے تلاوت وغیرہ کا سلسلہ کرنا جائز ہوگا؟
جواب
قرآن و سنت کی رو سے ایصال ثواب کرنا جائز بلکہ مستحب عمل ہے جو کہ زندہ و مردہ تمام مسلمانوں کو ہو سکتا ہے، شرعاً اس میں قبل از تدفین یا بعد از تدفین وغیرہ کی کوئی قید نہیں، لہذا میت کو دفن کرنے سے پہلے بھی اس کے لیے فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کرنا جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ خاص ایصال ثواب کی وجہ سے تجہیز و تکفین میں تاخیر نہ ہونے پائے۔ مزید یہ کہ اگر میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے قریب قرآن کریم کی تلاوت کی جائے تو بہتر ہے کہ میت کا پورا جسم سر سے پاؤں تک کپڑے سے ڈھکا ہوا ہو۔
علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231 ھ/1815ء) لکھتے ہیں: ”فللإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره عند أهل السنة والجماعة سواء كان المجعول له حيا أو ميتا من غير أن ينقص من أجره شيء وأخرج الطبراني والبيهقي في الشعب عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا تصدق أحدكم بصدقة تطوعا فليجعلها عن أبويه فيكون لهما أجرها ولا ينقص من أجره شيء“
ترجمہ: پس اہل سنت و جماعت کے نزدیک انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے کسی عمل کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچا دے، بغیر اس کے کہ عمل کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی آئے، خواہ وہ شخص جسے ثواب پہنچایا گیا زندہ ہو یا فوت شدہ۔ امام طبرانی نے اور علامہ بیہقی نے شعب الاِیمان میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی بطور نفل صدقہ کرے، تو اُسے چاہیے کہ اسے اپنے والدین کی طرف سے کر دے، پس اس صدقے کا ثواب ان دونوں کو ہوگا اور صدقہ کرنے والے کے اجر میں سے کوئی چیز کم نہ ہو گی۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الصلاۃ، فصل في زيارة القبور، صفحہ 621-622، دار الکتب العلمیة، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اموات کو ایصال ثواب قطعاً مستحب۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ" (یعنی جو اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکے تو چاہیے کہ اسے نفع پہنچائے۔)“ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 604، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علامہ شیخ الاسلام محمد دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تصنیف "کشف الغطاء عما لزم للموتی علی الأحیاء" کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ”فاتحہ و دعا برائے میت پیش از دفن درست است و ہمین است روایت معمولہ کذا فی الخلاصۃ الفقہ“ ترجمہ: میت کے لیے تدفین سے پہلے فاتحہ پڑھنا اور دعا کرنا درست ہے، اور یہی روایت معمول بہا ہے، اسی طرح خلاصۃ الفقہ میں ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 255، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”(میت کو تسبیح و تہلیل اور قرآن مجید پڑھ کر ایصال ثواب کرنا) جائز ہے، جبکہ میت کی تجہیز و تکفین میں اس کے باعث تاخیر نہ ہو، اس کا اہتمام اور لوگ کرتے ہوں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 606، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1423ھ/2001ء) لکھتے ہیں: ”دفن سے پہلے ایصال ثواب جائز ہے۔ حضرت صالح بن درہم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ "ہم حج کے واسطے مکہ مکرمہ پہنچے تو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے اور فرمایا کہ تمہارے شہر بصرہ کے قریب ایک بستی ہے جس کا نام ابلہ ہے، اس میں ایک مسجد عشار ہے، لہذا تم میں سے کون میرے ساتھ وعدہ کرتا ہے کہ اس مسجد میں میرے لیے دو یا چار رکعتیں پڑھے، ويقول هذه لابی هريرة یعنی اور کہے یہ رکعتیں ابو ہریرہ کے واسطے ہیں۔" (مشکوۃ شریف) اس حدیث شریف سے بھی ثابت ہوا کہ آدمی کی زندگی میں اس کے نام ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے، تو انتقال کے بعد دفن سے پہلے بدرجہ اولی ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے۔“ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 259-260، شبیر برادرز، لاہور)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اختلاف ائمہ ہے کہ موت سے بدن کو نجاست حقیقیہ عارض ہوتی ہے یا حکمیہ، بر تقدیر اول قبل غسل اس کے پاس قرآن عظیم کی تلاوت منع ہوگی جبکہ اس کا بدن سر سے پاؤں تک کپڑے سے چھپا نہ ہو، جیسے جہاں کوئی نجاست پڑی ہو تلاوت مکروہ ہے، اور تقدیر ثانی پر تلاوت میں حرج نہ ہوگا، جیسے کوئی قرآن مجید پڑھے اور اس کے پاس کوئی جنب یا حیض و نفاس سے نکلی ہوئی بے نہائی عورت بیٹھی ہو، اور اوپر گزرا کہ فقیر کی تحقیق میں قول دوم ہی زیادہ راجح ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 555، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”میت کے پاس تلاوت قرآن مجید جائز ہے، جبکہ اس کا تمام بدن کپڑے سے چھپا ہو اور تسبیح و دیگر اذکار میں مطلقاً حرج نہیں۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 809، مکتبة المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1169
تاریخ اجراء: 4 ذو القعدۃ الحرام 1447 ھ/ 22 اپریل 2026ء