logo logo
AI Search

کیا کسی بزرگ کے وصال کے بعد ان سے بیعت ہو سکتی ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کسی بزرگ کے وصال کے بعد ان سے بیعت ہونا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

بیعت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پیر صاحب بقیدِ حیات ہوں، لہذا بعد وفات ان سے بیعت نہیں ہو سکتی، ہاں! ان کے اجازت یافتہ، جامع شرائط خلیفہ ہوں، تو ان کے ذریعے ان کے سلسلے میں بیعت کی جاسکتی ہے۔

فتاوی تاج الشریعہ میں سوال ہوا کہ کیا ایسے بزرگ سے جن کا وصال ہو چکا ہو، ان سے بیعت کی جا سکتی ہے؟ جوابا ارشاد فرمایا: ”بیعتِ معہودہ شیخ کی زندگی ہی میں ممکن ہے۔“ (فتاوی تاج الشریعہ، جلد 02، صفحہ 40، اکبر بک سیلرز، لاہور)

مزید اسی میں ہے ”کسی کو مرشد بنانے کے لئے اس کے ہاتھ پر بیعت ضروری ہے اور بیعت تو بہ کا اقرار ہے جو مرشد اپنے مرید سے کراتا ہے۔ اس کے لئے مرشد کا عالم ظاہری میں ہونا ضروری ہے۔“ (فتاوی تاج الشریعہ، جلد 02، صفحہ 42، اکبر بک سیلرز، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5318
تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول 1448ھ / 20 اگست 2026ء