logo logo
AI Search

بدنی عبادات کا ایصال ثواب کرنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نماز روزہ اور ذکر و اذکار کا ایصال ثواب کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ گردش کر رہا ہے، جس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ایصال ثواب صرف مالی عبادات (صدقہ و خیرات، وغیرہ) کا ہو سکتا ہے، باقی رہا بدنی عبادات (نماز و روزہ اور ذکر و اذکار، وغیرہ ) کا معاملہ، تو ان کا ثواب کسی کو ایصال نہیں کر سکتے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا واقعی یہ بات درست ہے ؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ بات درست نہیں۔ درست مسئلہ یہ ہے کہ عبادات مالیہ (صدقہ و خیرات) کی طرح عبادات بدنیہ (نماز و روزہ وغیرہ) کا ثواب بھی دوسروں کو ایصال کیا جا سکتا ہے اور اس کا ثبوت احادیث سے ہے۔ چند احادیث اور اس حوالہ سے علماء کا کلام درج ذیل ہے:

عباداتِ بدنیہ کا ثواب دوسروں کو پہنچا سکتے ہیں، اس پر احادیث:

٭ نماز ايك بدنی عبادت ہے اور اس کا ثواب دوسرے کو پہنچانا حدیثِ پاک سے ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حج کو جانے والوں سے فرمایا: ”من يضمن لي منكم ان يصلي لي في مسجد العشار ركعتين، او اربعا، ويقول هذه لابي هريرة“ ترجمہ: تم میں سے کون مجھے اس چیز کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ مسجد عشار میں میرے لئے دو یا چار رکعت پڑھ کر یہ کہے کہ یہ (اس کا ثواب) ابو ہریرہ کے لیے ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب فی ذکر البصرۃ، ج 4، ص 113، رقم الحدیث: 4308، مکتبۃ العصریہ، بیروت)

اس حدیث پاک کی شرح میں علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ (سال وفات: 1014ھ) لکھتے ہیں: ”والمعنى: من يتقبل ويتكفل لي اي: لاجلي منكم ان يصلي لي اي: بنيتي في مسجد العشار۔۔ فإن قيل: الصلاة عبادة بدنية ولا تقبل النيابة، فما معنى قول ابي هريرة؟ قلنا:۔۔ معناه: ثواب هذه الصلاة لابي هريرة، ۔۔ وقال علماؤنا: الاصل في الحج عن الغير ان الانسان له ان يجعل ثواب عمله لغيره من الاموات والاحياء، حجا او صلاة، او صوما او صدقة، او غيرها كتلاوة القران والاذكار، فإذا فعل شيئا من هذا، وجعل ثوابه لغيره جاز، ويصل اليه عند اهل السنة والجماعة“

ترجمہ: اور اس کا معنی یہ ہے: تم میں سے کون شخص میرے لیے، یعنی میری خاطر، ذمہ لے گا کہ وہ میری نیت کے ساتھ مسجدِ عشار میں نماز پڑھے گا۔ پس اگر کہا جائے کہ نماز تو بدنی عبادت ہے اور اس میں نیابت قبول نہیں ہوتی، تو پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کا کیا مطلب ہے؟ ہم نے کہا۔۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نماز کا ثواب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہو۔ اور ہمارے علماء نے فرمایا: دوسروں کی طرف سے حج کرنے کی اصل یہ ہے کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے عمل کا ثواب دوسروں کو بخش دے، خواہ وہ مردے ہوں یا زندہ۔ حج ہو یا نماز، روزہ ہو یا صدقہ، یا اس کے علاوہ تلاوتِ قرآن اور اذکار وغیرہ۔ پس جب کوئی شخص ان میں سے کوئی کام کرے اور اس کا ثواب کسی اور کو بخش دے تو یہ جائز ہے، اور اہلِ سنت وجماعت کے نزدیک وہ ثواب اس تک پہنچ جاتا ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 8، ص 3424، دار الفکر بیروت، ملتقطاً)

٭ نماز كی طرح تلاوتِ قرآن بھی ایک بدنی عبادت ہے، جس کا ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس بارے میں شعب الایمان کی روایت ہے: ”اذا مات احدكم فلا تحبسوه، واسرعوا به الى قبره، وليقرأ عند راسه فاتحة الكتاب، وعند رجليه بخاتمة البقرة في قبره“ ترجمہ: جب تم میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو اسے مت روکو، اور جلدی سے اسے اس کی قبر تک لے جاؤ۔ اور قبر میں اتارنے کے بعد اس کے سر کے پاس سورۃ الفاتحہ پڑھو، اور اس کے پاؤں کی طرف سورۃ البقرہ کی آخری آیات پڑھو۔ (شعب الایمان، ج 11، ص 472، رقم الحدیث 8854، مطبوعہ ریاض)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ (سال وفات: 1014ھ) نے درج ذیل کلام کیا ہے: ”واخرج ابو القاسم ۔۔عن ابي هريرة قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: من دخل المقابر ثم قرا فاتحة الكتاب وقل هو اللہ احد، والهاكم التكاثر. ثم قال: اني جعلت ثواب ما قرأت من كلامك لاهل المقابر من المؤمنين والمؤمنات، كانوا شفعاء له الى اللہ تعالى۔۔ واخرج عبد العزيز صاحب الخلال بسنده عن انس: ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: من دخل المقابر فقرأ سورة يس خف اللہ عنهم، وكان له بعدد من فيها حسنات۔۔ اختلف في وصول ثواب القران للميت، فجمهور السلف والائمة الثلاثة على الوصول۔۔ واستدلوا على الوصول بالقياس على الدعاء والصدقة والصوم والحج والعتق، فإنه لا فرق في نقل الثواب بين ان يكون عن حج او صدقة، او وقف او دعاء، او قراءة، وبالاحاديث المذكورة، وهي وان كانت ضعيفة فمجموعها يدل على ان لذلك اصلا، وان المسلمين ما زالوا في كل مصر وعصر يجتمعون ويقرءون لموتاهم من غير نكير، فكان ذلك اجماعا، ذكر ذلك كله الحافظ شمس الدين بن عبد الواحد المقدسي الحنبلي في جزء الفه في المسألة، ثم قال السيوطي: واما القراءة على القبر فجوز بمشروعيتها اصحابنا وغيرهم“

ترجمہ: اور ابو محمد سمرقندی رحمہ اللہ نے "فضائل قل ھو اللہ احد" میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے: جو شخص قبرستان سے گزرے اور گیارہ مرتبہ ﴿قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو بخش دے، تو اسے مردوں کی تعداد کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ اور ابو القاسم رحمہ اللہ نے (اپنی کتاب میں) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں داخل ہو پھر سورۃفاتحہ، سورۃ اخلاص اور "سورۃ التکاثر" پڑھے، پھر کہے: اے اللہ! میں نے تیرے کلام میں سے جو کچھ پڑھا اس کا ثواب مومنین اور مومنات اہلِ قبور کو بخش دیا، تو وہ سب اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارشی بن جائیں گے۔۔اور عبد العزیز صاحب الخلال رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں داخل ہو کر سورۃ یٰسین پڑھے تو اللہ تعالیٰ ان سے عذاب ہلکا کر دیتا ہے، اور پڑھنے والے کو وہاں جتنے لوگ دفن ہیں ان کی تعداد کے برابر نیکیاں ملتی ہیں۔۔ میت کو قرآن کا ثواب پہنچنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ پس اسلاف میں سے جمہور اور تینوں ائمہ کے نزدیک یہ ثواب میت کو پہنچ جاتا ہے۔۔ اور ثواب کے پہنچنے پر انہوں نے دعا، صدقہ، روزہ، حج اور غلام آزاد کرنے پر قیاس کر کے بھی دلیل قائم فرمائی، کیونکہ ثواب کی منتقلی میں فرق نہیں کہ وہ حج سے ہو یا صدقہ سے، یا وقف سے یا دعا سے یا قراءت سے۔ اور مذکورہ احادیث سے بھی، اور اگرچہ یہ احادیث ضعیف ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کی اصل موجود ہے۔ اور یہ کہ مسلمان ہر شہر اور ہر زمانے میں اپنے مردوں کے لیے جمع ہو کر پڑھتے رہے ہیں بغیر کسی انکار کے، پس یہ اجماع بن گیا۔ یہ سب کچھ حافظ شمس الدین بن عبد الواحد مقدسی حنبلی رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر لکھی ہوئی اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ پھر امام سیوطی رحمہ اللہ نے فرمایا: رہا قبر پر قراءت کا مسئلہ تو ہمارے اصحاب اور دوسروں نے اس کی مشروعیت کو جائز قرار دیا ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 3، ص 1228 تا 1229، دار الفكر، بيروت، لبنان، ملتقطاً)

٭ بدنی عبادات میں سے تلاوتِ قرآن ہی کے ایصال ثواب کے متعلق امام جلال الدين سيوطی رحمہ اللہ (سال وفات: 911ھ) اپنی کتاب جامع الاحادیث میں بحوالہ امام رافعی عن علی، روایت نقل فرماتے ہیں: ”من مر علی المقابر فقرأ فیھا ﴿قل ھو اللّٰہ احد﴾ إحدی عشرۃ مرۃ، ثم وھب أجرہ الأموات، أعطی من الأجر بعدد الأموات“ ترجمہ: جو شخص قبرستان سے گزرے اور وہاں گیارہ مرتبہ ﴿قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ پڑھے، پھر اس کا ثواب مُردوں کو ایصال کر دے، تو اسے وہاں مدفون تمام مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا۔ (جامع الاحادیث للسیوطی، ج 21، ص 439، رقم الحدیث: 23962، مطبوعہ مصر)

عباداتِ بدنیہ کے ایصال ثواب سے متعلق علماء کا کلام:

دعا کا نفع اور ثواب مُردوں کو پہنچتا ہے۔ چنانچہ علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”اجمع العلماء على ان الدعاء ينفعهم ويصلهم ثوابه“ ترجمہ: علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ دعا مُردوں کو نفع دیتی ہے اور اس کا ثواب ان تک پہنچتا ہے۔ (عمدة القاري، ج 3، ص 119، دار احياء التراث العربي، بيروت)

ایصال ثواب کے حوالے سے حجۃ الاسلام امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی رحمہ اللہ (سال وفات: 505ھ/1111ء) فرماتے ہیں: ”وقال محمد بن احمد المروزى سمعت احمد بن حنبل يقول: اذا دخلتم المقابر فاقرءوا بفاتحة الكتاب والمعوذتين وقل هو الله احد، واجعلوا ثواب ذلك لاهل المقابر، فإنه يصل اليهم“ ترجمہ: اور محمد بن احمد مروزی رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم قبرستان میں داخل ہو تو سورۃ فاتحہ، معوذتین اور سورۃ اخلاص پڑھو، اور اس کا ثواب اہلِ قبور کو بخش دو، بے شک وہ ان تک پہنچ جاتا ہے۔ (احياء العلوم، ج 4، ص 492، دار المعرفه بيروت)

المسلک المتقسط میں ہے: ”یقرأ ما تیسر من الفاتحۃ و الاخلاص سبعا أو ثلثا ثم یقول: اللھم اوصل ثواب ما قرأناہ إلی فلان أو إلیھم“ ترجمہ: سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص سات بار یا تین بار جو آسان ہو، پڑھے اور کہے: اے اللہ! ہمارے اس پڑھے کا ثواب فلاں کو یا ان سب کو پہنچا۔ (المسلک المتقسط مع ارشاد الساری، فصل یستحب زیارۃ اھل المعلیٰ، ص 334، دار الکتاب العربیہ بیروت)

عبادات کی تمام اقسام (بدنی، مالی اور ان دونوں سے مرکب) کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ عامہ کتب فقہ؛ فتاویٰ عالمگیری، رد المحتار، البحر الرائق اور البنایہ شرح الہدایہ وغیرہ میں ہے: و اللفظ للآخر ”ان الانسان له ان يجعل ثواب عمله لغيره ... يعني سواء كان جعل ثواب عمله لغيره صلاة او صوما او صدقة او غيرها كالحج وقراءة القران والاذكار وزيارة قبور الانبياء والشهداء والاولياء والصالحين وتكفين الموتى وجميع انواع البر والعبادة مالية كالزكاة والصدقة والعشور والكفارات ونحوها او بدنية كالصوم والصلاة والاعتكاف وقراءة القران والذكر والدعاء او مركبة منهما كالحج والجهاد“ ترجمہ: انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے اعمال کا ثواب دوسروں کو پہنچائے، یعنی نماز، روزہ، صدقہ اور ان کے علاوہ حج، قراءتِ قرآن، ذکر و اذکار، انبیاء، شہداء، اولیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت، مردوں کی تکفین الغرض ہر قسم کی نیکی اور عبادت، چاہے عبادت مالی ہو جیسے زکوٰۃ، صدقہ، عشر، کفارے وغیرہ یا عبادت بدنی ہو جیسے روزہ، نماز، اعتکاف، قراءتِ قرآن، ذکر، دعا یا عبادتِ بدنی اور مالی کا مجموعہ ہو جیسے حج اور جہاد ان تمام اعمال کا ثواب دوسرے کو پہنچانا، جائز ہے۔ (البنایہ شرح ھدایہ، ج 4، ص 466، مطبوعہ، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ملتقطاً)

احادیثِ مبارکہ اور جمہور اہلِ علم کے راجح و معتمد مذہب کے مطابق ایصالِ ثواب صرف مالی عبادات کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ مالی اور بدنی دونوں قسم کی عبادات کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”احادیثِ کثیرہ کی شہادت اور جمہور ائمہ کے جزم اور تصحیح سے ثابت ہے کہ ثواب پہنچنا صرف قربتِ مالی سے خاص نہیں، بلکہ مالی و بدنی دونوں کو عام ہے۔ یہی ائمہِ حنفیہ کا مذہب ہے، اور اسی پر بہت سے محققین شافعیہ بھی ہیں، اور اسی پر جمہور ہیں، اور یہی صحیح راجح اور نصرت یافتہ مسلک ہے۔ پھر بدنی اور مالی دونوں کو جمع کرنا، اس طرح کہ قرآن بھی پڑھیں، صدقہ بھی کریں، اور دونوں کا ثواب مسلمانوں کو پہنچائیں۔ یہ حَسن کو حَسن اور مندوب کو مندوب کے ساتھ یکجا کرنا ہی تو ہے۔ ہرگز ان دونوں میں کوئی منافات نہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 9، ص 570 تا 571، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ہر نیک عمل کے ایصال ثواب کے جواز کے متعلق صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء ) بہارِ شریعت میں ہے: ”ایصال ثواب یعنی قرآن مجید یا درود شریف یا کلمہ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے۔ عبادتِ مالیہ یا بدنیہ فرض و نفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے، زندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ کتب فقہ و عقائد میں اس کی تصریح مذکور ہے، ہدایہ اور شرح عقائد نسفی میں اس کا بیان موجود ہے۔“ (بھارِ شریعت، ج 3، ص 642، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ عبادت کی تینوں اقسام (بدنی، مالی اور بدنی و مالی کا مرکب) میں سے کسی بھی نیکی اور عبادت کا ثواب دوسرے مسلمان کو پہنچایا جا سکتا ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ پاک ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: GUJ-0163

تاریخ اجراء: 08 صفر المظفر 1448ھ/23 جولائی 2026ء