logo logo
AI Search

قادری سلسلے کے مرید کا دوسرے سلسلے میں طالب ہونا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

قادری سلسلے والے کا کسی دوسرے سلسلے میں طالب ہونا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جی ہاں! اپنے شیخ کا مرید رہتے ہوئے، کسی بھی مستند سلسلہ کے جامع شرائط پیر سے طلب فیض کرسکتے ہیں، جسے ہماری اصطلاح میں طالب ہونا کہا جاتا ہے، اور اس دوسرے شیخ سے جو بھی فیضان حاصل ہو، وہ اپنے شیخ کا ہی فیض جانے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ! جو سب سے افضل سلسلے، سلسلسہ عالیہ، صحیحہ، متصلہ، قادریہ، طیبہ مبارکہ میں جامع شرائط پیرصاحب سے بیعت کاشرف حاصل کرچکا، اسے دوسری طرف اصلا توجہ و پریشان نظری نہیں کرنی چاہیے، حضرت عدی بن مسافر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ”میں کسی سلسلے کا آئے اس سے بیعت لے لیتا ہوں، سوا غلامانِ قادری کے کہ بحر کو چھوڑ کر نہر کی طرف کوئی نہیں آتا۔

اپنے پیر کا مرید رہتے ہوئے دوسرے پیر سے طالب ہونے کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”دوسرے جامعِ شرائط سے طلبِ فیض میں حرج نہیں اگرچہ وہ کسی سلسلۂ صریحہ کا ہو اور اس سے جو فیض حاصل ہو، اسے بھی اپنے شیخ ہی کا فیض جانے۔کما فی سبع سنابل مبارکۃ عن سلطان الاولیاء امام الحق و الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ(جیسا کہ سبع سنابل شریف میں سلطان الاولیاء امام الحق و الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے)۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 26، ص 579، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں ہے "جب افضل السلاسل سلسلہ علیہ، عالیہ، صحیحہ، متصلہ، قادریہ، طیبہ، مبارکہ میں شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پرفخرِ بیعت نصیب ہوچکاہے تو اسے دوسری طرف اصلاً توجہ و پریشا ں نظری ہی نہ چاہیے۔" (فتاوی رضویہ، ج 26، ص 557، 558، رضا فاؤنڈیشن، لاہور(

ملفوظات اعلی حضرت میں ہے ”عرض: کسی شیخ سے بیعت کر کے دوسرے سے رجوع کر سکتا ہے یا نہیں؟

ارشاد: اگر پہلے میں کچھ نقصان (کمی) ہو تو بیعت ہو سکتی ہے ورنہ نہیں، البتہ تجدید کر سکتا ہے۔ عدی بن مسافر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ”میں کسی سلسلے کا آئے اس سے بیعت لے لیتا ہوں، سوا غلامانِ قادری کے کہ بحر کو چھوڑ کر نہر کی طرف کوئی نہیں آتا۔"

(ملفوظات اعلی حضرت، حصہ دوم، ص 263، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5317
تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول 1448ھ / 20 اگست 2026ء