نبی کریم ﷺ کا نام سن کر انگوٹھے چومنے کا ثبوت
بسم اللہ الرحمن الرحيم
نبی پاک ﷺ کا نام سن کر انگوٹھے چومنا بدعت ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
مختصر جواب:
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا نام مبارک محمد سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر لگانا مستحب یعنی کارِ ثواب عمل ہے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سےمحبت و عقیدت کا اظہار ہے، حتی کہ حدیث پاک کے مطابق ایسا کرنے والے کے لیے شفاعتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ملنے کی خوشخبری ہے۔ اس عمل کی اصل قرآنِ کریم، احادیثِ طیبہ، ائمہ و محدثین، اُمّت کے اکابر علمائے دین کے اقوال و افعال اور اصول وقوانینِ شریعت سے ثابت ہے، لہٰذا سوائے چند مخصوص مقامات کے (جن کی تفصیل آخرمیں ذکر کی جائے گی)، خواہ اذان کے دوران اسمِ مبارک سننے کا موقع ہو یا اس کے علاوہ، ہر صورت میں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانا، جائز و مستحسن عمل ہے۔ اس لیے اس کو بدعت و گناہ کہہ کر ترک کرنے پر زور دینا شریعت پر افتراءو بہتان اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ (تفصیلی دلائل ذیل میں ملاحظہ کیجیے۔)
نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کے استحباب کی صراحت کرتے ہوئے علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) رد المحتار میں لکھتے ہیں: يستحب أن يقال عند سماع الأولى من الشهادة: صلى اللہ عليك يا رسول اللہ، وعند الثانية منها: قرت عيني بك يا رسول اللہ، ثم يقول: اللهم متعني بالسمع والبصر بعد وضع ظفري الابهامين على العينين فإنه عليه السلام يكون قائدا له إلى الجنة،كذا في كنز العباد،قهستاني،ونحوه في الفتاوى الصوفية،و في كتاب الفردوس من قبل ظفري إبهامه عند سماع أشهد أن محمدا رسول اللہ في الأذان أنا قائده و مدخله في صفوف الجنة
ترجمہ: مستحب ہے کہ مؤذن کی پہلی شہادت پر ”صلی اللہ عليك يا رسول اللہ“ کہا جائے اور دوسری پر ”قرت عيني بك يا رسول اللہ“، پھر انگوٹھوں کے ناخنوں کو آنکھوں پر رکھ کر ”اللّٰهم متعني بالسمع و البصر“ کہا جائے، ایسا کرنے والے کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم جنت کی طرف لے جانے میں قائد ہوں گے،یونہی کنز العباد،قہستانی اور اسی کی مثل فتاوی صوفیہ میں ہے۔ اور مسند الفردوس میں ہے: جو ”اشهد ان محمد ارسول اللہ“ اذان میں سن کر انگوٹھوں کو چومے، مَیں اس کا قائد ہوں اور اسے جنت کی صفوں میں داخل کروں گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب الاذان، جلد 2، صفحہ 84، مطبوعہ کوئٹہ)
اذان کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی نام مبارک پڑھ یاسن کر انگوٹھے چومنا جائز و مستحسن ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مسلمان اگر وقتِ اقامت بھی تقبیل کرے، ہرگز کوئی وجہِ ممانعت نہیں، اور اسے شرعاً ناجائز نہ کہے گا، مگر وہ کہ شرع پر افترا کرتا یا نام و اکرامِ سید الانام علیہ افضل الصلاۃ و السلام سے جلتا ہے۔ اسی طرح نماز و استماع قرآن مجید و استماع خطبہ جن میں حرکت منع ہے اور ان کے امثال مواضع لزوم محذور کے سوا جہاں کہیں بھی یہ فعل بنظرِ تعظیم و محبت حضرت رسالت علیہ افضل الصلاۃ و التحیۃ ہو جیسا کہ بعض محبان سرکار سے مشہور ہے، بہرحال محبوب و محمود ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 652، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اذان کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی انگوٹھے چومنا جائز و مستحسن ہونے کےحوالے سے امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کا شکوک و شبہات کا قلع قمع کرنے والا شاندار رسالہ نھج السلامۃ فی حکم تقبیل الابھامین فی الاقامۃ (یعنی اقامت کے دوران انگوٹھے چومنے کے حکم میں عُمدہ تفصیل) فتاوی رضویہ، جلد5 میں موجود ہے، جس کا مطالعہ انتہائی مفید رہے گا، ان شاء اللہ العزیز۔
یونہی مفتی جلال الدین امجدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1422ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: اذان و تکبیر کے علاوہ بھی نامِ مبارک سن کر انگوٹھا چومنا جائز و مستحسن ہے کہ اس میں حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی تعظیم بھی ہے اور حضور کی تعظیم جس طرح بھی کی جائے، باعثِ ثواب ہے۔ (فتاوی فیض رسول، جلد 1، صفحہ 224، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور(
تفصیلی جواب:
نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کے ثبوت پربہت سے دلائل ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں؛
پہلی دلیل:
اس حوالے سے واضح احادیث موجود ہیں،جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عمل شرعاً نہ صرف جائز، بلکہ تعظیمِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر مشتمل ایک نہایت اچھا عمل ہے، جس کے دینی و دنیوی کثیر فوائد ہیں۔
چنانچہ علامہ محمد بن عبد الرحمن سخاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 902ھ / 1497ء) المقاصد الحسنہ میں مسند الفردوس للدیلمی کے حوالے سے لکھتےہیں: مسح العينين بباطن أنملتي السبابتين بعد تقبيلهما عند سماع قول المؤذن أشهد أن محمدا رسول اللہ، مع قوله: أشهد أن محمدا عبده و رسوله، رضيت بالله ربا، و بالاسلام دينا، و بمحمد صلى اللہ عليه و سلم نبيا، ذكره الديلمي في الفردوس من حديث أبي بكر الصديق أنه لما سمع قول المؤذن أشهد أن محمد رسول اللہ قال هذا، و قبل باطن الأنملتين السبابتين و مسح عينيه، فقال صلى اللہ عليه و سلم: من فعل مثل ما فعل خليلي فقد حلت عليه شفاعتي
ترجمہ: مؤذن سے ”اشهد ان محمداً رسول اللہ“ سُن کر انگشتانِ شہادت کے پورے، اندورنی جانب سے چوم کر آنکھوں پر لگانا اور یہ دُعا پڑھنا ”أشهد أن محمدا عبده و رسوله، رضيت بالله ربا، و بالاسلام دينا، و بمحمد صلى اللہ عليه و سلم نبيا“، اس حدیث کو امام دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالےسے بیان کیا کہ جب انہوں نے مؤذن کو "اشهد ان محمداً رسول اللہ" کہتے ہوئے سنا، تو یہ دُعا پڑھی اور اپنی شہادت کی انگلیوں کے پورے اندرونی جانب سے چوم کر اپنی آنکھوں پر لگائے، اس پر نبی کریمصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو میرے پیارے کی طرح عمل کرے، تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی۔ (المقاصد الحسنۃ، صفحہ 604، 605،دار الكتاب العربي، بيروت)
اسی روایت کو امام اسماعیل بن محمدعجلونی شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1162ھ) نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب کشف الخفاء میں نقل کیا۔ (کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 243، مطبوعہ المکتبة العصریہ)
اوپر ذکر کردہ حدیث پاک پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) نے جو فرمایا اس خلاصہ یہ ہےکہ جب یہ عمل خلیفۂ اوّل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، تو اس پر عمل کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت کے ساتھ ساتھ اپنے خلفائے راشدین کی سنت کو بھی مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا اس عمل کے جائز و مستحب ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ طریقہ صدیقی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: و إذا ثبت رفعه على الصديق فيكفي العمل به لقوله عليه الصلاة و السلام عليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين“ ترجمہ: مفہوم واضح ہے۔ (الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ، ص 316، مؤسسة الرسالة، بيروت)
اور اسی روایت کو ذکر کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: تو صدیق سے کسی شَے کا ثبوت بعینہٖ حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے ثبوت ہے، اگرچہ بالخصوص حدیث مرفوع درجہ صحت تک مرفوع نہ ہو۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 432، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
علامہ محمد بن عبدالرحمن سخاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 902ھ / 1497ء) المقاصد الحسنہ میں امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق، فقہ مالکی کےعالم و فقیہ، ابو عبد الله محمد بن محمد طرابلسی، المعروف امام حطاب مالکی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ (سال وفات: 954ھ) اپنی کتاب مواهب الجليل فی شرح مختصر خلیل میں حضرت خضر علیہ السلام کے حوالےسے، محدّث وقت، علامہ محمد طاہر حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 984ھ) مجمع بحار الانوارمیں، علامہ اسماعیل حقی حنفی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ (سال وفات 1127ھ) تفسیر روح البیان میں اور امام عجلونی شافعی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ (سال وفات: 1162ھ) کشف الخفاء میں نقل کرتے ہیں،و اللفظ للاول: قال وروي عن الفقيه محمد بن سعيد الخولاني قال: أخبرني الفقيه العالم أبو الحسن علي ابن محمد بن حديد الحسيني أخبرني الفقيه الزاهد البلالي عن الحسن أنه قال: من قال حين يسمع المؤذن يقول أشهد أن محمدا رسول اللہ: مرحبا بحبيبي و قرة عيني محمد بن عبد اللہ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ و يقبل إبهاميه و يجعلهما على عينيه لم يعم و لم يرمد۔ ترجمہ: یعنی شمس الدین محمد بن صالح مدنی فرماتے ہیں کہ فقیہ محمد سعید خولانی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھے فقیہ عالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید حسینی نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ مجھے فقیہ زاہد بلالی نے حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ حضرت امام نے فرمایا کہ جو شخص مؤذن کو اشھد ان محمداً رسول اللہ کہتا ہوا سنے اور یہ دعا پڑھے:مرحبا بحبيبي و قرة عيني محمد بن عبد اللہ“ اور اپنے انگوٹھے چُوم کر آنکھوں پر رکھے، وہ نہ توکبھی اندھا ہو گا، نہ اس کی آنکھیں دُکھیں گی۔ (المقاصد الحسنۃ، صفحہ 606، دار الكتاب العربي، بيروت)
امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: علامہ محدث محمد طاہر فتنی رَحِمہ اللہ تعالی تکملہ مجمع بحار الانوار میں حدیث کو صرف ”لایصح“ فرماکر لکھتے ہیں: و روی تجربۃ ذلک عن کثیرین“ یعنی اس کے تجربہ کی روایات بکثرت آئیں۔ (مجمع بحار الانوار، جلد 5، صفحہ 216، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ) (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 436، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
عالمِ شہیر، مفتیِ اسلام، مولانا مفتی محمد یار خلیق فاروقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 1356ھ) اپنی کتاب صلوٰۃِ مسعودی میں روایت نقل کرتے ہیں: روی عن النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم انہ قال من سمع اسمی فی الاذان و وضع ابھامیہ علی عینیہ فانا طالبہ فی صفوف القیامۃ و قائدہ الی الجنۃ“ یعنی: حضور نبی کریمصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اذان میں میرا نام سنا اور انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا، تو میں قیامت میں صفوں سے تلاش کر کے اسے جنت لے جاؤں گا۔ (صلوۃ مسعودی، جلد 2، باب بست ویکم دربیان بانک نماز، صفحہ 35، مطبوعہ پشاور)
دوسری دلیل:
زمانۂ قدیم سے سلف و صالحین، مستند و معتبر اَئمۂ دین، علماء، صلحاء، محدثین اور بزرگانِ دین کا آج تک یہ معمول رہا ہے کہ نام مبارک سن کر انگوٹھے چومتے اور آنکھوں سے لگاتے اور اس عمل کو اپنے لیے دنیا و آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ جانتے رہے اور اس کی دینی و دنیوی فضیلتیں بیان کرتے رہے،بلکہ آنکھوں کی حفاظت،وغیرہ کے لیے اس عمل کو مجرب قرار دیتے رہے ہیں، لہٰذا ایسا عمل جو مسلمانوں میں صدیوں سے رائج ہے جسے مسلمانوں کی اکثریت اچھا جانتی ہےاور ان میں معمول بہا بھی ہے،تو حدیث پاک کے مطابق وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا عمل ہے۔
چنانچہ المستدرک للحاکم، مسند امام احمد، مسند بزار، المعجم الکبیر للطبرانی اور دیگر کتب احادیث میں ہے، و اللفظ للاول: ما رای المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن‘‘ ترجمہ: جس کام کو مسلمان اچھا سمجھیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین، جلد 3،صفحہ 83، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) نے اس بات کو بہت خوبصورت انداز میں سمجھایا، فرماتے ہیں کہ نیک مسلمانوں کے نزدیک اچھا عمل،اللہ کریم کے نزدیک بھی اچھا اس لیے ہے، کیونکہ مرفوع حدیث پاک کے مطابق یہ امت مجموعی طورپر گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی، لہٰذا جس عمل پر مسلمانوں کی بڑی جماعت کاربند ہے، وہ کام بھی گمراہی والا نہیں ہوسکتا، چنانچہ عبارت ملاحظہ کیجیے:عن ابن مسعود ما رأہ المؤمنون حسنا فھو عند اللہ حسن و فی حدیث مرفوع ولا تجتمع أمتی علی الضلالۃ“ ترجمہ: مفہوم واضح۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 1، صفحہ 224، مطبوعہ بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت اس بات کو ایک اور انداز میں بیان فرماتے ہیں: ادب و اجلال جہاں تک ممکن ہو، بہتر ہے۔ فتح القدیر میں ہے: کل ما کان فی الأدب و الاجلال کان حسناً“ ہر وہ کام جو ادب و احترام میں داخل ہو وہ اچھا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23 صفحہ 405، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ نام مبارک محمد پڑھ یا سن کر سر جھکانا، انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگانا ادب ہی ادب ہے اور حسن یعنی اچھا کام ہے۔
کچھ ائمہ کے نام اوپر ذکرکردہ دلائل میں بیان ہوئے، مزید اس مسئلہ میں سلف، صالحین اور فقہائے اسلام کی تصریحات ملاحظہ کیجیے، چنانچہ شرحِ نقایہ، کنز العباد، جامع الرموز، رد المحتار، طحطاوی علی المراقی اور اردو کتب فقہ، جیساکہ فتاوی رضویہ، فتاوی امجدیہ، فتاوی نوریہ ا ور دیگر بہت سی کتب فقہ میں ہے، و اللفظ للطحطاوی: ذكر القهستاني عن كنز العباد أنه يستحب أن يقول عند سماع الأولى من الشهادتين للنبي صلى اللہ عليه و سلم صلى اللہ عليك يا رسول اللہ و عند سماع الثانية قرت عيني بك يا رسول اللہ اللّٰهم متعني بالسمع و البصر بعد وضع إبهاميه على عينيه فإنه صلى اللہ عليه و سلم يكون قائدا له في الجنة و ذكر الديلمي في الفردوس من حديث أبي بكر الصديق رضي اللہ عنه مرفوعا من مسح العين بباطن أنملة السبابتين بعد تقبيلهما عند قول المؤذن أشهد أن محمدا رسول اللہ و قال: أشهد أن محمدا عبده و رسوله رضيت بالله ربا و بالاسلام دينا و بمحمد صلى اللہ عليه و سلم نبيا حلت له شفاعتي
اس پوری عبارت کا مفہوم شامی کی عبارت میں گزر چکا ہے۔
مزید احادیث اور سلف صالحین کا عمل بیان کرنے کے بعد علامہ طحطاوی حنفی عَلَیْہِ الرَحْمَۃ لکھتے ہیں: و كذا روي عن الخضر عليه السلام و بمثله يعمل في الفضائل“ یعنی ایسی ہی روایت حضرت خضر علیہ السلام سے بھی مروی ہے اور فضائل کے باب میں ایسی روایات پر عمل کیا جاتا ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 205، 206، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
ہمارے زمانہ میں بعض لوگوں نے ابو الحسنات علامہ عبد الحی لکھنوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1304ھ / 1886ء)کی طرف غلط پیراے میں نسبت کر کے اپنا باطل موقف ثابت کرنے کی کوشش کی، حالانکہ علامہ لکھنوی نے خود استحباب بیان کیا ہے، چنانچہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: بعض فقہا مستحب نوشۃ اند،و حدیث هم دریں باب نقل میسازند، مگر صحیح نیست ودر امر مستحب فاعل وتارك هر دو قابل ملامت و تشنیع نیستند، در جامع الرموز می آرد۔ ۔ ۔ الخ“ یعنی بعض فقہا ء نے اس کو مستحب لکھا ہے اور اس کے بارے میں حدیثیں بھی نقل کی ہیں، مگر وہ درجہ صحت پر فائز نہیں ہیں اور مستحب کام کرنے اور نہ کرنے والا،دونوں پر ملامت اور طعن و تشنیع نہیں ہےاور جامع الرموز میں ہے (اور آگے وہی عبارت ذکر کی جو اوپر شامی کے جزئیہ میں موجودہے)۔ (مجموعه فتاوی، باب ما يتعلق بالاذان، جلد 3، صفحه 47، مطبوعہ لکھنؤ)
فتاوی رضویہ میں امامِ اہل سنت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃنے شاندار رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین تحریر فرمایا، جس میں دیگر بہت سے شاندار دلائل کے ساتھ ساتھ سلف و صالحین کا عمل بھی بیان کیا ہے، جلد 5، صفحہ 430 پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
علامہ فیض احمد اویسی صاحب رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس مسئلہ کے متعلق رسالہ تحریر فرمایا جس میں دیگر دلائل بیان کرنے کے بعد اس مسئلہ کے جواز و استحباب پر تصریحات کرنے والے محدثین، علماء و فقہاء اور ان کی کتب کے نام لکھے، چنانچہ لکھتے ہیں: انگوٹھے چومنے کا مسئلہ جس طرح احادیث سے ثابت ہے، اس طرح فقہائے کرام کی عبارات سے بھی ثابت ہے خواہ وہ فقہائےحنفی ہوں یا شافعی یا مالکی چنانچہ مذکورہ عبارات میں ہر سہ مذاہب کے علماء تھے اور جن کتب میں یہ مسئلہ موجود ہے، ان کے اسماء درج ذیل ہیں۔
(۱) قوت القلوب، از امام ابو طالب مکی (۲) روح البیان (۳) حاشیۂ جلالین (۴) رد المحتار، شامی، (۵) انجیل بربناس (۶) فتاوى جواهر (۷) فتاوى سراج المنیر(۸) فتاوى صوفیہ(۹) فتاوی مفتاح الجنان (١٠) نعم الانتباه (۱۱) صلوة مسعودی (۱۲) مثنوی مولانا روم (۱۳) جامع الرموز (۱۴) شرح نقایہ(۱۵) کنز العباد (۱۶) موضوعات كبير، ملا على قارى (۱۷) المقاصد الحسنة (۱۸) ديلمى، فى الفردوس (۱۹) موجبات الرحمة وعزائم المغفرت (۲۰) تاریخ محمد بن صالح المدنى (۲۱) فتاوى جمال مكى (۲۲) تکملہ مجمع بحار الانوار ملا طاهر محدث فتنی (۲۳) قہستانی ،حواشی رملى على بحر الرائق (۲۴) المضمرات (۲۵) اعانۃ الطالبين ،فقہ شافعی (۲۶) شرح کفایہ الطالب الربانی (فقہ مالکی) (۲۷) طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح على نور الايضاح (۲۸) تذكرة الموضاعات(۲۹) فتاوی عبد الحی (۳۰) محيط (۳۱) خزانۃ الروايات (۳۲) مقدمۃ الصلوة (۳۳) تہذيب الصلوة (۳۴)جواهر محددیہ (۳۵) خُطب، مولانا عبدالقدوس (۳۶) بستان المحدثين (۳۷) موضوعات كبير (۳۸) مرقات شرح مشكوة، وغيره وغيره۔ (رسالہ: انگوٹھے چومنے کا ثبوت، صفحہ 20، 21، مطبوعہ بزم فیضان اویسیہ)
تیسری دلیل:
نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر لگانامحبت و تعظیم کا ایک انداز ہے، اور اس انداز کو اپنانے سے کوئی سنت بھی نہیں مٹ رہی، نہ کسی آیت و حدیث کی مخالفت لازم آرہی ہے، بلکہ اس کی اصل قرآن کریم سے ثابت ہےکہ حضور پُر نور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم کثیر آیاتِ قرآنیہ، احادیث طیبہ سے یقیناً ثابت ہے اور انگوٹھے چومنے کا عمل بھی تعظیم کا عمل ہے، لہٰذا انگوٹھے چومنے کا عمل بھی ثابت ہوا، تو پھر تعظیماً اس عمل کو بجا لانے سے بنا کسی شرعی دلیل کے کیوں منع کیا جاتا ہے؟ حالانکہ علمائے اسلام نے واضح طور پر فرمایا کہ حضور علیہ السلام کی تعظیم کا ہر وہ انداز اپنایا جا سکتا ہے، جس میں حد سے غلو نہ ہو اور حد سے غلو یہ ہے کہ انہیں اُلوہیت کے مرتبہ پر فائز نہ مانا جائے، اس کے علاوہ ہر اس انداز اور طریقہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم جائز و درست ہے کہ جس سے عظمت بلند ہو اور وہ شریعت سے ٹکراتا نہ ہو۔
انگوٹھے چومنا ادب و تعظیمِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر مشتمل عمل ہے اور قرآن کریم میں تعظیمِ حبیب صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا حکم دیتے ہوئے رب تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔ (پارہ 26، سورۃ الفتح، الایۃ: 9)
اس آیتِ مقدسہ میں تعلیم دی گئی ہے کہ سرکارِدو عالَم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی ہروہ تعظیم جوخلاف شرع نہ ہو،کی جائے گی، کیونکہ یہاں تعظیم و توقیر کے لئے کسی قسم کی کوئی قید بیان نہیں کی گئی، اب وہ چاہے کھڑے ہوکرصلوٰۃ و سلام پڑھناہو، (انگوٹھے چومنا ہو) یا کوئی دوسرا طریقہ۔ (از صراط الجنان)
چنانچہ اس ضمن میں چند عبارات ملاحظہ کیجیے، قاضی عیاض مالکی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ِلکھتے ہیں: فأوجب تعالى تعزيره و توقيره و ألزم إكرامه و تعظيمه، و قال ابن عباس تعزروه تجلوه و قال المبرد تعزروه تبالغوا في تعظيمه“ ترجمہ: پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم و توقیر واجب قرار دی اور ان کو لازم قرار دیا۔ (الشفا بتعريف حقوق المصطفى، جلد 2، صفحہ 35، مطبوعہ دار الفکر)
امام بوصیری نے قصیدہ بردہ میں اورعلامہ زرقانی نے انہی کے اشعار کے تحت شرح الزرقانی علی المواہب میں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے مقدمہ فتح الباری میں، حافظ ابن حجر ہیتمی نے الجوہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبوی المکرم میں، شیخ عبد الوہاب بن احمد بن برکات نے عقد الزبرجد من حروف سیدنا محمد میں اور شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری علیہم الرحمۃ نے اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ میں لکھا، و اللفظ للآخر: (فارسی سے ترجمہ) جو كمالات و تعریفات آپ کے لیے کی جائیں گی، وہ آپ کے مرتبہ کے شایانِ شان بھی نہیں ہوں گی، شعر کا ترجمہ: ”یعنی شریعت کے حکم کے مطابق انہیں خدانہ کہو۔ اس کے علاوہ ان کی مدح و تعریف میں جو کہنا چاہتا ہے کہہ دے۔ (اشعۃ اللمعات، مترجم، جلد 6، صفحہ 103، مطبوعہ فرید بک سٹال)
الجوہرالمنظم اور عقد الزبرجد کی دلنشین عبارت ملاحظہ کیجیے: و من بالغ في تعظيمه صلى اللہ عليه وسلم بانواع التعظيم و لم يبلغ به ما يختص بالبارى سبحانه وتعالى فقد اصاب الحق و حافظ على جانب الربوبية و الرسالة جمیعا و ذلك هو القول الذى لا افراط فيه ولا تفريط۔ مفہوم واضح۔ (عقد الزبرجد من حروف سیدنا محمدصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم، صفحہ 49، مطبوعہ بیروت)
امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فتاوی رضویہ میں لکھا: ظاہر ہے کہ نامِ اقدس سُن کر انگوٹھے چُومنا آنکھوں سے لگانا عرفاً دلیلِ تعظیم و محبّت ہے اور امورِ ادب میں قطعاً عرف کا اعتبار۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں: فیحال علی المعھود حال قصد التعظیم“ یعنی: تعظیم مقصود ہونے کے وقت اسے عرف پر محمول کیا جائےگا۔(فتح القدیر باب صفۃ الصّلٰوۃ، 1 / 249 مطبوعہ نوریہ رضویہ، سکھر) اور تعظیم حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم مطلقاً ماموربہ۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-﴾۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے: تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ہمیشہ ان کی تعظیم و توقیر بجالاؤ۔ (القرآن 48 / 9) اور مطلق ہمیشہ اپنے اطلاق پر جاری رہے گا جب تک کسی خاص فرد سے منع شرعی نہ ثابت ہو، جیسے سجدہ، زیادات امام عتابی پھر جامع الرموز پھر ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۹ میں ہے: ”ان المطلق یجری علیٰ اطلاقہ الا اذاقام دلیل التقیید نصا اودلالۃ فاحفظہ فانہ للفقیہ ضروری۔“ مطلق اپنے اطلاق پر ہی رہتا ہے مگر اس صورت میں کہ جب تقیید پر کوئی صراحۃً یا دلالۃً دلیل قائم ہو، اسے اچھی طرح محفوظ کرلو کیونکہ یہ فقیہ کے لئے ضروری قاعدہ ہے۔ (ردالمحتار فصل فی البیع من کتاب الحظر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/ ۲۷۲)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 05 صفحہ 650، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
مفتی محمد نور اللہ نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1403ھ / 1982ء) فتاوی نوریہ میں لکھتے ہیں: تقبیل الابہامین بھی جائز و مستحسن کہ یہ عرفاً محبوب اعظم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم ہے اور حضور پُر نور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم آیاتِ متوافرہ، احادیث متظاہرہ سے یقیناً ثابت،تو تقبیل الابہامین بھی ضرور ثابت ہوئی۔ (فتاویٰ نوریہ، جلد 1، صفحہ 285، مطبوعہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)
اشکال: بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ نامِ محمد صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سن کر انگوٹھے چومنے میں تعظیم کیسے ہے؟
جواب: جواباًگزارش یہ ہے کہ تعظیم صرف کسی ایک خاص عمل کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ قول،فعل یا طریقہ جو عرفاً ادب، محبت اور تعظیم و توقیر کے اظہار کے لیے اختیار کیا جائے، وہ تعظیم کے دائرے میں داخل ہے۔ اور اس چیز کی پہچان عرف سے ہوتی ہے، مثال کے طور پر: قرآن کریم کو اونچی جگہ رکھنا۔ اس کو بوسہ دینا۔ اس پر کوئی چیز نہ رکھنا۔ استاد، والدین اور مشائخ کے سامنے ادب سے بیٹھنا، ان کے سامنے ہا تھ باندھ کر کھڑے ہونا۔ یہ سب کام تعظیماًکیے جارہے ہوتے ہیں، کیونکہ عرف میں انہیں ادب اور احترام کا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ یونہی سلف و خلف سے صحابہ کرام، تابعین عظام علیہم الرضوان سے لے کر آج تک اکابر علما ئے دین، محدثین، علماء، صلحاء کے تعظیمِ مصطفیٰ اور ادب و احترام والے عمل کی ہزاروں مثالیں ایسی ہیں کہ نہ وہ طریقے کسی آیتِ قرآنی میں آئے، نہ کسی حدیث میں بیان ہوئے، مگر یہ اکابرین اپناتے رہے، لہٰذا جب وہ سابقہ طریقے اپنانا ان بزرگوں پر طعن کا سبب نہ بنے اور نہ ان پر بدعت کے فتوے لگے، تو اگر کوئی مسلمان عشقِ نبی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم میں ڈوب کر نام ”محمد“ سن کر محبت کے اظہار کے لیے انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگا لے، تو اس کو غلط و ناجائز کیسے قرار دیا جا سکتا ہے، لہٰذا یہ بھی عرفاً اظہارِ محبت و تعظیم کا ایک انداز ہے۔
چوتھی دلیل:
فقہ اسلامی کا مسلّمہ اُصول ہے کہ جس کام کے بارے میں شارع علیہ السلام نے سکوت فرمایا اور کسی بھی مقام پر اس سے منع نہیں فرمایا، تو اس عمل کے جائز اور درست ہونے کے لیے اتناہی کافی ہے، کیونکہ شریعت میں کسی عمل سے منع نہ کرنا خود اس عمل کے جواز کی بہت بڑی دلیل ہوا کرتا ہے، جیساکہ اُصول و قوانینِ شریعت سے واقف شخص پر مخفی نہیں، لہٰذا اگر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانے کے معاملے میں غورکیا جائے، تو کسی بھی آیت و حدیث میں اس پر ممانعت وارد نہیں ہوئی، نہ مستند علماء میں سے کسی نے منع کیا، لہٰذا شریعت کی جانب سے منع ہونے پر کوئی دلیل نہ ہونا ہی خود اس عمل کے جائز ہونے کے لیے کافی ہے۔
چنانچہ علامہ زین الدین بن ابراہیم المعروف ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ / 1562ء)لکھتے ہیں: الأصل في الأشياء الاباحة حتى يدل الدليل على عدم الاباحة“ ترجمہ: تمام چیزوں میں اصل مباح و جائز ہونا ہے، یہاں تک کہ (کسی چیز کے متعلق) مباح نہ ہونے کی دلیل قائم ہو جائے۔ (الأشباه و النظائر، الفن الأول القواعد الكلية، صفحہ 56، دار الكتب العلمية، بيروت)
اوپر ذکر کردہ تمام دلائل کو امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک پیرے میں یوں بیان فرمایا، چنانچہ لکھتے ہیں: حضور پُرنور شفیع یوم النشور صاحبِ لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا نام پاک اذان میں سنتے وقت انگوٹھے یا انگشتانِ شہادت چوم کر آنکھوں سے لگانا قطعاً جائز، جس کے جواز پر مقام تبرع میں دلائل کثیرہ قائم، اور خود اگر کوئی دلیل خاص نہ ہوتی ،تو منع پر شرع سے دلیل نہ ہونا ہی جواز کے لئے دلیل کافی تھا، جو ناجائز بتائے ثبوت دینا اُس کے ذمّہ ہے کہ قائل جواز متمسک باصل ہے اورمتمسک باصل محتاجِ دلیل نہیں، پھر یہاں تو حدیث وفقہ و ارشاد علما وعمل قدیم سلف ،صلحا سب کچھ موجود۔علمائے محدثین نے اس باب میں حضرت خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سیدنا صدیق اکبر و حضرت ریحانہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سیدنا امام حسن و حسین و حضرت نقیب اولیائے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم، سیدنا ابوالعباس خضر علی الحبیب الکریم وعلیہم جمیعا الصلاۃ و التسلیم وغیرہم اکابرِ دین سے حدیثیں روایت فرمائیں،جس کی قدرے تفصیل امام علّامہ شمس الدین سخاوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتاب مستطاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمائی اور جامع الرموز، شرح نقایہ، مختصر الوقایۃ وفتاوٰی صوفیہ و کنز العباد و رد المحتار حاشیہ در مختار،وغیرہا کتبِ فقہ میں اس فعل کے استحباب واستحسان کے صاف تصریح آئی،ان میں اکثر کتابیں خود مانعین اور ان کے اکابر وعمائد مثل متکلم قنوجی وغیرہ کے مستندات سے ہیں۔ ۔ ۔ اور اس سے بھی گزریے تو بلا شبہ یہ فعل اکابرِ دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحتِ بصر و روشنائی چشم کے لئے مجرب اور معمول، ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہوتو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلاً نقل بھی نہ ہوتو صرف تجربہ وافی کہ آخر اُس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں، نہ کسی سنّتِ ثابتہ کا خَلاف، اور نفع حاصل تو منع باطل، بلکہ انصاف کیجئے تو محدثین کا نفی صحت کو احادیث مرفوعہ سے خاص کرناصاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیثِ موقوفہ کو غیر صحیح نہیں کہتے پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 05 صفحہ 430، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اشکال: معترضین کی طرف سے اعتراض ہوتاہے کہ یہ عمل آنکھوں کی حفاظت کے لیے صرف ایک منتر اور ٹوٹکے کی حیثیت رکھتا ہے جس کا دین و عبادت سے کوئی تعلق نہیں،لہٰذا اس کو عبادت اور ثواب کا کام سمجھنا بدعت ہےجو کہ جائز نہیں؟
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ نام پاک کی یہ ایک برکت بیان ہوئی، ورنہ روایات میں تو یہ بھی موجود ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم اس کی شفاعت فرمائیں گے، اسے اپنے ساتھ جنت میں لے کر جائیں گے۔ کیا کوئی مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ جس عمل پر اتنے عظیم و جلیل ثواب کا وعدہ ہو، وہ سرے سے عبادت ہی نہیں، بلکہ منتر ہے، معاذ اللہ، نیز اس عمل کی یہ برکت بیان ہونا کہ آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی، اس سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ یہ عمل عبادت سے ہی خارج ہو جائے؟ حالانکہ سینکڑوں احادیث ایسی ہیں جن میں تلاوتِ قرآن عظیم وتسبیح وتہلیل وحمد وتکبیر ولاحول شریف وغیرہا اذکارِ جلیلہ پر جسمانی اور دُنیاوی فوائد حاصل ہونا بیان ہوئے ہیں، جسے شوق ہو،وہ صحاح ستہ، امام منذری کی ترغیب وترہیب، امامِ جلیل سیوطی کی جوامع اور امام جزری کی حصن حصین وغیرہا کتبِ حدیث کا مطالعہ کر لے، کیا ان سے دنیوی منافع حاصل ہونے سے یہ آیات و احادیث معا ذ اللہ! سب ایسے منتر بن جائیں گے کہ جن کا عبادت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ (ملخص از فتاوی رضویہ، 5 /644، رضا فاؤنڈیشن)
تنبیہ: یہاں دو باتیں ذہن نشین رہیں:
(1) اس عمل کو فرض، واجب، یا تاکیدی سنت نہیں قرار دیا گیا، بلکہ مستحب ہونا بیان ہوا، لہٰذا اگر کوئی شخص اس عمل کودرست جانتے ہوئے نہیں بھی کرتا، تو شرعاً کوئی حرج نہیں، نہ ہی اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کی شرعاً اجازت ہے، البتہ اگر کوئی اسے بدعتِ سیئہ اور ناجائز و گناہ قرار دے، تو شرعی دلائل کے ساتھ اس کا ضرور مؤاخذہ کیا جائے گا کہ جس کام کو اللہ و رسول نے منع نہیں فرمایا، وہ اسے کس بنیاد پر منع کر رہا ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: ضرور بمعنی فرض یا واجب یا سنت مؤکدہ تو اصلا نہیں۔ ہاں اذان سننے میں علمائے فقہ نے مستحب رکھا ہے۔ اور اس خاص موقع پر کچھ احادیث بھی وارد جو ایسی جگہ قابل تمسک ہیں کما حققناہ فی رسالتنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین، مگر نماز میں یا خطبہ یا قرآن مجید سنتے وقت نہ چاہئے، نماز میں اس کی ممانعت تو ظاہر، اور استماع خطبہ وقرآن کے وقت یوں کہ اس وقت ہمہ تن گوش ہو کر تمام حرکات سے بازرہنا چاہئے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 316، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
(2) کچھ مواقع ایسے ہیں کہ جہاں انگوٹھے چومنے سے بچنے کا حکم ہے، جیساکہ نماز میں، یونہی تلاوت اور خطبے کے دوران کہ ان حالتوں میں نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنے سے بچا جائے کہ یہی اَولیٰ و انسب ہے، نماز میں تو واضح ہے،دورانِ تلاوت و خطبہ اس لیے کہ اس وقت تمام افعال و حرکات سے باز رہنے کا حکم ہے، البتہ اگر کسی نے کرلیا، تو اس کو ناجائزو گناہ نہیں کہیں گے، سوائے یہ کہ ایسا طریقہ ہو جو سننے میں خلل کا باعث بن جائے۔ چنانچہ رد المحتار میں خطبے کے احکام کے بارےمیں فرمایا: الأصح انہ لا بأس بأن یشیر برأسہ۔ تو اس کے تحت جدالممتار میں کلام کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: أفاد أن ھذا القدر لایخل بالاستماع و الا لحرم، فیمکن علی ھذا تخریج ما اعتادہ الناس فی زماننا من تقبیل الابھامین و وضعھما علی العینین حین بلوغ القاری الی اسم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فی قولہ تعالٰی: ﴿مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ﴾ فلعلہ لایحکم بالتحریم، و ان کان الاولی الترک۔ ترجمہ: رد المحتار کے کلام نے اس بات کا فائدہ دیا کہ صرف سرکے اشارے کی مقدار،سننے میں خلل نہیں ڈالتی، ورنہ سر کا اشارہ بھی حرام ہوتا، اس پر یہ مسئلہ اخذکیا جاسکتا ہے جو ہمارے زمانے میں لوگوں کی عادت ہوچکی ہے کہ جب تلاوت کرنے والا قرآن پاک کی آیت میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے نام پرپہنچتا ہے تو وہ انگوٹھوں کو چوم کرآنکھوں پر لگاتے ہیں، تو اس عمل پر بھی حرام ہونے کا حکم نہ لگایا جائے، اگرچہ اولی یہی ہے کہ اسے ترک کیا جائے۔ (جد الممتار، جلد 3، صفحہ 241، مطبوعہ مكتبة المدينه، كراچی)
فاتحہ خوانی میں پنج آیت کی تلاوت کے وقت انگوٹھے چومنے کے بارے میں امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا،تو جواباً فرمایا: پنجآیت (یعنی پنج آیت) کے وقت اس فعل کا ذکر کسی کتاب میں نہ دیکھا گیا اورفقیر کے نزدیک یہاں پربنائے مذہبِ ارجح واصح، غالبا ترک زیادہ انسب والیق ہونا چاہیے۔ (فتاوی رضویہ جلد 22، صفحہ 355، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-10071
تاریخ اجراء: 16 محرم الحرام 1448ھ / 02 جولائی 2026ء