مقلد کا اپنی مرضی سے دوسرے امام کا قول ختیار کرنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کسی بھی مجتہد امام کے قول کو اپنی مرضی سے اختیار کرنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کوئی مقلد اپنی مرضی سے کسی دوسرے امام کے قول کو اختیار کر کے عمل کر سکتا ہے؟
جواب
مقلد پر اپنے امامِ مذہب کی تقلید اور راجح قول پر عمل کرنا شرعاً لازم ہے۔ اپنی نفسانی خواہش، آسانی یا پسند کی خاطر کسی دوسرے مجتہد کے قول پر عمل کرنا یا اپنے ہی فقہی مذہب میں موجود کسی ضعیف اور مرجوح قول پر عمل کرنا شرعاً ”عمل بالتشہی“ اور ”ہوس پرستی“ ہے، جو کہ بالاجماع ممنوع اور ناجائز و گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں واضح طور پر نفس کی خواہش کی اتباع کرنے سے منع فرمایا، چنانچہ ارشاد ہوا:﴿وَ لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور نفس کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا، ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی۔ (پ 23، سورۃ ص: آیت 26)
جو شخص محض اپنی چاہت اور غرض کے مطابق کسی بھی قول پر عمل کر لیتا ہے، وہ علم سے عاری ہے اور مسلمانوں کے اجماعی فیصلے کو توڑنے والا ہے، چنانچہ ”الأدب المفتی والمستفتی“ میں ہے: ”واعلم أن من يكتفي بأن يكون في فتياه أو عمله موافقًا لقول أو وجه في المسألة، ويعمل بما يشاء من الأقوال أو الوجوه من غير نظر في الترجيح، ولا تقيد به فقد جهل وخرق الإجماع، وسبيله سبيل الذي حكى عنه أبو الوليد الباجي المالكي من فقهاء أصحابه، أنه كان يقول: إن لصديقي علي إذا وقعت له حكومة أن أفتيه بالرواية التي توافقه۔۔۔وهذا مما لا خلاف بين المسلمين ممن يعتد به في الإجماع أنه لايجوز“ ترجمہ: تم جان لو کہ جو شخص اپنے فتویٰ یا عمل میں صرف اس بات پر اکتفا کر لے کہ وہ مسئلے میں کسی بھی قول یا رائے کے موافق ہو جائے، اور وہ ترجیح کو دیکھے اور اس کی پابندی کیے بغیر اپنی مرضی کے مطابق اقوال پر عمل کرے، تو ایسا شخص جہالت کا شکار اور اجماع کی خلاف ورزی کرنے والا ہے۔ اُس کی مثال اُس شخص جیسی ہے، جس کے بارے میں مالکی فقہاء میں سے علامہ باجی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ واقعہ نقل کیا کہ وہ شخص کہتا تھا کہ جب میرے کسی دوست کا کوئی معاملہ یا جھگڑا پیش آ جائے، تو مجھ پر اُس کا حق یہ ہے کہ میں اُسے اسی روایت کے مطابق فتویٰ دوں، جو اس کے فائدے کے موافق ہو۔ یہ ایک ایسا طرزِ عمل ہے جس کے ناجائز ہونے پر امت کے ان تمام معتبر علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے جن کی رائے کا اجماع میں اعتبار کیا جاتا ہے کہ یہ کام ناجائز ہے۔ (ادب المفتی والمستفتی، صفحہ 125، مطبوعہ عالم الکتب، المدینۃ المنورۃ)
اِسی جہالت اور مخالفتِ اجماع والی بات کو علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی اپنی اصولِ افتاء کی کتاب میں نقل فرمایا۔ (شرح المنظومة المسماة بعقود رسم المفتي، صفحۃ 11، مطبوعہ استنبول)
جو اپنی مرضی کے مطابق عمل کرتا پھرے، وہ در حقیقت خواہش پرستی کا شکار ہوتا ہے اور ناجائز خواہشات کے پیچھے لگے رہنا حرام ہے، چنانچہ علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 878ھ/1473ء) لکھتے ہیں:”إنّي قد رأيتُ مَن عمل في مذهب أئمّتنا رضي اللہ عنهم بالتشهّي، حتى سمعتُ من لفظ بعض القضاة: وهل ثَمَّ حَجْرٌ؟ فقلتُ: نَعَم، اتّباع الهوى حرام، والمرجوح في مقابلة الراجح بمنزلة العَدَم“ترجمہ: میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو ہمارے ائمہ کے مذہب میں اپنی نفسانی خواہش کے مطابق عمل کرتے ہیں، یہاں تک کہ میں نے بعض قاضیوں کے منہ سے یہ الفاظ بھی سنے کہ کیا اس معاملے میں کسی قسم کی روک ٹوک یا پابندی ہے؟ تو میں نے جواب دیا کہ ہاں، خواہشِ نفس کی پیروی کرنا حرام ہے اور راجح رائے کے مقابلے میں مرجوح کی حیثیت بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ (التصحیح والترجیح، صفحہ 121، مطبوعۃ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جس طرح مقلد کو بلاضرورتِ شرعیہ مذہبِ غیر پر عمل کرناممنوع ہے، اِسی طرح مفتی کو بھی مذہبِ غیر، بلکہ اپنے ہی مذہب کے قولِ مرجوح پر فتوی دینا درست نہیں، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: ”فكيف ينفذ قضاؤه بخلاف مذهبه؛ لأنه إذا نهاه عن القضاء بالأقوال الضعيفة في مذهبه لا ينفذ قضاؤه فيها فبخلاف مذهبه بالأولى“ ترجمہ: تو پھر کسی قاضی کا فیصلہ اُس کے اپنے مذہب کے خلاف کیسے نافذ ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جب قاضی کو اپنے ہی مذہب کے ضعیف اقوال کے مطابق فیصلہ کرنے سے روک دیا جائے تو اس کا فیصلہ نافذ نہیں مانا جاتا، تو اپنے مذہب کے بالکل خلاف جا کر فیصلہ کرنے کی صورت میں، اُس کا نافذ نہ ہونا بدرجہ اولیٰ یقینی ہے۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 01، صفحہ 74، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اِسی صفحہ پر مزید لکھا:”إن كلا منهما لا يجوز له العمل بالتشهي، بل عليه اتباع ما رجحوه في كل واقعة“ ترجمہ: مفتی و قاضی میں سے کسی کے لیے بھی اپنی نفسانی خواہش کے مطابق عمل کرنا، جائز نہیں ہے، بلکہ ان پر لازم ہے کہ ہر پیش آنے والے معاملے میں اسی رائے کی پیروی کریں، جسے فقہاء نے راجح قرار دیا ہے۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 01، صفحہ 74، مطبوعہدار الفکر، بیروت)
اگر مرضی کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دیدی جائے، تو شیرازہِ شریعت ہی بکھر جائے، چنانچہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں:”اور یہ کہ کبھی، ان کے مسلک پر عمل کیا اور کبھی اُن کے مسلک پر، یعنی جدھر اپنا مطلب دیکھا، ادھر چلے گئے، یہ اتباعِ نفس ہے، پیرویِ شریعت نہیں، ایسا کرنا، جائز نہیں، خصوصاً اس زمانہ میں کہ نفس پرستی کا مادہ بہت غالب ہے، اگر ایسی اجازت دیدی جائے، تو شیرازہٴ شریعت درہم برہم ہو جائے ۔“ (فتاوٰی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 171، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
یونہی مزید لکھا: ”عوام کو بلکہ اس زمانہ کے خواص کو تقلید سے چارہ نہیں اور ہر مقلد کو اُس پر عمل کرے، جو اُس کے امام کا مذہب ہے، اُس سے خروج جائز نہیں۔ امام عبد الوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی ”میزان الشریعۃ الکبری“ میں فرماتے ہیں۔ يجب على المقلد العمل بالارجح من القولين في مذهبه۔ ترجمہ: مقلد پر لازم ہے کہ وہ اپنے مسلک میں موجود دو مختلف اقوال میں سے زیادہ راجح قول پر ہی عمل کرے۔“ (فتاوٰی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 339، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
نوٹ: جہاں فقہائے اسلام قولِ ضعیف یا قولِ مذہبِ غیر کی طرف عدول کرتے ہیں، تو یاد رکھیے کہ اِس عدول کی نہایت کڑی شرائط ہیں۔ اولاً اُن مسائل کی بھی ایک خاص نوع ہے، کہ جن میں عدول کی گنجائش ہوتی ہے، ثانیاً اُس عدول کے لیے بھی خاص اَسباب ہیں، جن کا شرعی تحقق ضروری ہوتا ہے اور ثالثاً یہ تمام غور و فکر کرنا اور عدول کا فیصلہ کرنا عام شخص کے بَس کی ہرگز بات نہیں، بلکہ فقہ اسلامی کے ماہر و حاذق مفتیانِ کرام کا شیوہ ہوتا ہے، لہذا اِس سے ہٹ کر اپنی مرضی سے جیسے دل کیا، اُس مذہب کے مسئلہ پر عمل کر لیا، یہ شرعاً ناجائز، گناہ اور خلافِ اجماع ہے۔ ہم پر یہی لازم ہے کہ اپنے مذہب کے قولِ راجح کی ہی اتباع کریں، چنانچہ ”در مختار“ میں ہے: ”اما نحن فعلینا اتباع ما رجّحوہ و صحّحوہ“ ترجمہ: اور ہم پر تو یہی لازم ہے کہ جسے فقہائے مذہب نے ترجیح دی اور صحیح قرار دیا، اُسی کی اتباع کریں۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 01، صفحہ 74، مطبوعہدار الفکر، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب:مفتی محمدقاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10087
تاریخ اجراء: 21 محرم الحرام 1448ھ/07 جولائی 2026