مزار کو سجدہ کرنے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
مزار کو سجدہ کرنا کفر ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
ہماری شریعت میں سجدہ صرف رب تعالی کی ذات کو ہی ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی کو بھی سجدہ کرنا اگر تعظیم کی نیت سے ہوتوناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اور عبادت کی نیت سے ہوتو کفر ہے۔ مزار کو سجدہ کرنے کا بھی یہی حکم ہے کہ تعظیم کی نیت سے سجدہ کرنا سخت ناجائز و حرام ہے اور عبادت کی نیت سے کفر ہے۔ واضح رہے کہ کسی نادان مسلمان کو مزار پر سجدہ کرتے دیکھ کر یہ قطعی فیصلہ کر لینا کہ اس نے عبادت کی نیت سے سجدہ کیا ہے، یا وہ غیر اللہ کی عبادت کر رہا ہے، درست نہیں، کیونکہ نیت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اور کسی مسلمان پر بغیر کسی دلیل کے الزام لگانا اور وہ بھی شرک کا، یہ بہت بڑا بہتان ہے اور حرام ہے۔ البتہ اگر وہ خود اقرار کرے کہ اس نے عبادت کی نیت سے سجدہ کیا ہےتو یہ کفر ہوگا۔
سنن ترمذی میں ہے: عن أبي هريرة ، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها‘‘ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا، تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (سنن ترمذی،جلد2،باب ما جاء فی حق الزوج علی المراۃ، صفحہ 453، رقم الحدیث: 1159، دارالغرب الاسلامی، بیروت)
اس کی شرح میں علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فیض القدیر میں لکھتے ہیں: فيه تعليق الشرط بالمحال لأن السجود قسمان سجود عبادة و ليس إلا لله وحده ولا يجوز لغيره أبدا وسجود تعظيم و ذلك جائز فقد سجد الملائكة لآدم تعظيما و أخبر المصطفى صلى اللہ عليه وسلم أن ذلك لا يكون و لو كان لجعل للمرأة في أداء حق الزوج‘‘ ترجمہ: اس میں شرط کو محال (ناممکن چیز) کے ساتھ معلق کرنا ہے، کیونکہ سجدہ دو قسم کا ہوتا ہے: سجدۂ عبادت، اور یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے علاوہ کسی اور کے لیے کبھی بھی جائز نہیں۔ (دوسرا) سجدۂ تعظیم، اور یہ (پچھلی شریعتوں میں) جائز تھا۔ چنانچہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو بطورِ تعظیم سجدہ کیا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ (میری شریعت میں) ایسا جائز نہیں، اور اگر جائز ہوتا، تو عورت کو اپنے شوہر کا حق ادا کرنے کے لیے سجدے کا حکم ہوتا۔ (فیض القدیر، جلد 5، صفحہ 329، مطبوعہ مصر)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ان السجدة لا تحل لغير اللہ‘‘ ترجمہ: اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ حلال نہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 5، صفحہ 2125، دار الفکر، بیروت)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو کہ مخلوق میں سب سے افضل ہیں، مگر اس کے باوجود آپ کے مزار مبار ک کو بھی سجدہ جائز نہیں، چنانچہ المسلک المتقسط میں ہے: اما السجدۃ فلا شک انھا حرام فلا یغتر الزائر بمایری من فعل الجاھلین بل یتبع العلماء العالمین‘‘ ترجمہ: رہا مزار انور کو سجد ہ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ حرام ہے، لہذا زیارت کرنے والا جاہلوں کے فعل سے دھوکہ نہ کھائے بلکہ علمائے باعمل کی پیروی کرے۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، صفحہ 567، 566، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے: و لا يجوز السجود إلا لله تعالى كذا في الغرائب‘‘ ترجمہ: اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا، جائز نہیں، یونہی غرائب میں ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 5، کتاب الکراھیۃ،، صفحہ 395، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
تعظیمی سجدہ کرنے والا کافر نہیں، ہاں گنہگار ضرور ہے، چنانچہ فتاوی ہندیہ ہی میں ہے: من سجد للسلطان على وجه التحية أو قبل الأرض بين يديه لا يكفر ولكن يأثم لارتكابه الكبيرة هو المختار‘‘ ترجمہ: جو شخص بادشاہ کو تعظیمی طور پر سجدہ کرے، یا اس کے سامنے زمین کو بوسہ دے، وہ کافر نہیں ہوگا، البتہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔ یہی مختار (راجح) قول ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 5، کتاب الکراھیۃ، صفحہ 368، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: غیر خدا کو سجدہ عبادت شرک ہے، سجدہ تعظیمی شرک نہیں مگر حرام ہے، گناہ کبیرہ ہے۔ متواتر حدیثیں اور متواتر نصوص فقہیہ سے اس کی حرمت ثابت ہے۔ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحریم پر چالیس حدیثیں روایت کیں اور نصوص فقہیہ کی گنتی نہیں، فتاوٰی عزیزیہ میں ہے کہ اس کی حرمت پر اجماع امت ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 565، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید فرماتے ہیں: مزارات کو سجدہ، یا اُن کے سامنے زمین چومنا حرام اور حد رکوع تک جھکنا ممنوع۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 474، رضا فاؤنڈیشن، لاہور(
مسلمان کو مزار پر سجدہ کرتے دیکھ کر اسے سجدہ تعظیمی ہی گمان کریں گے، چنانچہ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب میں ہے: بالفرض کبھی کوئی نادان مسلمان کسی مزار کو سجدہ کرتا نظر آئے تو اس کے سجدہ کو سجدۂ تعظیمی ہی پر محمول کریں گے، کیونکہ یہ بعید از قیاس ہے کہ کوئی جاہل سے جاہل مسلمان بھی عبادت کی نیت سے کسی بزرگ کے مزار کو سجدہ کرے۔ ہاں اگر یقینی طور پر معلوم ہو جائے، مثلاً وہ خود اقرار کرے کہ میں نے مزار کو عبادت کی نیت سے سجدہ کیا ہے، تو بے شک کافر ہے۔ نیت معلوم نہ ہونے کے باوجود اس کے سجدے کو محض اپنے قیاس سے خواہ مخواہ سجدۂ عبادت قرار دینا ایک مسلمان کے بارے میں بدگمانی ہی نہیں بلکہ صریح افترا (یعنی کھلا بہتان) ہے، جو کہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ604، 603، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1273
تاریخ اجراء: 06 صفر المظفر 1448ھ / 21 جولائی 2026ء