logo logo
AI Search

مزار پر دِیا جلانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

درگاہوں پر دِیا جلانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اکثر درگاہوں میں پہلے لوگ روشنی کے لیے دیا جلاتے تھے، ابھی لائٹ کی سویتا ہے، لوگوں میں یہ رواج ہو گیا ہے کہ کھانے کے تیل یا گھی کا دیا جلاتے ہیں، ایسا کرنا کیسا ہے؟

جواب

مزارات اولیاء پر حاضری دینے ولے زائرین کے نفع کے لیے جہاں ضرورت ہو، وہاں ضرورت کے مطابق چراغ جلانا جائز ہے، اور جہاں برقی روشنی وغیرہ کے سبب اس کی ضرورت نہ ہو، وہاں پر بلا ضرورت و مصلحت چراغ جلانا، یا ضرورت کی جگہ ضرورت سے زیادہ چراغ جلانا، اسراف اور مال ضائع کرنا ہے، جو ناجائز و گناہ ہے، ایسے ہی جب عام مٹی کے تیل کا چراغ جلایا جا سکتا ہو، تو بلا عذر شرعی وہاں کھانے کے تیل یا گھی کا چراغ جلانا جائز نہیں۔

فتاوی رضویہ میں ہے "مزار اولیاء پر نفع رسانی زائرین حاضرین کے لیے شامیانہ کھڑا کرنا، یونہی ان کے نفع کو چراغ جلانا اور عرس کہ منہیات شرعیہ سے خالی ہو اور شیرینی پر ایصال ثواب، یہ سب جائز ہیں۔ اور نزد قبر رکھنے کی ضرورت نہیں، نہ اس میں جرم جبکہ لازم نہ جانے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 600، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا: "چہ می فرمایند علمائے اکمل الکاملین شریعت و مفتیان افضل الفضلاء طریقت دریں مسئلہ کہ درماہ رمضان المبارک کہ شب بست وہفتم مساجد را بقنادیل وبہ تقریب جلسہ مولد شریف مکان را منقش و آلات بلادتصویر وفانوس وغیرہ منور سازند سوائے مال وقف وبرا عراس خانقاہ بزرگان دین ومزار نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بروشنی روشن نمایند درست ست یا حرام، بیان فرمایند بسند عبارت کتب رحمۃ اللہ علیہم اجمعین" ترجمہ: کیا فرماتے ہیں علماء کاملین علماء شریعت اور فاضلین مفتیان طریقت اس مسئلہ میں کہ لوگوں کا ستائیسویں شب رمضان کے موقع پر مساجد کو آراستہ کرنا روشنیوں کا خصوصی اہتمام کرنا میلاد شریف کی تقریبات کے لئے مکانات کو سجانا، فانوس اور پھول وغیرہ لگانا، بزرگان دین کے سالانہ عرسوں میں خانقاہوں پر اور آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مزار پر انوار پر اس قسم کا بندوبست کرنا سوائے مال وقف کے درست ہے یا حرام؟ بحوالہ کتب مدلل جواب مرحمت فرمایا جائے۔ اللہ تعالٰی سب پر رحمت فرمائے۔

آپ علیہ الرحمۃ نے جوابا ارشاد فرمایا: "تزیین مذکور شرعا جائز ست قال تعالٰی ﴿قل من حرم زینۃ ﷲ التی اخرج لعبادہ﴾ ہمچناں روشنی بقدر حاجت و مصلحت نیز وحاجت باختلاف ضیق وسعت مکان وقلت وکثرت مردمان ووحدت و تعدد منازل وغیر ذٰلک مختلف گردد در منزلے تنگ ومجمع قلیل دوسہ چراغ باہمیں یکے بسند ست ودردار وسیع ومجمع کثیر و منازل عدیدہ حاجت تا بدہ وبست و بیشر می رسد۔۔۔۔۔۔۔ آرے روشنی لغو وفضول را چنانکہ بعضے مردمان شب ختم قرآن یا در بعض اعراس بزرگان کنند کہ صدہا چراغ بترتیب عجیب ووضع غریب زیر وبالا برابر نہند درکتب فقہیہ ہمچو غمزالعیون وغیرہ بنظر اسراف منع فرمودہ اند وشک نیست کہ جائیکہ اسراف صادق ست اجتناب قطعا لازم ولائق است۔ وﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم" ترجمہ: مذکورہ زیب و زینت شرعا جائز ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے فرمادیجئے کہ اس زینت و زیبائش کو کس نے حرام ٹھہرادیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے ظاہر فرمائی ہے۔ اسی طرح ضرورت اور مصلحت کے مطابق روشنی کا انتظام کرنا بھی جائز ہے (مختلف حالات کے لحاظ سے ضرورت بدلتی رہتی ہے) مثلا مکان کی تنگی اور کشادگی۔ لوگوں کی قلت و کثرت، منازل کی وحدت و تعدد وغیرہ ان صورتوں میں ضرورت اور حاجت میں تبدیل آجاتی ہے۔ تنگ منزل اور تھوڑے مجمع میں دو تین چراغ بلکہ ایک بھی کافی ہوتا ہے۔ کشادہ اور بڑے گھر زیادہ لوگوں اور متعدد منزلوں کے لئے دس بیس بلکہ ان سے بھی زیادہ کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ البتہ! روشنی کا بے فائدہ اور فضول استعمال جیسا کہ بعض لوگ ختم قرآن والی رات یا بزرگوں کے عرسوں کے مواقع پر کرتے ہیں سیکڑوں چراغ عجیب و غریب وضع و ترتیب کے ساتھ اوپر نیچے اور باہم برابر طریقوں سے رکھتے ہیں محل نظر ہے اور اسراف کے زمرے میں آتا ہے۔ چنانچہ فقہائے کرام نے کتب فقہ مثلا غمز العیون وغیرہ میں اسراف (فضول خرچی) کی بنا پر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں اسراف صادق آئے گا وہاں پرہیز ضروری ہے۔ اللہ تعالی پاک۔ برتر اور خوب جاننے والا ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 257 تا 259، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ایک سوال ہوا کہ "مٹی کے چراغ میں گھی ڈال کر جلانا چاہئے یا نہیں؟ آٹے کے چراغ میں گھی ڈال کر جلا کر کھانا یا ملیدہ کے اوپر رکھ کر فاتحہ دینا چاہئے یا نہیں؟" اس کے جواب میں فرمایا: " بلا ضرورت گھی جلانا اسراف ہے اور اسراف حرام ہے۔ اور فاتحہ و قرآن خوانی اور درود خوانی کے لئے اگر چراغ کے قرب کی حاجت ہو اور اس خیال سے کہ تیل میں کبھی بد بوُ آتی ہے گھی سے چراغ روشن کرے اور اس لحاظ سے کہ استعمال چراغ صاف نہیں ہوتا اور کورے میں جلائیں تو گھی پئے گا اور بےکار جائے گا لہٰذا آٹے کا چراغ بنائیں کہ آٹے پئے تو اس کی روٹی پک سکتی ہے، تو اس میں حرج نہیں، مگریہ عادت کرلینی کہ بلا ضرورت بھی فاتحہ کے لیے گھی جلائیں وہی اسراف و حرام ہے، اور وہ صورتِ جواز جو ہم نے لکھی اس میں بھی وہ چراغ کھانے کے اوپر نہ رکھا جائے بلکہ کھانے سے الگ۔" (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 616، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5334

تاریخ اجراء: 14 ربیع الاول 1448ھ/28 اگست 2026ء