logo logo
AI Search

بچوں کے اعمال کی خبر فوت شدہ والدین تک پہچتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا اولاد کے اعمال کی خبر فوت شدہ والدین تک پہنچتی ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کسی شخص کے فوت شدہ والدین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے کیا اچھا اور برا عمل کر رہے ہیں؟

جواب

جی ہاں آدمی کے سب اعمال کی خبر اس کےفوت شدہ والدین کو پہنچتی ہے، وہ اپنی اولاد کے نیک اعمال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور برے اعمال سے رنجیدہ ہوتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ آدمی کے اعمال اس کے ماں باپ پر بھی پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ الجامع الصغیر میں ہے:

تعرض الأعمال یوم الأثنین و الخمیس علی اللہ و تعرض علی الأنبیاء و علی الآباء و الأمهات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتهم و تزداد وجوههم بیاضاً و إشراقاً فاتقوا اللہ و لاتؤذوا موتاکم

ترجمہ: پیر اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام اور آباء و امہات پر جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ انبیائے کرام امت کے نیک اعمال اور والدین اپنی اولاد کے نیک اعمال سے خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہرےروشن اور سفید ہوجاتے ہیں، لہٰذا اللہ عز و جل سے ڈرو اور اپنے فوت شدگان کوتکلیف مت دو۔ (الجامع الصغیر فی احادیث البشیر و النذیر، جلد 1، صفحہ 199، رقم الحدیث: 3316، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں والدین کی وفات کے بعد اولاد پر آنے والے والدین کے حقوق بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: سب میں سخت تر و عام تر و مدام تر یہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کر کے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا، اس کے سب اعمال کی خبر ماں باپ کو پہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں، تو خوش ہوتے ہیں اور ان کا چہرہ فرحت سے چمکتا اور دمکتا ہے، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پر صدمہ ہوتا ہے، ماں باپ کا یہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fam-373
تاریخ اجراء: 29 شوال المکرم 1445ھ / 08 مئی 2024ء