صدقے کے علاوہ ایصال ثواب کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
صدقے کے علاوہ دیگر اعمال کا ثواب ایصال کرنے کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
تمام نیک اعمال خواہ عبادات بدنیہ ہوں جیسے نماز، روزہ و تلاوتِ قرآن یاعبادات مالیہ ہوں جیسے زکوٰۃ وفطرہ وغیرہ۔ ان سب کا ثواب زندہ یا مردہ کسی بھی مسلمان کو پہنچانا، جائز و مستحسن ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ”انہ سأل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم فقال یا رسول اللہ اذا نتصدق عن موتانا و نحج عنھم ندعو لھم فھل یصل ذلک الیھم؟ قال نعم و یفرحون بہ کما یفرح احدکم بالطبق اذا اھدی الیہ۔“ یعنی انہوں نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم سے سوال کیا اے اللہ کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم! جب ہم اپنے مُردوں کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں اور ان کی طرف سے حج کرتے ہیں اور ا ن کے لیے دعاکرتےہیں تو کیا وہ انہیں پہنچتا ہے؟ تو ارشاد فرمایا ہاں! وہ اس سے اسی طرح خوش ہوتے ہیں جیساکہ تم میں سے کوئی اس وقت خوش ہوتا ہے کہ جب اسے کھانے کا تھال بھیجا جائے۔ (عمدۃ القاری، 3 / 177)
حضرت عبد العزیز بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے اور وہ اپنے دا د اسے روایت کرتےہیں: ”قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم من حج عن والدیہ بعد وفاتھما کتب لہ عتقا من النا ر وکان للمحجوج عنھما اجر حجۃ تامۃ من غیر ان ینقص من اجورھما شیئاً“ یعنی رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اپنے والدین کی طرف سے ان کی وفات کے بعد حج کرے اس کے لیے آگ سے آزادی لکھ دی جاتی ہے اور جن کے لیے حج کیا گیا انہیں ایک مکمل حج کا ثواب ملے گا بغیر اس کے، کہ ان دونوں کے اجر میں سے کچھ کم کیا جائے۔ (شعب الایمان، 6 / 205)
حضرت علی رضی اللہُ تعالیٰ عنہ سےمرفوعاً روایت ہے: ”ما من مومن ولا مومنۃ یقرأ آیۃ الکرسی و یجعل ثوابھا لاھل القبور الا لم یبق علی وجہ الارض قبر الا ادخل اللہ فیہ نوراً فوسع قبرہ من المشرق الی المغرب و کتب للقاریٔ ثواب سبعین شھیدا“ یعنی کوئی بھی مومن یا مومنہ جو آیت الکرسی پڑھے اور اس کا ثواب اہلِ قبور کو ایصال کرے (تو) زمین پر کوئی ایسی قبر نہیں ہوتی مگر اللہ تعالیٰ اس میں نور داخل فرماتا ہے اس کی قبر کو مشرق سے مغرب تک وسیع فرمادیتا ہے اور قار ی کے لیے ستر شہیدوں کا ثواب لکھتا ہے۔ (القراءۃ عندالقبور لابی بکر خلال، ص 35)
بہارِ شریعت میں ہے: ”رہا ثواب پہنچانا کہ جو کچھ عبادت کی اس کا ثواب فلاں کو پہنچے اس میں کسی عبادت کی تخصیص نہیں ہر عبادت کا ثواب دوسرے کو پہنچا سکتا ہے نماز روزہ، زکاۃ، صدقہ، حج، تلاوت قرآن، ذکر، زیارتِ قبور فرض و نفل سب کا ثواب زندہ یا مردہ کو پہنچا سکتا ہے۔“ (بہار شریعت، 1 / 1201)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطّاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2026ء