logo logo
AI Search

کیا چھوٹے بچے ایصال ثواب کرسکتے ہیں؟

نابالغ بچہ ایصالِ ثواب کر سکتا ہے یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر نابالغ بچے نے قرآنِ پاک کی تلاوت کی، تو کیا وہ بھی اس کا ثواب کسی دوسرے کو ایصال کر سکتا ہے؟ کیونکہ بعض اوقات ختم پڑھنے کے لیے بچے گھروں میں جاتے ہیں، تو ان میں نابالغ بچے بھی ہوتے ہیں اور وہ بھی تلاوت کا ثواب دوسروں کو ایصال کر دیتے ہیں، کیا ان کا ایصالِ ثواب کرنا درست؟

سائل: محمد عمر خیام (ٹیکسلا)

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

نابالغ بچے یا بچی نے اگر نماز پڑھی یا قرآنِ پاک کی تلاوت کی یا اس کے علاوہ کوئی بھی نیک کام کیا، تو وہ بھی بالغ افراد کی طرح اس کا ثواب دوسروں کو ایصال کر سکتے ہیں۔

تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ نابالغ پر اگرچہ عبادات واجب نہیں، مگر جب وہ عبادت کرتا ہے، تو اسے عبادت کا ثواب ملتا ہے اور شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ ہر شخص (چاہے بالغ ہو یا نابالغ وہ) اپنی عبادات پر حاصل ہونے والا ثواب دوسروں کو ایصال کر سکتا ہے، لہٰذا نابالغ کا قرآنِ پاک کی تلاوت وغیرہ کا ثواب دوسروں کو ایصال کرنا درست ہے۔

مزید یہ بھی یاد رہے کہ شریعت مطہرہ نے نابالغ کو جن تصرفات سے منع کیا ہے، ان سے مراد ایسے تصرفات ہیں، جن میں نابالغ کا نقصان ہو، جیسے قرض دینا یا نقصان کا احتمال ہو، جیسے خرید و فروخت کرنا، ان کے علاوہ ایسے تصرفات جن میں نقصان یا نقصان کا احتمال نہ ہو، بلکہ محض فائدہ ہی ہو، تو شریعت ان تصرفات سے نابالغ کو منع نہیں کرتی، کیونکہ نابالغ کو اگر ان تصرفات سے بھی روک دیا جائے، تو یہ اس پر شفقت نہیں، بلکہ ایسا کرنا خلافِ شفقت اورنقصان کا باعث ہے۔

اب اس تفصیل کے بعد دیکھا جائے، تو ایصالِ ثواب کرنے میں نابالغ کا کوئی نقصان نہیں اور نہ ہی نقصان کا کوئی احتمال ہے، بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے، کیونکہ ایصالِ ثواب کرنے سے ثواب کم نہیں ہوتا، بلکہ بڑھتا ہے، لہذا اس اعتبار سے بھی نابالغ اپنی نیکیوں کا ثواب دوسروں کو ایصال کر سکتا ہے۔

نابالغ کی عبادات درست ہیں اور اسے ان کا ثواب بھی ملتا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم اور سننِ نسائی وغیرہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں

و اللفظ لمسلم: لقي ركبا بالروحاء، فقال: من القوم؟ قالوا: المسلمون، فقالوا: من انت؟ قال: رسول اللہ، فرفعت اليه امراة صبيا، فقالت: الهذا حج؟ قال: نعم! و لك اجر

ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم روحاء کے مقام پر کسی قافلہ سے ملے، تو ارشاد فرمایا: تم کس قوم سے تعلق رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، پھر انہوں نے عرض کی کہ آپ کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: اللہ کا رسول ہوں۔

پس ایک عورت بچے کو اٹھائے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی: کیا اس بچے کا بھی حج ہو سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: جی ہاں! اور تجھے بھی ثواب ملے گا۔ (الصحیح لمسلم، کتاب الحج، باب صحۃ حج الصبی و اجر من حج بہ، ج 1، ص 431، مطبوعہ کراچی)

اس حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے:

ان المراد ان ذلك بسبب حملها له و تجنيبها اياه ما يجتنبہ المحرم و استدل به بعضهم على ان الصبي يثاب على طاعته و يكتب له حسناته و هو قول اكثر اهل العلم

ترجمہ: اس سے مراد یہ ہے کہ بیشک عورت کو بچہ اٹھانے اور مُحرِم کو جن چیزوں سے بچنے کا حکم ہے، ان سے بچے کو بچانے کی وجہ سے ثواب دیا جائے گا۔ بعض علماء نے اس حدیث کی بناء پر یہ استدلال کیا ہے کہ بچے کو  طاعت (نیک کام) پر ثواب ملتا ہے اور اس کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں، یہی اکثر اہلِ علم کا قول ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 7، ص 553، مطبوعہ ملتان)

الاشباہ و النظائر میں ہے:

و تصح عباداته و ان لم تجب عليه و اختلفوا في ثوابها و المعتمد انه له و للمعلم ثواب التعليم و كذا جميع حسناته

ترجمہ: بچے پر اگرچہ عبادات واجب نہیں، لیکن (اگر وہ عبادات کرتا ہے، تو) اس کی عبادات درست ہیں اور اسے عبادات کا ثواب ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں اختلاف ہے اور معتمد قول یہ ہے کہ اسے ثواب ملتا ہے اور معلم کو بھی تعلیم کا ثواب ملے گا، یہی حکم بچے کی تمام نیکیوں کا ہے۔ (الاشباہ و النظائر، ص 264، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اپنی عبادات کاثواب دوسروں کو پہنچانے کے متعلق البنایہ شرح ہدایہ میں ہے:

(الاصل فی ھذا الباب ان الانسان له ان يجعل ثواب عمله لغيره)۔۔ يعني سواء كان جعل ثواب عمله لغيره (صلاة او صوما او صدقة او غيرها) كالحج و قراءة القران و الاذكار و زيارة قبور الانبياء و الشهداء و الاولياء و الصالحين و تكفين الموتى و جميع انواع البر

ترجمہ: اس باب میں قاعدہ یہ ہے کہ انسان کے لیے اپنے عمل کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچانا، جائز ہے، اب برابر ہے کہ انسان جس عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچا رہا ہے، وہ نماز ہو، روزہ ہو، صدقہ ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور عمل ہو، جیسے حج، قراءتِ قرآن، ذکر و اذکار اور انبیاء، شہداء، اولیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت، مردوں کی تکفین اور ہر قسم کی نیکیاں (ان کا ثواب دوسروں کو ایصال کر سکتا ہے)۔ (البنایہ شرح ھدایہ، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، ج 4، ص 422، مطبوعہ کوئٹہ)

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

اقول و با ﷲ التوفیق صبی عاقل ازہر گونہ تبرع محجور نیست، منشائے حجر ہمیں ضررست و لو فی الحال کما فی القرض و لو بالا حتمال کما فی البیع آنجا کہ ہیچ ضرر نیست در حجر نظر نیست بلکہ خلاف نظر و عین اضرار ست کہ بمشابہ الحاق او بجماد و احجار ست

ترجمہ: میں کہتا ہوں اور اللہ تعالی ہی کی توفیق سے کہتا ہوں: عاقل بچہ ہر طرح کے تصرف سے محجور نہیں، حجر کا منشا یہی ضرر ہے، اگرچہ فی الحال نقصان ہو، جیسے قرض دینے میں یااس کا احتمال ہو، جیسے بیع میں اورجہاں کوئی ضرر نہیں، وہاں حجر میں نظر اور بچہ کی رعایت نہیں، بلکہ یہ خلاف نظر اور بعینہ ضرر رسانی ہے، کہ گویا اسے جماد اور پتھر سے لاحق کردینا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 9، ص 632، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ مزید ارشاد فرماتے ہیں:

بالجملہ اہدائے ثواب ہمچو روشن کردن چراغ از چراغ ست کہ ازیں چراغ چیزے نہ کاہد وہ چراغ دیگر روشنائی یابدوشک نیست کہ صبی ازہمچو تبرّع زنہار محجور نیست بلکہ چراغ افروختن نیز نظیر او نتوان شد کہ آنجار اگر از چراغ چیزے کم نشود فزوں ہم نشود واینجا ثواب واہب یکے دہ می شود ﴿وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ وٰسِعٌ عَلِیْمٌ ﴾

ترجمہ: مختصر یہ کہ ثواب ہدیہ کرنا ایسا ہے، جیسے چراغ سے چراغ جلانا کہ اس چراغ سے کچھ کم نہیں ہوتا اور دوسرے چراغ کو روشنی مل جاتی ہے اور بلاشبہ بچہ اس طرح کے تبرع سے ہرگز محجور نہیں، بلکہ چراغ جلانا بھی اس کی نظیر نہیں ہوسکتی کہ وہاں اگر چراغ سے کچھ کم نہیں ہوتا، تو کچھ زائد بھی نہیں ہوتا اور یہاں ہبہ کرنے والے کا ثواب ایک کا دس ہوجاتا ہے ’’اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 9، ص 638 تا 639، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مزید ارشاد فرماتے ہیں:

مثل فرض کن اگر در محسوس نیز صورتے ہمچناں یافتہ شدے کہ صبی درہمی دہد وآن درہم ہم  بموہوب لہ رسد و ہم بدست صبی برقرار ماند و یکے دہ گرد د آیا معقول بود کہ شرع مطہر صبی را از ہمچو تصرف باز داشتے حاش ﷲ حجر برائے نظر و وضع ضرراست نہ بہر دفع نفع و الحاق بحجراین ست دریں مسئلہ طریق نظر

ترجمہ: بطورِمثل فرض کیجئے کہ اگر عالم محسوس میں بھی کوئی ایسی صور ت ہوتی کہ بچہ ایک درہم دے وہ درہم موہوب لہ کے پاس بھی پہنچے اور بچے کے ہاتھ میں بھی برقرار رہے اور ایک کا دس ہوجائے، تو کیا یہ متصور تھا کہ شرع مطہر بچے کو ایسے تصرف سے روک دیتی؟ حاشا ﷲ! حجر ضرر دورکرنے پر نظر کے لیے ہے،نفع دورکرنے اور حجر (پتھر) سے لاحق کرنے کے لیے نہیں ہے۔ یہ اس مسئلہ میں طریق نظر ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 9، ص 639، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: Pin-6200

تاریخ اجراء: 23 شوال المکرم 1440ھ / 27 جون 2019ء