مزار پر گنبد بنانا جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مزار پر گنبد بنانے کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قبروں پر گنبد بنانے کا شرعی حکم کیا ہے؟ اگر جائز ہے، تو اس کا جواز کہاں سے ثابت ہے؟
جواب
انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلامْ ، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ، اولیاء و صلحائے عظام اور علمائے اعلام کی تعظیم و تو قیر، درحقیقت اسلام کی ہی تعظیم و توقیر ہے کہ قرآنِ کریم نے شعائر اللہ کی تعظیم کو دل کے تقویٰ کی علامت قرار دیا ہے اور حضراتِ انبیاء و اولیاء کے مزارات بھی شعائرِ اسلام میں داخل ہیں کہ یہ اسلام کی نشانی اور ان نفوسِ قدسیہ کی یادگار ہیں، اور اصحابِ مزار کی حرمت و تعظیم کا لحاظ رکھنے کے لئے ان کے آثار کی حفاظت کرنا اور ان کے مزارات کی بقا کا اہتمام کرنا، شرعاً مطلوب اور مستحسن عمل ہے، بلکہ خود اللہ رب العزت نے انبیائے کرام اور اولیائے عظام کے آثار و نشانات کے اکرام و اعزاز کا اہتمام فرمایا ہے۔
نفس مسئلہ کی تفصیل جاننے سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ قبورِ مسلمین دو طرح کی ہیں:
(1) : عام مسلمانوں کی قبریں۔
(2) : انبیائے کرام اور اولیاء و علمائے عظام کی قبریں۔
عام مسلمانوں کی قبروں پر مٹی وغیرہ ڈال کر ان کی حفاظت کا اہتمام کرناچاہیے، تاکہ ان کا نشان نہ مٹ جائے اور وقتاً فوقتاً حاضر ہو کر فاتحہ وغیرہ کا سلسلہ بھی ضرور کرتے رہنا چاہیے، مگر ان پر عمارت وغیرہ تعمیر کرنا چونکہ بے فائدہ ہے، اس لیے ان کی قبروں پر بلا ضرورت گنبد بنانا یا اس طرح کی تعمیرات کرنا، ممنوع ہے۔ جبکہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلامْ اور اولیائے عظام رَحِمَہُم اللہ کی قبروں کا معاملہ ان سے مختلف ہے، کیونکہ ان کی تعظیم، دراصل اسلام کی تعظیم ہے، نیز ان کے مزارات پر مسلمان تلاوتِ قرآن، فاتحہ خوانی، ذکرو دعا اور فیوض و برکات کے حصول کے لیے آتے رہتے ہیں، اس لیے ان کے مزارات کی حفاظت، ان کی شناخت برقرار رکھنے، زائرین کی سہولت اور مخلوقِ خدا کے دلوں میں ان کے مقام و مرتبہ کے اظہار کے لیے عمارت اور گنبد وغیرہ تعمیر کرنا، نہ صرف جائز، بلکہ کارِ ثواب ہے۔ اور یہ بات قرآن کریم کی آیاتِ مبارکہ، احادیثِ طیبہ، آثارِ صحابہ، اقوالِ ائمہ، مفسرین، محدثین اور علمائے دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے عمل سے ثابت ہے اور عام مسلمان بھی ہمیشہ سے انبیائے کرام اور صالحین عظام کی قبروں پر قبہ و عمارت وغیرہ تعمیر کرتے آ رہے ہیں۔
دلائل ملاحظہ کیجیے:
قرآنِ کریم سے ثبوت :
صالحین کے مزارات پر عمارت وغیرہ تعمیر کرنے کا سلسلہ ہمیشہ سے چلتا آ رہا ہے، قرآنِ مجیدمیں اصحابِ کہف کے مزارات پر عمارت اور مسجد بنانے کا ذکر موجود ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا﴾ ترجمہ:” جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے تو کہنے لگے: ان کے غار پر کوئی عمارت بنادو، ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے، جو لوگ اپنے اس کام میں غالب رہے تھے، انہوں نے کہا: ہم ضرور ان کے قریب ایک مسجد بنائیں گے۔ “ ( پ15، سورۃکہف، آیت 21)
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت چھٹی صدی ہجری کے عظیم مفسر امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 606 ھ) تفسیرِ کبیر میں لکھتے ہیں: ” لنتخذن عليهم مسجدا نعبد اللہ فيه ونستبقي آثار أصحاب الكهف بسبب ذلك المسجد“ یعنی: ہم ضرور ان پر مسجد بنائیں گے، تاکہ ہم اس میں اللہ کی عبادت کریں اور ہم اس مسجد کے ذریعے اصحابِ کہف کے آثار کو باقی رکھ سکیں ۔ ( تفسیر کبیر ، جلد 21 ، صفحہ 447 ، مطبوعہ دار احیاء التراث ، بیروت )
تفسیر طبری، تفسیر نسفی اور تفسیر خازن، وغیرہا کتبِ تفاسیر میں ہے، ” ﴿فَقَالُواْ﴾ حين توفى اللہ أصحاب الكهف ﴿ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا﴾ أي: على باب كهفهم لئلا يتطرق إليهم الناس ضناً بتربتهم ومحافظة عليها كما حفظت تربة رسول اللہ ﷺ بالحظيرة . . . ﴿ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ﴾ من المسلمين وملكهم وكانوا أولى بهم وبالبناء عليهم ﴿لَنَتَّخِذَنَّ﴾ باب الكهف ﴿مَّسْجِدًا﴾ يصلي فيه المسلمون ويتبركون بمكانهم“ یعنی: جب الله تعالیٰ نے اصحاب کہف کو وفات دی، تو لوگوں نے کہا کہ اصحاب کہف کی غار کے دروازے پر عمارت بنا دو، تاکہ لوگ غار کے اندر داخل نہ ہو سکیں اور ان کی قبروں کو ہٹا نہ سکیں اور ان کی حفاظت ہو سکے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ انور کی حفاظت چار دیواری سے کی گئی ۔ ایمان والوں میں سے جو اس معاملے میں غالب تھے اور اصحابِ کہف اور ان کی قبروں پر عمارت بنانے کے زیادہ حق دار تھے، انہوں نے کہا کہ ہم ضرور غار کے دروازے پر ایک مسجد بنائیں گے، جس میں مسلمان نماز بھی پڑھیں اور ان کے قرب والی جگہ سے برکتیں بھی حاصل کریں۔ ( تفسیر نسفی، جلد 2، صفحہ 293، مطبوعہ دارالکلم، بیروت)
صراط الجنان فی تفسیر القرآن میں ہے:” اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے مزارات کے قریب مسجدیں بنانا اہلِ ایمان کا قدیم طریقہ ہے اور قرآنِ کریم میں اس کا ذکر فرمانا اور اس کو منع نہ کرنا اس فعل کے درست ہونے کی قوی ترین دلیل ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں کے قرب میں برکت حاصل ہوتی ہے، اسی لئے اہل اللہ کے مزارات پر لوگ حصولِ برکت کے لئے جایا کرتے ہیں۔ قبروں کی زیارت سنت اور موجبِ ثواب ہے۔ “ (صراط الجنان، جلد 5، صفحہ 553، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
قرآن کریم نے ان لوگوں کی دو باتوں کا ذکر فرمایا : ( 1) اصحابِ کہف کے گرد قبہ اور مقبرہ بنانے کا مشورہ کرنا۔ ( 2) ان کے قریب مسجد بنانا۔ اور پھر کسی بھی بات کا انکار نہ فرمایا، معلوم ہوا کہ دونوں فعل اس وقت بھی جائز تھے اور اب بھی جائز ہیں، کیونکہ اصولِ فقہ کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ سابقہ شریعتوں میں سے جن احکام کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے بیان فرمایا اور ان کا انکار نہ فرمایا، یا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے بیان فرمایا اور ان کا انکار نہ فرمایا، تو وہ ہم پر لازم ہیں اس طور پر کہ وہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا ہی حصہ ہیں، چنانچہ کتبِ اصولِ فقہ میں ہے: ” والصحيح عندنا أن ما قص اللہ تعالى منها علينا من غير إنكار أو قصه رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم من غير إنكار فإنه يلزمنا على أنه شريعة رسولنا عليه السلام“ مفہوم بیان ہو گیا۔ ( کشف الاسرار ، جلد 3 ، صفحہ 212 ، مطبوعہ استنبول )
احادیثِ طیبہ سے ثبوت :
(1): حضرت عثمان ابن مظعون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد جب ان کی تدفین ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قبر کے سرہانے ایک بڑا پتھر نصب فرمایا، پھر فرمایا: ”أتعلم بها قبر أخي، وأدفن إليه من مات من أهلي“ یعنی: میں اس نشان کے ذریعے اپنے بھائی کی قبر کو پہچانتا رہوں گا اور اسی جگہ اپنے اہل خانہ کی تدفین کروں گا۔ (سنن ابو داؤد، جلد 3، صفحہ 212، مطبوعہ بیروت)
اور صحیح بخاری کی حدیثِ پاک میں ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی قبر بہت اونچی تھی، چنانچہ خارجہ بن زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ” رأيتني ونحن شبان في زمن عثمان رضي اللہ عنه، وإن أشدنا وثبة الذي يثب قبر عثمان بن مظعون حتى يجاوزه“ یعنی: حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت کے زمانے میں ہم جوان تھے اور ہم میں سب سے زیادہ پھرتیلا اور اچھلنے میں ماہر اسے سمجھا جاتا تھا، جو عثمان ابن مظعون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر کو پھلانگ جاتا تھا۔ (صحیح البخاری، جلد 2، صفحہ 95، مطبوعہ مصر)
سنن ابو داؤد اور صحیح بخاری کی احادیث سے ثابت ہوا کہ اگر کسی خاص قبر کا نشان قائم رکھنے کے لیے اور پہچان کے لیے کہ یہ فلاں بزرگ کی قبر ہے، قبر اونچی کر دی جائے یا پتھر وغیرہ سے پختہ کردیا جائے، تو یہ بلا شبہ جائز ہے، بلکہ سنتِ فعلی سے ثابت ہے ۔
(2) : سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے حجرے میں دفن کیا گیا (سنن ترمذی، 1/266، ط: بیروت) اور یہ بات کسی پر مخفی نہیں کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا حجرہ مکمل کمرے کی صورت میں تھا، جس پر چھت بھی تھی، تو اگر قبر کے ارد گرد عمارت کا ہونا، ناجائز تھا، تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان وہاں تدفین نہ کرتے، حالانکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اور یہ عمل جواز کی نہایت روشن دلیل ہے۔
(3) : صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے مختلف اَدوار میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ انور کے ارد گرد نئی تعمیرات کروائیں، جیسا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے زمانہ خلافت میں روضۂ انور کے گرد کچی اینٹوں کی گول دیوار بنوا دی۔ پھر ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام صحابہ کرام کی موجودگی میں اس عمارت کو پتھروں کے ساتھ مضبوط تعمیر کیا۔
چنانچہ خلاصۃ الوفا باخبار دارالمصطفٰی میں ہے: ” أن البيت كان مبنيا باللبن وله حجرة من جريد النخل مستورة بمسوح الشعر وكان عمر بن الخطاب أبدل الجريد بجدار فلأبن سعد عن عمرو ابن دینار و عبید اللہ ابن ابی زید قالا لم يكن على عهد النبي صلی اللہ علیہ وسلم على بيت النبي صلی اللہ علیہ وسلم حائط فكان أوّل من بنى عليه جدارا عمر بن الخطاب رضي اللہ عنه قال عبيد اللہ بن أبي زيد كان جداره قصيرا ثم بناه عبد اللہ بن الزبير، وقال الحسن البصري كنت أدخل بيوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأنا غلام مراهق وأنال السقف بيدي وكان لكل بيت حجرة وكانت حجره من الکعسۃ من سعیر مربوطتہ فی خشب عرعرۃ“ یعنی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کی بیرونی دیوارکچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی اور اس میں کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا ایک حجرہ تھا جسے بالوں سے بنے ہوئے پردوں سے ڈھانپا گیا تھا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کھجور کی شاخوں کی جگہ ایک دیوار بنوا دی تھی۔ چنانچہ ابن سعد سے مروی ہے کہ عمرو بن دینار اور عبید اللہ بن ابو زید رَضِیَ اللہ عَنْہمَا بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں آپ کے حجرے کے گرد اینٹوں کی کوئی دیوار نہ تھی، سب سے پہلے حضرت عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے اس کے گرد دیوار بنوائی۔ حضرت عبید اللہ کہتے ہیں کہ وہ دیوار ابتدا میں چھوٹی تھی، پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے بلند کر کے دوبارہ تعمیر کیا۔ حضرت حسن بصری رَحِمَہُ اللہ فرماتے ہیں: میں لڑکپن کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل ہوتا تھا اور میں اپنا ہاتھ اٹھا کر چھت کو چھو لیتا تھا۔ ہر گھر کے ساتھ ایک حجرہ تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے بھی اسی طرح تھے۔ ( خلاصۃ الوفاء، فصل العاشر، جلد 2، صفحہ 125، شاملہ)
صحیح بخاری میں ہے: ”لما سقط عليهم الحائط في زمان الوليد بن عبد الملك، أخذوا في بنائه، فبدت لهم قدم، ففزعوا، وظنوا أنها قدم النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فما وجدوا أحدا يعلم ذلك، حتى قال لهم عروة: لا واللہ، ما هي قدم النبي صلی اللہ علیہ وسلم، ما هي إلا قدم عمر رضي اللہ عنه“ یعنی: ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کی ایک دیوار گر گئی، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس کو بنانے میں مشغول ہوئے، تو ایک قدم ظاہر ہوگیا، لوگ گھبرا گئے اور سمجھے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے، تو حضرت عروہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم نہیں ہے، بلکہ یہ تو حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا قدم ہے۔ ( صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 468، مطبوعہ دمشق)
(4) : حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ولید بن عبدالملک کے کہنے پر روضۂ انور کی سابقہ تعمیر کو شہید کر کے منقش پتھروں سے چاروں طرف دیوار بنواد ی اور کوئی دروازہ نہیں چھوڑا۔ پھر 550ھ میں جمال الدین اصفہانی رَحِمَہُ اللہنے علمائے کرام کی موجودگی میں اس دیوار کے آس پاس صندل کی لکڑی کی جالی بنائی۔ اور 678ھ میں سلطان قلاؤں صالحی رَحِمَہُ اللہنے سبز گنبد شریف کی تعمیر کی جو آج تک موجود ہے۔ روضۂ اقدس پر گنبد اور دیگر تعمیرات کی تفصیلات محقق علی الاطلاق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1052 ھ) نے ”جذب القلوب“ میں بیان کی ہیں۔ ( ملخصاً جذب القلوب الی دیار المحبوب مترجم، صفحہ 158 تا 160، مطبوعہ شبیر برادرز)
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ روضۂ مطہرہ پر مختلف ادوار میں مختلف طرح کی تعمیرات ہوئیں اور ان میں سے کچھ خلیفۂ راشد حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کروائیں، کچھ دیگر صحابہ کرام نے اور کچھ تعمیرات صحابہ و تابعینِ عظام کی موجودگی میں ہوئیں، اگر یہ سب ناجائز اور احادیثِ طیبہ کے خلاف ہوتا، تو یہ حضرات کبھی بھی ایسا نہ کرتے اور نہ ہی دوسروں کو کرنے دیتے، لیکن کسی نے بھی اس سے منع نہ کیا، بلکہ خود اس کارِ ثواب کام میں حصہ لیا، جو اس کے جواز و مستحسن عمل ہونے کی واضح دلیل ہے۔
اشکال : اگر یہ کہا جائے کہ روضۂ انور پر قبہ و گنبد وغیرہ بنانا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے، لہٰذا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔
اس کے چند جوابات ہیں:
(1): منکرین کا تو سرے سے یہ نظریہ ہی نہیں کہ قبہ بنانے کے معاملے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے، کیونکہ ان کے بعض بڑے بدبختوں نے تو لکھا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گنبد شریف کو بھی گرانا واجب ہے، معاذاللہ ثم معاذاللہ۔ لہٰذا یہاں خصوصیت کہہ کر جان چھڑانا بے اثر ہے۔
(2): نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گنبد شریف کی خصوصیت کس قرآنی آیت، حدیثِ پاک یا روایت میں بیان ہوئی ہے ؟
(3): اگر یہ خصوصیت تھی، تو روضۂ انور میں حضرت صدیق اکبر اور فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عَنْہمَا کی تدفین نہیں ہونی چاہیے تھی، کیونکہ ان کی تو تخصیص نہیں تھی لیکن سب کو قطعی طور پر معلوم ہے کہ ان حضرات کی تدفین بھی ہوئی اور قربِ قیامت میں حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلام بھی دفن ہوں گے، لہٰذا روضۂ اقدس پر قبہ وغیرہ کی تعمیرات کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت قرار دینا درست نہیں، بلکہ تمام صالحین کی قبور پر قبہ بنانا، جائز ہے۔
(5): صحیح بخاری میں ہے: ”ولما مات الحسن بن الحسن بن علي رضي اللہ عنهم، ضربت امرأته القبة على قبره سنة“ یعنی: حضرت امام حسن بن حسن بن علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا انتقال ہوا، تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا۔ ( صحیح بخاری ، جلد 1 ، صفحہ 446 ، مطبوعہ دمشق )
مذکورہ بالا حدیثِ پاک کے تحت معروف محدث علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں: ”الظاهر أنه لاجتماع الأحباب للذكر، والقراءة، وحضور الأصحاب للدعاء والمغفرة والرحمة، وأما جعل فعلها على العبث المكروه كما فعله ابن حجر فغير لائق بصنيع أهل البيت“ یعنی: ظاہر یہی ہے کہ یہ قبہ اس لیے تھا تاکہ احباب جمع ہو کر ذکر اور تلاوتِ قرآن کر سکیں، نیز دوست احباب آ کر دعائے رحمت و مغفرت کر سکیں۔ اور اس عمل کو فضول اور مکروہ قرار دینا، جیسا کہ علامہ ابن حجر نے کہا، یہ اہلِ بیت اطہار کی شان کے لحاظ سے ہرگز مناسب نہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 1249، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
(6): حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت زینب بنت حجش رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی قبرِ مبارک پر قبہ بنایا۔
( 7 ) : حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْھَا نے اپنے بھائی حضرت عبد الرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر پر قبہ بنایا۔
( 8 ) : حضرت محمد بن حنفیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جو مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ وَجْھَہٗ الْکَرِیْم کے بیٹے ہیں، آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد ان کی قبر پر قبہ بنایا۔
چنانچہ ان سب کے متعلق علامہ ابنِ بطال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 449 ھ) ”شرح صحیح بخاری“ میں، علامہ الباجی اندلسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 474 ھ) ” المنتقیٰ شرح المؤطا“ میں، قاضی محمد بن ابو بکر مالکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ( سالِ وفات: 543 ھ) ”المسالک فی شرح المؤطا مالک“ میں اور علامہ بدر الدین عینی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855 ھ) ”عمدۃ القاری“ میں لکھتے ہیں، واللفظ للثانی: ”وقد ضربه عمر على قبر زينب بنت جحش . . . وضربته عائشة على قبر أخيها عبد الرحمن وضربه محمد بن الحنفية على قبر ابن عباس وانما کرھہ لمن ضربہ علی وجہ السمعۃ والمباھات“ یعنی: حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت زینب بنت حجش کی قبر پر قبہ بنایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا نے اپنے بھائی عبد الرحمٰن کی قبر پر قبہ بنایا۔ حضرت محمد بن حنفیہ (ابن علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا ) نے عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا کی قبر پر قبہ بنایا۔ اور جس نے قبہ بنانے کو مکروہ کہا ، تو وہ اس کے لیے ہے جو فخر وریا کے لیے ایسا کرے ۔ ( المنتقیٰ، جلد 2، صفحہ 23، مطبوعہ مصر)
روایات میں بیان کردہ تمام واقعات صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے زمانہ میں ان حضرات کی موجودگی میں ہوئے، کسی نے انکار نہ کیا۔ نیز حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ ایک سال تک ان کے مزار پر قبہ بنا کر رہیں، پھر گھر واپس آئیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا۔ لیکن کسی صحابی نے منع نہ کیا۔ معلوم ہوا کہ صالحین کے مزارات پر بغرضِ حسن قبہ وغیرہ بنانا، نہ صرف جائز، بلکہ مستحسن اور سنتِ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہے۔
ائمہ واسلاف کے اقوال سے ثبوت :
ائمہ دین، مفسرین، محدثین اور سلف صالحین ہر دور میں مزاراتِ صالحین پر قبہ اور عمارت تعمیر کرنے کا جواز و استحسان بیان بھی کرتے آئے ہیں، بلکہ غور کیا جائے، تو پوری دنیا میں انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلام اور اولیائے کرام کے مزارات موجود ہیں، ہر جگہ ان مزارات پر گنبد اور عمارت کی تعمیر نظر آتی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صدیوں سے صالحین اس عمل کو نہ صرف جائز سمجھتے تھے، بلکہ اسے اہل اللہ کی تعظیم کا ذریعہ بھی سمجھتے تھے، چند عباراتِ ائمہ ملاحظہ کیجیے۔
صالحین کے مزارات پر گنبد بنانے سے مقصود ان اہل اللہ کی تعظیم کا اظہار ہو تا ہے، لہٰذا اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ، جیسا کہ قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ ﴿اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ﴾ کے تحت علامہ اسمٰعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 1127ھ) لکھتے ہیں: ”فبناء القباب على قبور العلماء والأولياء والصلحاء ووضع الستور والعمائم والثياب على قبورهم امر جائز إذا كان القصد بذلك التعظيم فى أعين العامة حتى لا يحتقروا صاحب هذا القبر“ ترجمہ: علماء، اولیاء اور صالحین کی قبروں پر قبے بنانا اور ان کی قبروں پر چادریں، عمامے اور کپڑے رکھنا جائز ہے، جبکہ اس سے مقصود عوام الناس کی نگاہوں میں ان کی تعظیم کا اظہار ہو تاکہ وہ اس صاحب قبر کو کم تر نہ سمجھیں۔ (روح البیان، جلد 3، صفحہ 400، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مرقاۃ المفاتیح میں لکھتے ہیں: ”إذا كانت الخيمة لفائدة مثل أن يقعد القراء تحتها فلا تكون منهية . . . قد اباح السلف البناء علی قبور المشائخ والعلماء المشھورین لیزورھم الناس ویستریحوا بالجلوس“ یعنی: قبر پر خیمہ وغیرہ اگر اس طور پر لگایا جائے تاکہ اس کے نیچے بیٹھ کر با آسانی تلاوت وغیرہ کی جاس کے، تو یہ ممنوع نہیں ہے۔ سلف صالحین نے مشائخ اور معروف علمائے کرام کی قبروں پر عمارت بنانے کو جائز قرار دیا ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کریں اور وہاں بیٹھ کر آرام پائیں۔ ( مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 1217، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
مزاراتِ صالحین پر گنبد بنانا اسلام کی شان و شوکت میں اضافہ کا ذریعہ ہے، جیسا کہ محقق علی الاطلاق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1052 ھ) لکھتے ہیں: ”در آخر زمان بجہت اقصار نظر عوام بر ظاہر مصلحت در تعمیر ترویج مشاہد و مقابر مشائخ و عظماء زیدہ چیزہا افزوند تاآنجابیت و شوکت اسلام و اہل صلاح پیدا آید خصوصاً درد یار ہند کہ اعدائے دین از ہنود و کفار بسیاراند۔ وترویج اعلاء شان ایں مقامات باعث رعب و انقیا داایشاں است و بسیار اعمال و افعال وادضاع کہ در زمان سلف از مکروہات بودہ انددر آخر زمان از مستحسنات گشتہ“ یعنی: آخری زمانے میں چونکہ عام لوگ محض ظاہر بین رہ گئے، اس لیے مشائخ اور بزرگوں کے مزارات و مقابر کی تعمیر، ترویج اور شان و شوکت قائم کرنے میں بہت سی ایسی چیزوں کا اضافہ کیا گیا ہے جن سے دینِ اسلام اور نیک لوگوں کی ہیبت و شوکت ظاہر ہو۔ خصوصاً سرزمینِ ہند میں، جہاں ہندوؤں اور دیگر کفار کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان مقامات کی ترویج اور ان کی شان و عظمت کو بلند کرنا، دشمنوں کے دلوں میں رعب پیدا کرنے اور انہیں اسلام کے سامنے جھکانے کا سبب ہے ۔ اور بہت سے ایسے اعمال، افعال اور طور طریقے جو زمانۂ سلف میں مکروہ سمجھے جاتے تھے، آخری زمانے میں (حالات کی تبدیلی اور مصلحت کی وجہ سے) مستحسن اور پسندیدہ قرار پائے ہیں ۔ (شرح سفر السعادۃ، صفحہ 273، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر)
علامہ عبدالغنی نابلسی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1143ھ/ 1730ء) لکھتے ہیں: ” قال تعالى: ﴿وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ ﴾ وشعائر اللہ هي الأشياء التي تشعر أي تعلم به تعالى كالعلماء والصالحين أحياء وأمواتا ونحوهم. ومن تعظيمهم بناء القباب على قبورهم وعمل التوابيت لهم من الخشب حتى لا تحتقرهم العامة من الناس، وإن كان ذلك بدعة فهي بدعة حسنة، كما قال الفقهاء في تكبير العمائم وتوسيع الثياب للعلماء، أنه جائز حتى لا تستخف بهم العامة ويحترمونهم. وإن كان ذلك بدعة لم يكن عليها السلف. . . حتى قال في جامع الفتاوى في البناء على القبر: وقيل لا يكره إذا كان الميت من المشايخ والعلماء والسادات “ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے) اور اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ اشیاء ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم حاصل ہوتا ہے جیسا کہ علماء اور صالحین چاہے زندہ ہو ں یا وفات پا چکے ہوں اور انہی کی مثل، اور ان کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ ان کی قبور پر قبے بنائے جائیں اور اعلیٰ قسم کی لکڑی کے تابوت بنائے جائیں، تا کہ عوام الناس ان کو بے ادبی کی نگاہ سے نہ دیکھیں، اگرچہ یہ بدعت ہے لیکن بدعت حسنہ ہے، جیسا کہ فقہاء نے علماء کے لئے بڑے عماموں و وسیع کپڑوں کے متعلق فرمایا کہ یہ جائز ہے تاکہ عوام الناس کے نزدیک ان کی قدر ومنزلت کم نہ ہو۔ اگرچہ یہ بدعت ہے کہ سلف نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا، حتی کہ قبر پر قبہ بنانے کے متعلق جامع الفتاوی میں فرمایا: کہا گیا ہے کہ جب میت، مشائخ، علماء اور سادات میں سےکسی کی ہو تو اس کی قبر پر قبہ بنانا مکروہ نہیں۔ ( کشف النور عن اصحاب القبور، صفحہ 44، مطبوعہ دار الآثار الاسلامیہ)
علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں : ”(ولا يطين، ولا يرفع عليه بناء. وقيل: لا بأس به، وهو المختار) كما في كراهة السراجية“ یعنی: اور قبر کو پکا نہ کیا جائے اور نہ ہی اس پر کوئی عمارت بلند کی جائے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور یہی قول مختار ہے، جیسا کہ سراجیۃ کے باب الکراہت میں ہے۔ (در مختار، جلد 3، صفحہ 170، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ ابن حجر ہیتمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 972ھ) ”فتاوی الفقهية الکبری“ اور علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) ” رد المحتار علی الدر المختار“ میں لکھتے ہیں، واللفظ للاوّل: ” لا یکرہ البناء اذا کان المیت من المشائخ والعلماء والسادات “ یعنی: اگر میت مشائخ، علماء اور سادات کرام میں سے ہو تو اس کی قبر پر عمارت بنانا مکروہ نہیں ہے۔ (الفتاویٰ الکبریٰ، جلد 2، صفحہ 17، مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ)
علامہ اَحمد طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ/1815ء) لکھتے ہیں: ”وقد اعتاد أهل مصر وضع الأحجار حفظا للقبور عن الإندارس والنبش ولا بأس به وفي الدر ولا يجصص ولا يطين ولا يرفع عليه بناء وقيل لا بأس به هو المختار“ یعنی: اور اہلِ مصر کا معمول ہے کہ وہ قبروں پر پتھر رکھتے ہیں، تاکہ قبریں مٹنے اور اکھاڑے جانے سے محفوظ رہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور در مختار میں ہے: قبر کو پختہ نہ کیا جائے اور نہ اس پر چونا کیا جائے، اور نہ اس پر کوئی عمارت بلند کی جائے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، اور یہی قول مختار ہے۔ ( حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی ، صفحہ 611 ، مطبوعہ بیروت )
امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ/1921ء) ”جواہر اخلاطی“ کے حوالے سےنقل کرتے ہیں: ”ھو وان کان احداثا فھو بدعۃ حسنۃ وکم من شیئ کان احداثاً وھو بدعۃ حسنۃ وکم من شیئ یختلف باختلاف الزمان والمکان یعنی: یہ اگر چہ نئی چیز ہے، پھر بھی بدعت حسنہ ہے اور بہت سی چیزیں ہیں کہ نئی پیدا ہوئیں اور ہیں اچھی بدعت، اور بہت احکام ہیں کہ زمانے یا مقام کی تبدیلی سے بدل جاتے ہیں۔
مزید لکھتے ہیں:”کیا ائمہ دین نے نظر بحال زمانہ جو حکم فرمایا، اُسے حدیث کی مخالفت کہا جائے گا؟ حاش ﷲ ! ایسا نہ کہے گا مگر احمق، کج فہم، یوں ہی یہ تازہ تعظیموں کے احکام ہیں۔ سلف صالحین کے قلوب تعظیم شعائرا ﷲ سے مملو تھے۔ ظاہری تزک و احتشام کے محتاج نہ تھے، تو ان کے وقت میں یہ باتیں عبث و بے فائدہ تھیں اور ہر عبث مکروہ۔ اور اس میں مال صَرف کرنا ممنوع، اب کہ بے تزک و احتشام ظاہری قلوب عوام میں وقعت نہیں آتی، ان باتوں کی حاجت ہوئی۔ “ ( فتاوٰی رضویہ، جلد 09، صفحۃ 494 تا 495، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور )
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10127
تاریخ اجراء: 29 صفر المظفر 1448ھ/13 اگست 2026ء