مزار کو بوسہ دینے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مزار شریف کو بوسہ دینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مزار شریف یا قبر کو بوسہ دینا کیسا ہے؟ بعض لوگ اس کو ناجائز و گناہ قرار دیتے ہوئے منع کرتے ہیں، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ حقیقت کیا ہے؟
جواب
قبورِ مسلمین کی زیارت کرنا سنت ہے، خصوصاً والدین کی قبر پر جانا دین و دنیا میں سرخروئی کا ذریعہ ہے، نیز مزاراتِ اولیاء منبع ِانوار و تجلیات ہوتے ہیں، ان پر حاضری دینے سے دلوں کو راحت ملتی اور بے شمار دینی و دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں، جس کی اصل خود رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک قول و عمل سے ثابت ہے، یہی اسلاف کا معمول رہا ہے، لہٰذا ہر خلافِ شرع طریقے سے بچتے ہوئے با ادب انداز میں ان پر حاضری دینا، وہاں فاتحہ خوانی کرنا اور صاحبِ مزار کے وسیلے سے دعائیں کرنا، بلا شبہ جائز، بلکہ مستحب اور مستحسن عمل ہے۔ حاضری کا ادب و احترام والا طریقہ یہ ہے کہ صاحبِ قبر کی پائنتی یعنی پاؤں کی جانب سے آئے اور مواجہہ یعنی چہرے کی طرف مزار سے چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو اور درمیانی آواز میں سلام عرض کرے، پھر قرآن خوانی، خواہ فاتحہ شریف اور چند بار درود پاک ہی پڑھ کر ایصال ِ ثواب کرے اور رب تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں صاحبِ مزار کے وسیلے سے دعا مانگے، پھر سلام کر کے یونہی واپس آ جائے ۔
جہاں تک قبر یا مزار شریف کو بوسہ دینے کا تعلق ہے، تو قبر اور بالخصوص کسی نیک ہستی کے مزار مبارک کو چومنے کے متعلق بہت سے علمائے کرام نے آثارِ صحابہ اور دیگر اکابرِ دین کے عمل کی روشنی میں جواز بیان کیا ہے، مگر اَحوَط اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ عوام کو مزارات اور قبر کو بوسہ دینے کی ممانعت ہے، اسی میں ادب ہے، نیز یہ عمل بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے آثار سے ثابت ہے۔
بعض لوگ مزار شریف پر جانے یا وہاں جا کر بوسہ دینے کو ناجائز و گناہ قرار دیتے ہیں، بلکہ بوسہ دینے کو معاذ اللہ! خود ساختہ نظریہ کی بنیاد پر سجدہ قرار دینے اور مسلمانوں پر شرک کا حکم لگانے میں دیر نہیں کرتے، ایسے لوگوں کو اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے کہ جس کام کو اللہ و رسول نے گناہ و ممنوع نہیں قرار دیا، اسے حرام کہنا شریعت پر بہتان اور جھوٹ باندھنا ہے اور مسلمان پر اتنی بڑی تہمت لگانا کسی صورت شریعت کو رَوَا نہیں، کیونکہ بوسہ دینے کو حرام کسی نے بھی نہیں کہا، منع کرنے والے علما بھی ادب و احترام اور سداً للذرائع (یعنی کہیں بوسہ سے آگے بڑھتے ہوئے کوئی ممنوع عمل نہ کرے، اس کے پیش نظر) بوسۂ قبر سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر کوئی مزار شریف یا قبر کا بوسہ لے لیتا ہے، تو وہ شرعاً گنہگار نہیں ہوگا۔
جزئیات ملاحظہ کیجیے:
مزارات پر جانا مستحسن عمل ہے، جس کی اصل خود رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک عمل سے ثابت ہے، چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام شہدائے اُحد کے مزار پر ہر سال تشریف لے جایا کرتے تھے، مصنف عبد الرزاق میں ہے: ”کان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یاتی قبور الشھداء عند راس الحول فیقول ”السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار “ قال: وکان ابوبکر و عمر و عثمان یفعلون ذلک“ ترجمہ: نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سال کے شروع میں شہدائے احد کے مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے، اور فرماتے: ’’السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار“ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر، عمر، عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الجنائز، جلد 3، صفحہ 381، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
بزرگانِ دین اور صلحا کے مزارات پر جاکر ایصالِ ثواب کرنا اور ان کے وسیلے سے دعائیں مانگنا، اکابر اَئمہ دین، محققین، محدثین، مفسرین الغرض سلف صالحین کا طریقہ اور معمول رہا ہے، چنانچہ شیخ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی مکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 972ھ) لکھتے ہیں: ”لم یزل العلماء وذووالحاجات یزورون قبرہ ویتوسلون عندہ فی قضاء حوائجھم ویرون نجح ذالک منھم الامام الشافعی رحمۃ اللہ لما کان ببغداد فانہ جاء عنہ انہ قال انی لاتبرک بابی حنیفۃ وأجئ الی قبرہ فاذاعرضت لی حاجۃ صلیت رکعتین وجئت الی قبرہ وسالت اللہ عندہ فتقضی سریعا“ ترجمہ: ہمیشہ سے علماء اور حاجت مند لوگ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مزار کی زیارت کرتے اور اپنی حاجتیں پوری کرنے کے لیے آپ کا وسیلہ پیش کرتے رہے ہیں اور اسے اپنے لیے باعث شرف سمجھتے ہیں، انہی علما میں سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں، جن کے متعلق یہ بات مروی ہےکہ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں، جب میں بغداد میں قیام پذیر تھا، تو امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے برکت حاصل کیا کرتا تھا، جب مجھےکوئی حاجت پیش آتی، تو میں امام اعظم رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ کے مزار پر آتا اور دو رکعتیں پڑھتا، پھر ان کی قبر مبارک پر حاضری دیتا، اور وہاں اللہ پاک سے دعا کرتا، تو فوراً میری حاجت پوری ہو جاتی۔ ( الخیرات الحسان، صفحہ 72، مطبوعہ مکتبۃ السعادہ، مصر)
علامہ ابن الحاج فاسی مالکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 737ھ) لکھتے ہیں: ”وما زال الناس من العلماء، والأكابر كابرا عن كابر مشرقا ومغربا يتبركون بزيارة قبورهم ويجدون بركة ذلك حسا ومعنى…والاعتبار أن زيارة قبور الصالحين محبوبة لأجل التبرك مع الاعتبار، فإن بركة الصالحين جارية بعد مماتهم كما كانت في حياتهم والدعاء عند قبور الصالحين، والتشفع بهم معمول به عند علمائنا المحققين من ائمة الدين“ ترجمہ: مفہوم اوپر بیان ہو چکا۔ (المدخل لابن الحاج، جلد 1، صفحہ 255، مطبوعہ دار التراث)
قبور مسلمین اور مزارت کی حاضری کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے سیّدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”قبور مسلمین کی زیارت سنّت اور مزارات اولیاء کرام و شہداء رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کی حاضری سعادت بر سعادت اور انہیں ایصال ثواب مندوب وثواب۔ (یعنی پسندیدہ اور باعث ثواب ہے) ۔‘‘ (فتاوی رضویہ ، جلد 9، صفحہ 532، مطبوعہ رضا فانڈیشن ، لاھور)
مزار شریف پر حاضری کا طریقہ بیان کرتے ہوئے شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری (سالِ وفات: 1052ھ) ”لمعات التنقیح“ میں، علامہ طحطاوی ”حاشیہ الطحطاوی علی المراقی“ اور علامہ شامی عَلَیْہِم الرَحْمَۃ ”رد المحتار“ میں لکھتے ہیں، واللفظ للاول: ”ومن آداب الزيارة أن يقوم مستقبل القبر، مستدبر القبلة، حذاء الوجه، وأن يسلم، ولا يمسح القبر، ولا يقبله، ولا ينحني، ولا يعفر الوجه على التراب“ ترجمہ: مزار شریف کی زیارت کے آداب میں سے یہ ہے کہ زائر، مزار شریف کے سامنے اس طرح کھڑا ہو کہ اس کا رخ قبر کی جانب اور پشت قبلہ کی طرف ہو اور صاحبِ قبر کے چہرہ کے سامنے کھڑا ہو کر سلام عرض کرے اور قبر کو نہ ہاتھ لگائے، نہ اسے بوسہ دے، نہ اس کے سامنے جھکے اور نہ ہی اپنا چہرہ مٹی پر ملے۔ (لمعات التنقیح، جلد 4، صفحہ 217، مطبوعہ دار النوادر، دمشق)
اسی کو مزید شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”مزارت ِشریفہ پر حاضرہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز بادب عرض کرے ’’السّلام علیک یا سیدی ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ‘‘ پھر درود غوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک، آیۃ الکرسی ایک بار، سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار، اور وقت فرصت دے، تو سورہ یٰسں اورسورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الٰہی! اس قراءت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے، نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے اور اسے میری طرف سے اس بندۂ مقبول کو نذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو اس کے لیے دعا کرے اور صاحب مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قرار دے، پھر اُسی طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام۔‘‘ (فتاوی رضویہ ، جلد 9، صفحہ 522، مطبوعہ رضا فانڈیشن ، لاھور)
اسی بات کو شرح شرعۃ الاسلام اور شرح المشکوۃ کے حوالے سے بیان کرنے کے بعد علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ/1815ء) لکھتے ہیں: ”وعليه عمل عامة المسلمين“ ترجمہ: اور اسی طریقہ پر عام مسلمانوں کا عمل ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 621، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
مزار شریف یا قبر کو بوسہ دینے کے متعلق جزئیات:
مزار یا قبر کو بوسہ دینے میں علما کا اختلا ف ہے، چنانچہ موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: ”اختلف الفقهاء في حكم تقبيل القبر“ ترجمہ: قبر کو بوسہ دینے کے متعلق فقہائے کرام کا اختلاف ہے۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، جلد 32، صفحہ 256، مطبوعہ وزارتِ اوقاف، کویت)
اکابر اَئمہ و علمائے کرام کی ایک بہت بڑی تعداد نے صحابہ کرام کے آثار اور دیگر اکابر کے عمل کی روشنی میں بوسۂ قبر کا جواز بیان کیا ہے، چند ایک حوالہ جات ملاحظہ کیجیے:
چنانچہ شارِح بخاری، علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:855ھ/1451ء) لکھتےہیں: ”وأما تقبيل الأماكن الشريفة على قصد التبرك، وكذلك تقبيل أيدي الصالحين وأرجلهم فهو حسن محمود باعتبار القصد والنية…الحافظ أبو سعيد ابن العلائي قال: رأيت في كلام أحمد بن حنبل في جزء قديم عليه خط ابن ناصر وغيره من الحفاظ، أن الامام أحمد سئل عن تقبيل قبر النبي، صلى اللہ عليه وسلم، وتقبيل منبره، فقال: لا بأس بذلك“ ترجمہ: اور جہاں تک مقدس اور متبرک مقامات کو حصولِ برکت کی نیت سے بوسہ دینے کا تعلق ہے اور یونہی اولیائے کرام اور صالحین کے ہاتھوں اور قدموں کو تعظیم و تبرک کی غرض سے چومنے کا معاملہ ہے، تو نیت اور مقصد کے اعتبار سے یہ ایک اچھا اور قابلِ تحسین عمل ہے۔ حافظ ابو سعید ابن العلائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ایک قدیم جزء، جس پر حافظ ابن ناصر اور دیگر حفاظ ِ (حدیث) کے حواشی موجود تھے، یہ عبارت دیکھی کہ امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ انور اور منبر شریف کو بوسہ دینے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ (عمدة القاري، جلد 9، صفحہ 241، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
عالم مدینہ، نور الدین، علامہ علی بن احمد سمہودی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 911ھ/ 1505ء) ”وفاء الوفاء“ میں لکھتے ہیں: ”وقال الحافظ ابن حجر: استنبط بعضهم من مشروعية تقبيل الحجر الأسود، جواز تقبيل كل من يستحق التعظيم من آدمي وغيره، فأما تقبيل يد الآدمي فسبق في الأدب، وأما غيره فنقل عن أحمد أنه سئل عن تقبيل منبر النبي صلى اللہ تعالى عليه وسلم وقبره، فلم ير به بأسا…ونقل عن ابن أبي الصيف اليماني أحد علماء مكة من الشافعية جواز تقبيل المصحف وأجزاء الحديث وقبور الصالحين۔ ونقل الطيب الناشري عن المحب الطبري أنه يجوز تقبيل القبر ومسه؟ قال: وعليه عمل العلماء الصالحين“ ترجمہ: حافظ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ لکھتے ہیں: بعض علماء نے حجر اسود کو بوسہ دینے کے جواز سے یہ استنباط فرمایا ہےکہ انسان اور اس کے علاوہ ہر وہ چیز، جو لائق تعظیم ہے، اسے چومنا جائز ہے، بہر حال انسان کے ہاتھ کو چومنا، تو اس كا ذكر ادب کے باب میں گزرچکا، البتہ اس کے علاوہ دیگر چیزوں کو چومنا، تو اس کے متعلق امام احمد عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ سے منقول ہے کہ ان سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور قبر انور کو چومنے کے بارے میں سوال ہوا، تو آپ نے اس میں کوئی حرج نہ جانا۔ مکہ کے شافعی عالم، امام ابن ابو الصیف یمانی سے قرآن مجید، حدیث مبارک کے کسی جزء اور صالحین کے مزار کو چومنے کا جواز منقول ہے۔ طیب ناشری نے علامہ محب طبری سے نقل کیا کہ انہوں نے قبر کو چومنے اور اسے چھونے کو جائز قرار دیا اور فرمایا کہ اسی پر صالحین علما کا عمل ہے۔ (وفاء الوفاء، ملخصاً، جلد 4، صفحہ 218، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
ان دلائل کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ علماء نے ایسے آثار سے اس عمل کا جواز بیان کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر اس عمل کو ناجائز وگناہ کہنا، بلکہ سجدہ قرار دے کر شرک کے فتوے لگانا، ہرگز درست نہیں، بلکہ بہت بڑی جہالت ہے۔
تاہم یہ کہ اگرچہ اس عمل کے جائز ہونے کے دلائل موجود ہیں، مگر پھر بھی احوط اور مختار قول یہی ہے کہ عوام کو مزاراتِ شریفہ اور قبر کو بوسہ دینے سے منع کیا جائے گا، کیونکہ اسی میں زیادہ ادب ہے، نیز یہ عمل بھی آثارِ صحابہ سے ثابت ہے ۔
چنانچہ مزارات پر حاضری کا مستحب طریقہ بیان کرنے کے بعد امام محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 505ھ) لکھتے ہیں: ”قال نافع كان ابن عمر رأيته مائة مرة أو أكثر يجيء إلى القبر فيقول السلام على النبي السلام على أبي بكر السلام على أبي وينصرف وعن أبي أمامة قال رأيت أنس بن مالك أتى قبر النبي صلى اللہ عليه وسلم فوقف فرفع يديه حتى ظننت أنه افتتح الصلاة فسلم على النبي صلى اللہ عليه وسلم ثم انصرف“ ترجمہ: حضرت نافع نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر ۔۔۔۔ کو سو یا اس سے زائد بار روضہ رسول پر حاضری دیتے ہوئے دیکھا ہے، تو (ان کا طریقہ یہ ہوتا کہ) وہ یوں سلام عرض کرتے: ’’السلام علی النبی، السلام علی أبی بکر، السلام علی أبی‘‘ پھر وہاں سے واپس تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قبرِ انور پر حاضر ہوئے، کچھ دیر وہاں کھڑے رہے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید وہ نماز شروع کرنے والے ہیں، لیکن انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں سلام عرض کیا اور پھر واپس تشریف لے گئے۔ (إحياء العلوم، بیان زیارۃ القبور ۔۔، جلد 4، صفحہ 621، شرکۃ دار الارقم، بیروت)
امام نجم الدین الغزی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1061ھ) لکھتے ہیں: ”وإذا زار قبور الصالحين فلا يمسح القبر۔۔الخ‘‘ اور جب جب نیک لوگوں کی قبروں کی زیارت کرے تو قبر کو چھوئے نہیں۔ (حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ، جلد 2، صفحہ 561، مطبوعہ دار النور)
شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”ہاتھ سے قبر کو نہ چھوئے اور نہ اُسے بوسہ دے اور نہ جھکے۔“ (اشعۃ اللمعات، مترجم، جلد 2، صفحہ 924، مطبوعہ فرید بک سٹال)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”جمہور علماء (قبر کو بوسہ دینا) مکروہ جانتے ہیں، تو اس سے احتراز ہی چاہیے۔ “(فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 526، مطبوعہ رضا فانڈیشن، لاھور)
ایک اور مقام پر اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے بوسۂ قبرکے متعلق سوال ہوا، تو اس کے جواب میں فرمایا: ”اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے۔ بکثرت اکابر جواز و منع دونوں طرف ہیں اور عوام کے لئے زیادہ احتیاط منع میں ہے۔ خصوصاً مزاراتِ طیبہ اولیاء کرام پر کہ ان کے اتنا قریب جانا ادب کے خلاف ہے۔ کم از کم چار ہاتھ فاصلے سے کھڑا ہو۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 419، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اور اس کی علت بیان کرتے ہوئے لکھا: ”احوط منع اور علت خلافِ ادب ہونا۔“ (فتاوی رضویہ ، جلد 22، صفحہ 403، مطبوعہ رضا فانڈیشن ، لاھور)
اور اگر کوئی شخص منکراتِ شرعیہ سے بچتے ہوئے مزار شریف کا بوسہ لے لے، تو وہ گنہگار نہیں ہوگا، کیونکہ وہ کسی ایسے فعل کا مرتکب نہیں ہوا جو معصیت کے درجے میں شامل ہو، چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”فی الواقع بوسہ قبر میں علماء کا اختلاف ہے۔ اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایک امر ہے دو چیزوں داعی و مانع کے درمیان دائر، داعی محبت ہے اور مانع ادب، تو جسے غلبہ محبت ہو اس سے مواخذہ نہیں کہ اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ثابت ہے اور عوام کے لئے منع ہی احوط ہے۔ ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزار اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو پھر تقبیل کی کیا سبیل۔“
اسی فتوی میں آگے چل کر جواز کے دلائل بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ” بالجملہ یہ کوئی امر ایسا نہیں جس پر انکار واجب ہو، جبکہ اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اجلہ ائمہ رحمہم اللہ تعالیٰ سے ثابت ہے، تو اس پر شورش کی کوئی وجہ نہیں، اگر چہ ہمارے نزدیک عوام کو اس سے بچنے ہی میں احتیاط ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 403، 406 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Fsd-10078
تاریخ اجراء: 21 محرم الحرام 1448ھ/07 جولائی 2026ء