logo logo
AI Search

قربانی کے گوشت پر فاتحہ یا محرم کے کھچڑے میں ڈالنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قربانی کے گوشت پر فاتحہ دلانا، یا محرم میں کھچڑے میں ڈالنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

قربانی کے گوشت پر فاتحہ دلانا، یا محرم میں کھچڑے وغیرہ میں ڈال سکتے ہیں؟

جواب

قربانی کے گوشت پر فاتحہ دلانا، جائز ہے، کہ فاتحہ ہر حلال چیز پر ہوسکتی ہے، اسی طرح اسے محرم میں کھچڑے وغیرہ میں ڈالنا بھی جائز ہے، کہ کھچڑے میں ڈالنایاتوخودکھانے کے لیے ہے یاتقسیم کرنے کے لیے، اور قربانی کاگوشت خودکھانابھی جائزہے اور تقسیم کرنابھی جائز ہے۔ نیز قربانی کے گوشت کو محرم سے پہلے پہلے ختم کرنا بھی شرعاً ضروری نہیں، ابتداءِ اسلام میں تین دن سے زیادہ رکھنے کی ممانعت تھی، جو بعد میں منسوخ ہوگئی۔ ترمذی شریف میں ہے "عن سليمان بن بريدة، عن أبيه، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث ليتسع ذو الطول على من لا طول له، فكلوا ما بدا لكم، و أطعموا و ادخروا" ترجمہ: حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو رکھنے سے منع کیا تھا، تاکہ صاحب استطاعت لوگ غیر صاحب استطاعت لوگوں کے لیے وسعت پیدا کریں، تو اب جب تک تم چاہوخود کھاؤ، دوسروں کو کھلاؤ اور ذخیرہ کرو۔ (سنن ترمذی، صفحہ 592، رقم الحدیث 1510، مطبوعہ: دمشق)

مبسوط سرخسی، بدائع الصنائع، الاختیار، شرح مختصر الطحاوی، عالمگیری، ہدایہ، البحرالرائق، اوردیگرکتبِ فقہ میں ہے، (و اللفظ للبدائع) و له أن يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة أيام؛ لأن النهي عن ذلك كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ" یعنی قربانی کرنے والے کے لیے جائز ہےکہ وہ تین دن سے زیادہ کے لیےقربانی کا سارا گوشت اپنےلیےذخیرہ کرلے؛کیونکہ ذخیرہ کرنےکی ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 224، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مولانا مفتی محمد امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ فقرا کے لیے اور ایک حصہ دوست و احباب کے لیے اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے، ایک تہائی سے کم صدقہ نہ کرے۔ اور کل کو صدقہ کر دینا بھی جائز ہے اور کل گھر ہی رکھ لے یہ بھی جائز ہے۔ تین دن سے زائد اپنے اور گھر والوں کے کھانے کے لیے رکھ لینا بھی جائز ہے اور بعض حدیثوں میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ منسوخ ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 345، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ  فتاوی امجدیہ میں تحریر فرماتے ہیں:  جو چیز حرام لعینہ ہو تو اس پر فاتحہ پڑھنا اور اس کا ثواب پہنچانا جائز نہیں۔ حدیث شریف میں ہے: لا يقبل اللہ الا الطيب" یعنی حرام چیز کو اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔ تو نہ اس کا کوئی ثواب ہے، نہ ثواب پہنچایا جاسکتا ہے۔ اور اگر حرام لعینہ نہ ہو تو فاتحہ پڑھنے اور ایصال ثواب کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ (فتاوی امجد یہ، جلد 1، صفحہ 364،مکتبہ رضویہ، کراچی)

مفتی محمد وقار الدین رضوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1413ھ / 1992ء) لکھتے ہیں: قربانی کرنے کے بعدگوشت قربانی کرنے والے ککی ملکیت ہوتاہے ۔ ۔ ۔ ۔ اگر سب گوشت پر بھی کسی کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ دلا دیں، تو بھی جائز ہے۔ (وقار الفتاوٰی، جلد 02، صفحہ 477، بزم وقار الدین، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتوی نمبر: WAT-5154
تاریخ اجراء: 18 محرم الحرام 1448ھ / 04 جولائی 2026ء