مزارات کی زیارت کیلئے سفر کرنا جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
تین مسجدوں کے علاوہ سفر کرنا منع ہے تو پھر مزار پر کیوں جاتے ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
یہی مسلم شریف والی روایت مسند أحمد میں سندِ حسن کے ساتھ موجود ہے، جس کے الفاظ یوں ہیں: لا ينبغي للمطي أن تشد رحاله إلى مسجد يبتغى فيه الصلاة غير المسجد الحرام، و المسجد الأقصى، و مسجدي هذا۔ترجمہ: اونٹنی کے مناسب نہیں کہ اُس کے کجاوہ کو نماز کی غرض سے کسی مسجد کی طرف باندھا جائے، ہاں مسجد الحرام، مسجد اقصیٰ اور میری اس مسجد کے علاوہ۔ (مسندِ احمد، جلد18، صفحہ 152، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)
عقلی تجزیہ: اگر مسلم شریف کی حدیث مبارک کایہی مطلب سمجھا جائے، جو سائل نے بیان کیا کہ اِن تین مقاصد کے علاوہ کسی طرح کا بھی سفر ہو، وہ ممنوع ہے، تو نظامِ زندگی معطل اور درجنوں طرح کے ایسے اَسفار کہ جن کا خود دینِ اسلام حکم دیتا ہے، وہ سب بھی ممنوع ہو جائیں گے۔ قرآنِ حکیم میں عبرت کےلئے حکمِ سفر دیتے ہوئے فرمایا گیا: ﴿فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ﴾ ترجمہ: تو زمین میں چل کر دیکھو، کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔(پ 04، آل عمران: 137) خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم نے درجنوں اسفارِ جہاد فرمائے۔ اِنہی صحابہ وتابعین اور بعد کے ہزاروں علماء نے حصولِ علم کے لیے بے شمار سفر فرمائے۔کتبِ سیرت وسوانح اِن اَسفار سے بھری ہوئی ہیں۔ آج تک سفرِ حج کے لیے کروڑوں لوگ سفر کر چکے اور کرتے رہیں گے۔ تو کیا مرادِ حدیث یہ ہے کہ صرف اِن تین مساجد کی طرف ہی سفر درست ہے، اِس کے لیے علاوہ کسی بھی مقصد کے لیے کوئی بھی سفر درست نہیں؟ ہر گز نہیں، بلکہ ہر ذی شعور سمجھتا ہے کہ حدیث کی یہ مراد ہونا، بداہۃً باطل ہے۔
حدیث مبارک کا درست مفہوم:
اِس حدیث مبارک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مطلقاً ہر طرح کے سفر سے منع نہیں فرمایا، بلکہ مخصوص نیت کے ساتھ ایک مخصوص قسم کے سفر سے منع کیا ہے اور اس مخصوص سفر سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھنے کے لیے ایک مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد کی طرف محض یہ سمجھ کرجانا کہ دوسری مسجد میں ثواب زیادہ ملے گا، یہ ممنوع ہے، کیونکہ تین مساجد کے علاوہ بقیہ مساجد میں نمازوں کا ثواب فی نفسہ برابر ہے، لہذا اُن تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی طرف ثواب زیادہ ہونے کی غرض سے سفر لغو ہے۔ اِس مراد حدیث کی تائید خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان سے ہی ہوتی ہے، جو کہ مسند احمد میں ہے، جسے اوپر نقل کیا جا چکا اور اُسی روایت کو نقل کرنے کے بعد امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: خود حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد سے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد واضح ہو گئی۔ و الحمدللہ رب العالمین۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 10،صفحہ800،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
شدِ رحال کا مطلب بیان کرتے ہوئے علامہ جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 911ھ / 1505ء) نقل کرتے ہیں: ليس في الأرض بقعة لها فضل لذاتها حتى تشد الرحال إليها لذلك الفضل غير البلاد الثلاثة وأما غيرها من البلاد فلا تشد إليها لذاتها بل لزيارة أو جهاد أو علم أو نحو ذلك۔ ترجمہ: روئے زمین پر ان تین شہروں (مساجد ثلاثہ) کے علاوہ کوئی ایسی جگہ نہیں ہے، کہ اُس کے لیے فی ذاتہ فضیلت ہو، یہاں تک کہ اس کی طرف خاص اہتمام کے ساتھ سفر کیا جائے، البتہ ان تین مقامات کے علاوہ دیگر شہروں کی طرف سفر کرنا بذاتِ خود مقصود نہیں ہوتا، بلکہ وہاں جانے کا مقصد زیارت قبور، جہاد، علم حاصل کرنا یا اس جیسے دیگر نیک مقاصد ہوتے ہیں۔ (حاشية السندي على سنن النسائي، جلد 2، صفحۃ 37، مطبوعہ حلب)
شرح سنن أبي داؤد لابن رسلان میں ہے: و الذي اختاره إمام الحرمين و المحققون أنه لا يحرم و لا يكره إعمال المطي إلى غير المساجد الثلاثة، كالذهاب إلى قبور الصالحين و إلى المواضع المعروفة بالفضل۔ ترجمہ: امام الحرمین اور محققین علماء نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ تین مساجد کے علاوہ دیگر مقامات کی طرف سفر کرنا، نہ حرام ہے اور نہ ہی مکروہ، جیسا کہ بزرگانِ دین کی قبروں کی زیارت کے لیے جانا یا ایسی جگہوں کا سفر کرنا جو اپنی فضیلت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ (شرح سنن أبي داؤد لابن رسلان، جلد 9، صفحہ 221، مطبوعہ دار الفلاح، مصر(
اِن شروحات سے واضح ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس نیت سے کیے گئے سفر کو ممنوع قرار دیا، لہذا مزاراتِ اولیاء پر حاضری دینے کے لیے سفر کرنا، ہرگز ممنوع اور غلط نہیں، بلکہ بے شمار برکاتِ دینیہ ودنیویہ کا سبب ہے، چنانچہ امام غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نہایت جامع کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: و قد ذهب بعض العلماء إلى الاستدلال بهذا الحديث في المنع من الرحلة لزيارة المشاهد و قبور العلماء و الصلحاء و ما تبين لي أن الأمر كذلك بل الزيارة مأمور بها قال صلى اللہ عليه و سلم كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها و لا تقولوا هجراً و الحديث إنما ورد في المساجد و ليس في معناها المشاهد لان المساجد بعد المساجد الثلاثة متماثلة و لا بلد الا وفيه مسجد فلا معنى للرحلة إلى مسجد آخر وأما المشاهد فلا تتساوى بل بركة زيارتها على قدر درجاتهم عند اللہ عز وجل نعم لو كان في موضع لا مسجد فيه فله أن يشد الرحال إلى موضع فيه مسجد و ينتقل إليه بالكلية إن شاء ثم ليت شعري هل يمنع هذا القائل من شد الرحال إلى قبور الأنبياء عليهم السلام مثل إبراهيم و موسى و يحيى و غيرهم عليهم السلام فالمنع من ذلك في غاية الإحالة فإذا جوز هذا فقبور الأولياء والعلماء والصلحاء في معناها۔
ترجمہ:بعض علماء اس حدیث سے متبرک مقامات اور علماء و صالحین کی قبور کی زیارت کے لیے سفر کے ممنوع ہونے پر استدلال کرتے ہیں، حالانکہ میرے لیے یہ استدلال بالکل واضح نہ ہوا کہ حکم شرعی اسی طرح ہو، بلکہ ان مقامات کی زیارت کاتو باقاعدہ حکم دیا گیا ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نےتمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا، مگر اب تم ان کی زیارت کرو اور نامناسب گفتگو نہ کرو۔ اور سفر سے ممانعت والی حدیث مساجد کے بارے میں ہے اور متبرک مقامات اس میں داخل نہیں ہیں، کیونکہ تین مساجد کے علاوہ باقی مساجد ایک جیسی ہیں اور ہر شہر میں مسجد ضرور ہوتی ہے، اس لیے دوسری مسجد کی طرف سفر کرنے کا (بنیتِ ثواب) کوئی معنی ہی نہیں، البتہ مزارات مبارکہ آپس میں مساوی نہیں ہوتے، بلکہ ان کی زیارت کی برکت، صاحبِ مزار کے عند اللہ درجے کے مطابق ہوتی ہے،۔ ہاں اگر کسی جگہ مسجد نہیں ہے تو اس کو کسی دوسری جگہ جہاں مسجد ہو وہاں جانے کا اختیار ہو گا اور اگر چاہے تو وہ وہیں مستقل طور پر منتقل ہوجائے۔ کاش میں جان لیتا کہ کیا یہ شخص انبیائے کرام عَلَیْہم السَّلَام مثلاً حضرت ابراہیم، موسی و یحیی وغیرہم عَلَیْہم السَّلَام کے مزارات و قبور کی طرف سفر کرنے سے منع کرے گا؟ اس کا ممنوع ہونا تو اعلی درجے کی محال بات ہے، لہذا جب یہ جائز ہے، تو اولیاء، علماء اور صلحاء کی قبور بھی اسی حکم میں ہیں۔ (إحياء علوم الدين، جلد 1، صفحۃ 244، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)
قابلِ غور:
اگر تین مساجد کی طرف سفر کے علاوہ سفر ممنوع ہوتا اور بالخصوص مزارات کی طرف سفر ممنوع ہوتا، تو اُن احادیث کا کیا جواب ہو گا، کہ جہاں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اپنے مزارِ مبارک پر حاضر ہونے پر بشارت عطا فرمائی۔ چنانچہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: من زار قبري وجبت له شفاعتي“ ترجمہ: جس نے میری قبر کی زیارت کی، اُس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔ (سنن الدارقطني، جلد 3، صفحہ 334، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
چند لفظوں کے فرق سے یوں بھی فرمایا: من زار قبري حلت له شفاعتي“ ترجمہ: جس نے میری قبر کی زیارت کی، اُس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی۔ (كشف الأستار عن زوائد البزار، جلد 2، صفحہ 57، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
اور یوں بھی بشارت دی گئی کہ زائر کی میری بارگاہ میں حاضری کے علاوہ کچھ بھی غرض نہ ہو، چنانچہ ارشاد فرمایا: من جاءني زائرا لايعلمه حاجة إلا زيارتي كان حقا علي أن أكون له شفيعا يوم القيامة“ ترجمہ: جو شخص میری زیارت کے لیے آئے اور اس کے پیشِ نظر صرف میری زیارت ہی ہو (اور کوئی حاجت نہ ہو)، تو مجھ پر یہ حق ہے کہ میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں۔ (المعجم الكبيرللطبرانی، جلد 12، صفحہ 291، مطبوعہ القاھرۃ)
اِن روایات سے بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حاضری کے لیے سفر کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ یونہی وہ روایت کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اہتماماً شہدائے احد کی قبورِ مبارکہ پر تشریف لے جاتے تھے اور یہ جانا ہر سال ہوا کرتا تھا، چنانچہ المصنف لعبد الرزاق میں ہے: كان النبي صلى اللہ عليه و سلم يأتي قبور الشهداء عند رأس الحول، فيقول: السلام عليكم بما صبرتم، فنعم عقبى الدار، قال: و كان أبو بكر، و عمر، و عثمان، يفعلون ذلك“ ترجمہ: نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سال کے شروع میں شہداء احد کے مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے اور فرماتے: السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار“ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر، عمر، عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی بھی عادتِ مبارکہ یہی تھی اور وہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (المصنف لعبد الرزاق، جلد 04، صفحہ 289، مطبوعۃ دار التاصیل)
شہزادیِ جنت سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا بھی حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے مزار پر جایا کرتی تھی، چنانچہ اِسی کتاب میں متصلاً دوسری روایت ہے:أن فاطمة بنت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم كانت تأتي قبر حمزة، وكانت قد وضعت عليه علما تعرفه“ ترجمہ: حضرت سیدتنا فاطمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا اکثر سید الشہداء حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر پر تشریف لایا کرتی اور آپ نے تو اُن کی قبر پر ایک علامت بھی لگا رکھی تھی، تا کہ جب آپ تشریف لائیں تو قبر کی پہچان رہے۔ (المصنف لعبد الرزاق، جلد 04، صفحہ 289، مطبوعۃ دار التاصیل)
یونہی حضرت بلال حبشی رَضِیَ اللہ تَعَالیٰ عَنْہ خاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لیے دمشق سے مدینہ منورہ حاضر ہوئے، چنانچہ الكمال في أسماء الرجال میں ہے:لم يؤذن لأَحدٍ بعد النبي صلى اللہ عليه وسلم فيما رُوي إلا مرة واحدة في قَدْمَةٍ قدمها المدينة لزيارة قبر النبي صلى اللہ عليه و سلم، طلب إليه الصحابة ذلك“ ترجمہ: روایت کیا گیا کہ حضرت بلال حبشی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد ایک مرتبہ کے علاوہ کبھی بھی اذان نہیں دی، اور وہ تب کہ جب وہ مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبرِ انور کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تو صحابہ کرام کی درخواست پر انہوں نے اذان دی۔ (الكمال في أسماء الرجال، جلد 1، صفحۃ 195، مطبوعہ کویت)
لہذا معلوم ہوا کہ حدیث مبارک میں منع کیے گئے سفر کی مراد خاص ہے، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دیگر اہل اللہ کی قبورِ مبارکہ پر حاضر ہونا سلفاً خلفاً ہمیشہ سے امتِ مسلمہ میں جاری ہے اور خوش نصیبوں کے لیے جاری رہے گا۔ سوال میں نقل کی گئی حدیث کی مراد اور دیگر بہت سی تحقیقی معلومات جاننے کے لیے علامہ تاج الدین سبکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نہایت شان دار کتاب شفاء السقام لزیارۃ خیر الأنام کا مطالعہ کیجیے۔وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10059
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ / 29 جون 2026ء